بھارت سے فنڈ لینے کا الزام ثابت ہونے پر ایم کیو ایم پر پابندی لگا ئی جائے

بھارت سے فنڈ لینے کا الزام ثابت ہونے پر ایم کیو ایم پر پابندی لگا ئی جائے

 لاہور(جاوید اقبال/لیاقت کھرل) مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں ، نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے بی بی سی کی ڈاکومنٹری کو سنجیدگی سے لیا جائے۔اس سے ملک میں انتشار پھیلانے سے گریز کیا جائے،شفاف انداز میں تحقیقات کر کے اگر ایم کیو ایم پر بھارت سے ’’مدد‘‘ لینے اورپاکستان میں ’’را‘‘اس کے ذریعے حالات خراب کرانے کے الزامات ثابت ہو جائیں تو ایم کیو ایم پر ’’بین‘‘ کر دیا جائے۔ اور بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے،اور بھارت سے اس کی زبان میں بات کی جائے۔ایم کیو ایم اور بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے خطرناک ہے۔اس امر کا اظہار انہوں نے پاکستان سے اپنے ردعمل پر کیا۔ماہرین اور راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں جن مذہبی اور سیاسی جماعتوں میں ان کے عسکری ونگ میں ان کو ختم کر دیا جائے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ بی بی سی کی ڈاکومینٹری کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی تحقیقات ہونگی اور حکومت نے اس کے لئے حکومت برطانیہ سے مدد طلب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کے لئے خطرناک ہے۔ تحقیقات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایم کیو ایم پر ہی کیوں بھارت سے رابطوں اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس پر سیاست نہیں ہو گی۔ حقیقت سامنے لائیں گے ۔ اگر بی بی سی کی رپورٹ سامنے آئی تو قانون حرکت میں آئے گی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما حیدر حباس رضوی نے کہا ہے کہ میں قوم سے سوال کرتا ہوں کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیوں شروع ہو جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم ایک قومی جماعت ہے اس جماعت کی محب وطنی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ ملک و قوم ’’سیاست اور الزامات‘‘ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شفاف تحقیقات کا سامنا کریں گے۔ بی بی سی کی رپورٹ من گھڑت ہے۔ اسے مسترد کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر جماعت محب وطن ہے۔ اب الزامات کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔ بی بی سی ڈاکو مینٹری کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ پھر کوئی ایکشن ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم شروع سے کہتے آئے ہیں کہ ایم کیو ایم کراچی کے حالات خراب کرنے میں ملوث ہے اور بھارت کی ایجنسی ’’را‘‘ سے بھی مدد لیتی ہے۔ اب بی بی سی کی رپورٹ نے اس پر مہر لگا دی ہے۔بھارت ایم کیو ایم کے ذریعے کراچی سمیت پورے ملک میں حالات خراب کر رہی ہے۔ اس کے سربراہ الطاف حسین سمیت پوری قیادت پر غداری ملک دشمنی کا مقدمہ درج کیا جائے اور اس جماعت کی سیاست پر پابندی عائد کی جائے۔سابق سیکرٹری خارجہ اکرم ذکی نے کہا ہے کہ بی بی سی کی ڈاکو مینٹری انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ برانوی حکومت سے مدد لے کر معاملے کی انتہائی ذمہ دارانہ طریقے سے تحقیقات کی جائیں۔ بھارت پاکستان کے حالات خراب کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ بھارت کو اس کی زبان میں جواب دینا ضروری ہے اور بھارت کی حرکات کو اقوام عالم کے سامنے لانا ضروری ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہاکہ رپورٹ عمران فاروق قتل کیس سے زیادہ حساس ہے۔ رپورٹ کو جھٹلایا نہ جائے۔ حکومت خط ، خط نہ کھیلے بلکہ حقائق کی روشنی میں سخت ایکشن لے۔ سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے ۔ بھارت شرارتیں نہ کرے ۔ رپورٹ کے حقائق جاننے کے لئے حکومت اخری حد تک جائے۔ اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایم کیو ایم سے حساب لیا جائے۔ ایم کیو ایم بھارت سے فنڈز لیتی ہے تو حکومت اس کی سیاسی سرگرمیوں کا ملک کے اندر بین کرے۔جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ ملک کے خلاف بات کرنے والے بھارت سے فنڈز لینے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ بی بی سی کے حقائق سنگین میں کارروائی ہونی چاہئیں۔بی بی سی کے رہنما میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ گیند حکومت کے کورٹ میں ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ ملک کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ایم کیو ایم کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے؟

مزید : علاقائی