لیاقت آباد ،میاں بیوی اور3بچوں کی پر اسرار ہلاکت کا معمہ حل نہ ہو سکا ،پولیس مختلف پہلوؤں پر مصروف تفتیش

لیاقت آباد ،میاں بیوی اور3بچوں کی پر اسرار ہلاکت کا معمہ حل نہ ہو سکا ،پولیس ...

 لاہور(کرا ئم سیل ) لیاقت آباد میں میاں بیوی اور 3بچوں کی پرُسرار ہلاکت کا معمہ ابھی تک حل نہ ہوسکا ،بشارت نے کن وجوہات کی بناء پر معصوم بچوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کی تاحال پولیس اور خفیہ ادارے مختلف پہلوؤں پر مصروف تفتیش ہیں لیکن گھر سے کچھ اہم شواہد بھی ملے ہیں جسکی روشنی میں پولیس کو مزید تفتیش کیلئے مدد مل سکتی ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے رپٹ درج کی ہے ۔ مبینہ طور پر بیوی بچوں کو قتل کر کے خودکشی کرنے والے بشارت کے بھائی اوربھتیجے اور مقتولہ فائزہ کے باپ نے متفقہ طورپر پولیس کو تحریری بیان دیا کہ بشارت نے اہل خانہ کو قتل کر کے خودکشی کی، ہم کاروائی نہیں کروانا چاہتے۔ پولیس نے رپٹ نمبر24 لکھ کر174کی کارروائی کر کے پوسٹمارٹم کے بعدلاشیں ورثا کے حوالے کر دیں۔نعشیں گھر پہنچنے پر کہرا م بر پا ہو گیا ،اس موقع پر ہر انکھ اشک با ر تھی بعدازاں مقتو لین کو مقامی قبر ستا ن میں سپرد خا ک کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق رپٹ نمبر24میں سب انسپکٹر نذیرکی طرف سے لکھا گیا ہے کہ 15 کی کال پروہ جائے وقوعہ پرپہنچا تومقتول بشارت کے بھائی لیاقت اوربھتیجے ایڈووکیٹ شہزاد سے ملاقات ہوئی ،15کی کال بھی شہزاد نے چلائی تھی جس کا ریکارڈ درج ہے، ان کی موجودگی میں پولیس نے دروازہ کو ہتھوڑے سے توڑا گیا تومیاں بیوی اور3 بچے خون میں لت پت پڑے تھے۔ رپٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ بشارت نے اپنے بچوں اوربیوی کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے جو لواحقین کے علم میں ہے لیکن وہ کوئی مزید بیان نہیں دینا چاہتے اور نہ ہی کوئی قانونی کاروائی کروانا چاہتے ہیں۔اس سلسلہ میں ایس پی سی آئی اے عمر ورک نے بتایا کہ ابھی تک حتمی رائے نہیں دی جاسکتی ہے کہ بشارت نے بیوی اور بچوں کو قتل کرکے بعد خود کشی کی ہے ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعدپہلے بیوی کے سر پر گولی ماری گئی بعد میں بچوں کو گولی مار کر قتل کیا گیا اور آخر میں ملک بشارت ہلاک ہوا پستول بھی غیر قانونی تھا ابھی اسکا کوئی ریکارڈ نہیں مل سکا دو گولیاں مس ہوئیں جبکہ پانچ گولیاں ہی چلیں بشارت کا سابقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا جارہا ہے۔

مزید : علاقائی