یہ کمال لوگ ہیں(2)

یہ کمال لوگ ہیں(2)
یہ کمال لوگ ہیں(2)

  

2011

ء میں چوہدری شجاعت حسین کے بھائی چوہدری وجاہت حسین مین پاور‘ اوورسیز پاکستانیز اور ہیومین ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے وزیر بن گئے‘ ای او بی آئی چوہدری وجاہت کا ماتحت ادارہ تھا‘ نذر محمد گوندل بھی وفاقی وزیر تھے‘ یہ دونوں وزیر ہمارے ساتھ تھے چنانچہ ہم نے اندھا دھند کارروائیاں شروع کر دیں‘ ہم نے پہلی پراپرٹی 16 ستمبر 2011ء کو لاہور میں خریدی‘ یہ فقیر پلازہ تھا‘ یہ جائیداد ہم نے کمپنی کے ڈائریکٹر نواز احمد سے 25 کروڑ روپے میں خریدی ‘ نواز احمد نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ٹھیکیدار تھا‘ یہ 2004ء میں ظفر گوندل کا دوست بنا‘ ظفر گوندل اس وقت نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ممبرتھا‘ ظفرگوندل جوانی میں فوج میں بھرتی ہوا تھا‘ یہ بعد ازاں فوج سے سول سروس میں آ گیا۔نواز احمد کا ایک بھائی کاکول اکیڈمی میں گوندل کا کورس میٹ تھا‘ یہ کورس میٹ نواز احمد اور گوندل کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنااور یہ دونوں این ایچ اے میں مل کر کام کرنے لگے‘ میں یعنی کنور خورشید ظفر گوندل کے ساتھ لاہور گیا‘ ہم ڈنر پر نواز احمد سے ملے‘ گوندل نے نواز احمد سے شکوہ کیا تم نے سڑک کے آخری ٹھیکے میں مجھے میرا حصہ نہیں دیا تھا‘ دونوں کے درمیان تکرار ہوئی اور آخر میں فیصلہ ہوا ای او بی آئی لاہور میں پانچ کروڑ کی پراپرٹی 25 کروڑ میں خریدے گی اور ظفر گوندل اس ڈیل سے اپنا پرانا حساب برابر کر لے گا یوں میں نے ظفر گوندل کے حکم پر یہ پراپرٹی خرید لی‘ دوسری پراپرٹی 36۔سی مین لوئر مال لاہور تھی‘ یہ پراپرٹی 8 کروڑ 40 لاکھ روپے میں خریدی گئی تھی‘ یہ پراپرٹی خرم خلیق کی ملکیت تھی‘ خرم خلیق ایف سی کالج میں ظفر گوندل کا کلاس فیلو تھا۔

یہ امریکا میں رہتا تھا‘ یہ دوبار لاہور آیا‘ پرائیویٹ پارٹیوں میں ہم دونوں سے ملا‘ ڈیل ہوئی اور ہم نے اس سے آٹھ کروڑ 40 لاکھ روپے میں جائیداد خرید لی‘ یہ پراپرٹی بھی مارکیٹ سے چار گنا مہنگی خریدی گئی تھی‘ ہم نے تیسری پراپرٹی لاہور میں عامر شفیع اکرم سے خریدی ‘ یہ پراپرٹی رنگ روڈ لاہور پر ڈی ایچ اے انٹر چینج پر واقع تھی‘ یہ جائیداد ایک ارب 43 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدی گئی تھی‘ عامر شفیع اکرم لاہور کا نامور بزنس مین اور رئیل سٹیٹ ڈویلپر ہے‘ یہ عامر مغل کے نام سے مشہور ہے‘ عامر مغل ’’مغل پاکستان‘‘ نامی کمپنی کا مالک بھی ہے ‘ یہ بھی این ایچ اے کے دور میں ظفر گوندل کا دوست بنا تھا‘ یہ دونوں اس دور میں مل کر کام کرتے رہے تھے‘ ہم نے پہلے عامر مغل سے ڈیڑھ ارب روپے میں یہ جائیداد خریدی اور پھر ہم نے عامر مغل ہی کی کمپنی کو اس جائیداد کی تعمیر کے لیے چار ارب 44 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دے دیا‘ ساڑھے چار ارب روپے کی اس عمارت کی ڈیزائننگ کا ٹھیکہ ظفر گوندل کے دوست نواز احمد کی کمپنی’’ کنگ کریٹ پراجیکٹ مینجمنٹ‘‘ کو چھ کروڑ روپے میں دے دیا گیا یوں یہ پراجیکٹ ای او بی آئی کو پونے سات ارب روپے میں پڑا اور ہم نے اس میں ٹھیک ٹھاک کک بیکس حاصل کیں۔ کنور خورشید نے انکشاف کیا ہم نے 18 جنوری 2012ء کو ڈی ایچ اے راولپنڈی سے 15 ارب 74 کروڑ 37 لاکھ روپے میں جائیداد خریدی‘ یہ ڈیل چوہدری وجاہت حسین اور ظفر گوندل نے کی تھی‘ کنور خورشید کے بقول جنرل اشفاق پرویز کیانی اس وقت آرمی چیف تھے‘ چوہدری وجاہت حسین کو کوارٹر جنرل ماسٹر کے دفتر بلایا گیا ‘ ظفر گوندل کو بھی بعد ازاں وہاں بلالیا گیا‘ یہ دونوں وہاں آتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ یہ ڈیل فائنل ہو گئی اور ہم نے ای او بی آئی کے فنڈ سے جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی کی کمپنیوں کو پونے 16 ارب روپے کی ادائیگیاں کر دیں‘ بریگیڈیئر سعد اللہ فاطمی اس وقت ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر تھے‘ یہاں یہ بات ذہن میں رہے نیب نے کنور واحد خورشید کے اس انکشاف کے بعد کامران کیانی کے خلاف تفتیش شروع کر دی تھی‘ تحقیقات کے دوران کامران کیانی کے خلاف مزید حقائق بھی سامنے آئے‘ جنرل راحیل شریف بھی کیانی برادرز کا احتساب چاہتے تھے چنانچہ فوج نیب کے ساتھ تعاون کرتی رہی مگر اس دوران کامران کیانی ملک سے فرار ہو گئے۔

یہ اس وقت بھی ملک سے باہر ہیں اور نیب کوشش کے باوجود انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی جب کہ جنرل کیانی کا دعویٰ ہے ’’میرا میرے بھائیوں کے کاروبار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا‘‘ لیکن کنور خورشید کے انکشافات میں یہ تعلق نظر آتا ہے ورنہ چوہدری وجاہت اور ظفر گوندل کو جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے دفتر کیوں بلایا جاتا اور یہ ڈیل وہاں کیوں فائنل ہوتی‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے دفتر کی انکوائری بھی ہوئی تھی اور متعلقہ افسروں کے بیانات بھی ریکارڈ ہوئے تھے تاہم آپ اس ڈیل سے ظفر گوندل کی رسائی اور اس رسائی کے پیچھے چھپی داستانوں کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں‘کنور خورشید نے انکشاف کیا ہم نے 13 جنوری 2012ء کو سکھر میں 12 کروڑ 90 لاکھ میں ایک پلاٹ خریدا‘ یہ پلاٹ یعقوب امین کی ملکیت تھا‘ یہ ڈیل ای او بی آئی کی انویسٹمنٹ کمیٹی کے کنوینئر محمد اقبال داؤد نے کرائی تھی‘ اقبال داؤد کمیٹی کے پرائیویٹ ممبر تھے‘ یہ سکھر سے تعلق رکھتے تھے اور یہ بعد ازاں 2013ء میں سندھ کی نگران حکومت میں خوراک کے صوبائی وزیر بنے‘ اقبال داؤد نے اس ڈیل میں ایک کروڑ روپے رشوت وصول کی‘ اقبال داؤد کی کرپشن کی یہ کہانی بعد ازاں خورشید شاہ کے نوٹس میں آئی اور شاہ صاحب نے ظفر گوندل کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ کنور واحد خورشید نے انکشاف کیا ’’ ہمیں محسوس ہو رہا تھا 2013ء کے الیکشنوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت آ جائے گی چنانچہ ہم نے پیش بندی کے طور پر ن لیگ کے لوگوں کو بھی نوازنا شروع کر دیا‘ ہم نے منصب ڈوگر سے اس کا آغاز کیا‘ ہم نے 22 مئی 2012ء کو منصب ڈوگر کے ذریعے اسلام آباد کے ایف سیکٹر میں عبدالقیوم نامی ایک شخص سے ایک ارب 20 لاکھ روپے میں کراؤن پلازہ خریدا اس ڈیل میں ظفر گوندل اور منصب ڈوگر دونوں نے براہ راست رقم کمائی۔

منصب ڈوگر 2013ء میں این اے 164سے مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے منتخب ہوئے‘‘ کنور خورشید نے دعویٰ کیا ’’راجہ پرویز اشرف نے 22 جون 2012ء کو وزیراعظم کا حلف اٹھا یا‘ نئی کابینہ بنی توہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی وزارت بدستور چودھری وجاہت کے پاس رہی اور ای او بی آئی چودھری وجاہت کا ماتحت ادارہ تھا، نئی کابینہ میں نذر محمد گوندل کو کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (کیڈ) کا پورٹ فولیو مل گیا۔ یوں ہمارا کام مزید آسان ہو گیا‘ اب ہمارا وزیر چودھری وجاہت تھا‘ اسلام آباد اور سی ڈی اے نذر محمد گوندل کے پاس تھا‘ ای او بی آئی کا چیئرمین ظفر گوندل تھا اور ادارے کا ڈائریکٹر جنرل انویسٹمنٹ میں تھا‘ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی ہم پر مہربان تھے چنانچہ ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی‘‘۔کنور خورشید نے انکشاف کیا ’’ ہمیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے خطرہ تھا‘ ہماری کہانیاں تھوڑی تھوڑی سامنے آنے لگی تھیں، ہمیں محسوس ہوا چیف جسٹس ہمارے خلاف سوموٹو لے لے گا چنانچہ ہم نے مستقبل کے خطرات سے بچنے کے لئے ڈاکٹر امجد کو زیر بار لانے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر امجد لاہور کی ایک بڑی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک ہیں، یہ افتخار محمد چودھری کے سمدھی بن رہے تھے‘ چیف جسٹس کی صاحبزادی کی شادی ڈاکٹر امجد کے بیٹے سے طے ہو رہی تھی‘ ڈاکٹر امجد چودھری برادران کے قریبی دوست بھی تھے‘ ڈاکٹر امجد کی بیگم انجم امجد پرویز الٰہی کے دور میں پنجاب کی ایم پی اے رہی تھی‘ ہم نے چودھر ی برادران کی ہدایت پر ڈاکٹر امجد سے ایک ارب روپے میں پلاٹ خرید لیا، یہ پلاٹ ایڈن گارڈن ہاؤسنگ سکیم میں تھا‘ ہم نے اس دوران وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے عزیزوں سے بھی جائیدادیں خریدنا شروع کر دیں۔ ہم نے سب سے پہلے 18 دسمبر 2012ء کو کلر کہار میں 3 کروڑ 20 لاکھ روپے میں پراپرٹی خریدی، یہ جائیداد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی ہدایت پر خریدی گئی، یہ جائیداد مقصود الحق کی ملکیت تھی، وہ وزیراعظم کے داماد راجہ عظیم کے بڑے بھائی تھے‘ ہم نے راجہ مقصود الحق سے چکوال تلہ گنگ روڈ پر بھی ایک پراپرٹی خریدی، یہ جائیداد چھ کروڑ 45 لاکھ روپے میں خریدی گئی، ہمیں یہ ہدایت بھی وزیراعظم سے ملی تھی یوں وزیراعظم کے داماد کو مجموعی طور پر 9 کروڑ روپے ادا کئے گئے‘‘۔

کنور خورشید نے انکشاف کیا ’’پاکستان تحریک انصاف اس دوران ایک بڑی سیاسی طاقت بن چکی تھی‘ نذر محمد گوندل کا خیال تھا یہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 2013ء کا الیکشن ہار جائیں گے لہٰذا یہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی کرنے لگے‘ علیم خان اور عامر مغل اس میں گوندل برادرز کی مدد کر سکتے تھے چنانچہ انہوں نے علیم خان اور عامر مغل کے گرد جالہ بننا شروع کر دیا، ہم نے 16 جولائی 2012ء کو علیم خان سے ایک ارب 30 کروڑ روپے میں پلاٹ خریدا، یہ پلاٹ ریور ایج ہاؤسنگ اسکیم لاہور میں تھا اور یہ علیم خان کی کمپنی وڑن ڈویلپر لاہور کی ملکیت تھا‘ نذر محمد گوندل اس ڈیل کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف سے صوبائی اور وفاقی اسمبلی کے سات آٹھ ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے تھے‘ ہم نے پلاٹ خرید لیا‘ ڈیل کے ایک سرکاری نقطے کی وجہ سے علیم خان کو 30 کروڑ روپے کا فائدہ ہونا تھا لیکن وہ نقطہ غلطی سے خارج ہو گیا‘ علیم خان ناراض ہو گئے۔ گوندل برادرز نے انھیں راضی کرنے کے لیے 9 فروری 2013ء کو ریور ایج ہاؤسنگ اسکیم کا ایک دوسرا پلاٹ بھی خرید لیا، یہ پلاٹ بھی ایک ارب 30 کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا یوں علیم خان کو مجموی طور پر 2ارب 60 کروڑ روپے ادا کیے گئے‘یہ دونوں پلاٹ دریا برد تھے‘ عامر مغل ہمارا اگلا ٹارگٹ تھا‘ گوندل برادرز کا خیال تھا یہ عمران خان اور علیم دونوں کے قریب ہے اور یہ مستقبل میں ہماری مدد کرے گا چنانچہ ہم نے 30 جنوری 2013ء کو عامر مغل سے مزید دو پراپرٹیز خرید لیں‘ پہلی پراپرٹی مال روڈ لاہور پر تھی۔

ہم نے یہ پراپرٹی 79 کروڑ میں خریدی‘ دوسری پراپرٹی گلبرگ لاہور کا ایک پرانا گھر تھا‘ یہ گھر 33 کروڑ روپے میں خریدا گیا‘ یوں عامر مغل کو مجموعی طور پر 7 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا (نوٹ: گوندل برادرز نے عامر مغل سے اس سے قبل ایک ارب 47 کروڑ روپے کا پلاٹ بھی خریدا تھا اور اس پلاٹ پر چار ارب چالیس کروڑ مالیت کی عمارت بنانے کا ٹھیکہ بھی دیا تھا) کنور خورشید کے بقول ہماری کہانیاں اس دوران ایف آئی اے اور سپریم کورٹ تک پہنچ گئیں۔ ہم گرفتاری کے قریب تھے چنانچہ ہم نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نرم کرنے کے لئے ڈاکٹر امجد کو مزید ’’اوبلائج‘‘ کرنا شروع کر دیا‘ ہم نے 7 فروری 2013ء کو ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی فیصل آباد کا ایک پلاٹ بھی 90 کروڑ روپے میں خرید لیا‘ یہ پلاٹ ضیاء4 الطاف کی ملکیت تھا ‘ یہ ڈاکٹر امجد کا فرنٹ مین تھا یوں ہم نے ڈاکٹر امجد سے مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ روپے کی پراپرٹیز خریدیں‘ ہم نے اس دوران فقیر پلازہ کے مالک نواز احمد کو پارکنگ لاٹ کے لئے بھی 3 کروڑ 60 لاکھ روپے دیے‘ ہم نے 20 فروری 2013ء کو پاک عرب ہاؤسنگ اسکیم کا ایک پلاٹ بھی ایک ارب 15 کروڑ روپے میں خریدا‘ یہ پلاٹ اسکیم کے ڈائریکٹر عمار احمد خان کی ملکیت تھا۔

عمار احمد خان پیپلز پارٹی کے مشہور خاندان گلزار فیملی کا حصہ تھا‘‘۔کنور واحد خورشید نے دعویٰ کیا ’’ 16 مارچ 2013ء کو حکومت کی مدت ختم ہو رہی تھی‘ مارچ کے شروع میں چودھری وجاہت اور ظفر گوندل کو ایک بار پھر جی ایچ کیو بلایا گیا‘ یہ دونوں کوارٹر ماسٹر جنرل کے دفتر گئے اور ہم نے حکومت کے خاتمے سے ایک دن قبل 15 مارچ 2013ء کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی سے 6 ارب 82 کروڑ 50 لاکھ روپے میں مزید جائیداد خرید لی‘ یہ پراپرٹی بھی ڈی ایچ اے اسلام آباد میں تھی‘ ہم نے رقم کامران کیانی کو ٹرانسفر کی اور اگلے دن حکومت ختم ہو گئی‘‘۔ کنور واحد خورشید نے انکشاف کیا ’’ ہم نے ان اٹھارہ ڈیلز میں 71 کروڑ روپے رشوت اور کمیشن وصول کی‘ میرا حصہ 16 کروڑ روپے بنا‘ باقی رقم گوندل برادرز اور ان کے ساتھیوں نے آپس میں بانٹ لی‘ یہ رقم بعد ازاں ہنڈی کے ذریعے برطانیہ گئی اور ہم نے اس سے وہاں پراپرٹی خریدی‘‘۔

کنور واحد خورشید کے ان انکشافات کے بعد ایف آئی اے نے ظفر گوندل کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے‘ ظفر گوندل کی رہائش گاہوں پر چھاپے شروع ہو گئے لیکن یہ غائب ہو گئے جب کہ نذرمحمد گوندل نے تسبیح پکڑ لی اور یہ منڈی بہاؤ الدین اور اسلام آباد میں ورد کرتے دکھائی دینے لگے‘ ایف آئی اے نے جائیدادیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دیں‘ ظفر گوندل 23 ستمبر 2014ء کوسپریم کورٹ کے احاطے سے گرفتار ہو گئے‘ نذر محمد گوندل اور ان کے بھانجے ندیم افضل چن مدد کے لئے خواجہ سعد رفیق کے پاس گئے‘عامر مغل نے گوندل برادرز کو ندیم ضیاء اور شاہد شیخ کے ذریعے خواجہ سعد رفیق سے مدد ملنے کی یقین دہانی کرا رکھی تھی‘ ندیم ضیاء ، خواجہ سعد رفیق کے قریبی دوست اور بزنس پارٹنرہیں۔ یہ لاہور کی معروف ہاؤسنگ اسکیم ’’پیرا گان‘‘ کے سی ای او ہیں جب کہ شاہد شیخ مسلم لیگ (ن) کے پرانے ورکر اور یوسف رضا گیلانی کے قریبی دوست ہیں‘ گوندل برادرز کا خیال تھا شاہد شیخ اور ندیم ضیاء ان کی مدد کریں گے اور خواجہ سعد رفیق ظفر گوندل کی جان چھڑا دیں گے لیکن سعد رفیق نے صاف انکار کر دیا‘ یہ اس کے بعد چودھری نثار سے ملے‘ کیانی برادران بھی اس وقت تک تگڑے تھے جب کہ فضا میں افتخار محمد چودھری کے اثرات بھی باقی تھے چنانچہ ظفر گوندل کی ضمانت ہو گئی اور ایف آئی اے اور نیب بے بس ہو کر رہ گئے۔

ظفر گوندل اس وقت مزے سے گھر میں بیٹھے ہیں‘ نذر محمد گوندل تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں جب کہ ندیم افضل چن اپنے بھائی سمیت عنقریب پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں گے اور یوں کامیابی کا نیا سفر شروع ہو جائے گا اورہماری کمزور حافظے کی مالک قوم بہت جلد یہ پرانی باتیں بھول جائے گی۔ میں آخر میں گوندل برادرز کی فنکاری کی داد دینا چاہتا ہوں‘ یہ کمال لوگ ہیں‘ ان لوگوں نے تین برسوں میں پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان تحریک انصاف‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری‘ کیانی برادرز اور ملک کے تمام بڑے سیاسی فنانسرز کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا لہٰذا ملک کو44 ارب روپے کا ٹیکہ لگانے کے باوجود آج تک کوئی مائی کا لال ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکا‘ یہ جہاں جاتے ہیں وہاں ان کے سپورٹر موجود ہوتے ہیں‘ وہاں ان کے گلے میں پرچم ڈال دیے جاتے ہیں‘ یہ آج بھی معزز ہیں‘ یہ کل بھی معزز ہوں گے جب کہ ان کے خلاف تحقیقات کرنے والے کل بھی بے عزت اور غدار تھے اور یہ آج بھی غدار اور بے عزت ہیں ‘ واہ سبحان اللہ۔

نوٹ: کالم کے تمام حقائق ایف آئی اے کی رپورٹ سے لئے گئے ہیں‘ یہ رپورٹ کنور واحد خورشید کے اعترافی بیان پر مشتمل ہے‘یہ رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریکارڈ کا حصہ بھی ہے۔ (بشکریہ:’’ایکسپریس‘‘)

مزید :

کالم -