کوالٹی اور تعلیم

کوالٹی اور تعلیم
کوالٹی اور تعلیم

  

بقول شخصے مستقبل میں صرف وہ ادارے کا م کر سکیں گے جو کوالٹی، یعنی معیار کا مکمل نظام لاگو کریں گے اور آج یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔معیا ر کا مطلب اپنی مصنوعات اور سروسز کو ایسا بنانا ہے کہ ان کا عملی طور پر استعمال ہو سکے۔اس کی سادہ مثال یہ ہے کہ اگر ایک ڈیزائن صرف صفحے کے اوپر بنایا جائے تو یہ ایک اچھا آرٹ ہو گااور اگر کوئی اس کو عملی قالب میں ڈھال دے اور عوام الناس اس سے فائدہ اٹھانے لگیں تو یہ کوالٹی ہو گی۔اس اصول پر اب ہائر ایجوکیشن کی ہدایت پر ہر یونیورسٹی میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل بنائے گئے ہیں۔جو طلباء میں ایسی تعلیم کی ترویج کو یقینی بنا رہے ہیں، جس سے یہ طالب علم عملی زندگی میں سود مند ثابت ہوں۔معیار یا کوالٹی کا انحصار نقط�ۂ نظر پر ہے۔مختلف لوگوں کے لئے معیار کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے،لیکن تعلیم میں معیار یا کوالٹی صرف ایک معیار ہے اور وہ ہے Value Addition ،یعنی روزمرہ کی بنیادوں پر جو تبدیلی آ رہی ہے،اس کو اساتذۂ اکرام سمجھیں اور کلاس روم میں اپنے طالب علموں کو اس سے روشناس کروائیں اور چونکہ تبدیلیاں روزمرہ کی بنیاد پر آتی ہیں تو ایک معیاری تعلیم بھی وہی ہو گی،جو ریسرچ یعنی تحقیق پر مبنی ہو اور مستقبل کو سامنے رکھ کر بنائی جائے۔

بہرحال یہ کا م اتنا آسان نہیں۔کم از کم چند بنیادی باتوں کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔جیسے ادارے کے سربراہ کی سوچ سے مطابقت،ادارے یا یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا تعاون ،مسلسل تبدیلی کا جذبہ، بر وقت تربیت وغیرہ۔۔۔دُنیا کی وہ تمام یونیورسٹیاں جو اپنی تعلیم کی وجہ سے صف اول میں شمار ہوتی ہیں، ان میںیہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔بالخصوص درج ذیل تحقیق اور اس سے نئی مصنوعات اور نئے خیالات کا آغاز:

نئی مشینوں کا انتخاب

ٹیم کے اوپر انحصار کرنا

بہترین صلاحیتوں اور بہترین طریقوں کا استعمال

باقاعدہ منصوبہ بندی

اور ہر کام سے پہلے تمام ادارے کو اعتماد میں لینا

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تعلیمی اداروں میں کوالٹی کا انقلاب ایک دن میں نہیں آ جاتا،بلکہ اس کے لئے ایک پراسیس،یعنی خاص تراکیب بنانا پڑتی ہیں۔ کوالٹی کا زیادہ تر انحصار اسی پراسیس پر ہوتا ہے۔ ایک اچھا منصوبہ نہ صرف تعلیمی اداروں میں اپنی روایات اور ثقافت کا علمبردار ہوتا ہے، بلکہ ایسے طالب علم بھی پیدا کرتا ہے جو مستقبل میں ملک و ملت کا نام روشن کریں گے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ایک اچھی ٹیم، جو کوالٹی کے فلسفے کو سمجھتی ہو اور دیگر افراد کو سمجھا بھی سکے، ناگزیر ہے۔کوالٹی کا فلسفہ سمجھانا بہت ضروری ہے، وگرنہ لوگ کوالٹی سے خوفزدہ ہوں گے اور اس طرح کا رویہ معیاری تعلیم کے لئے بجائے فائدے کے نقصان دہ ہو گا۔اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ ایچ ای سی نے ایک باقاعدہ مربوط نظام بنایا ہے۔

مزید :

کالم -