حقیقی عید کب ہو گی!

حقیقی عید کب ہو گی!
 حقیقی عید کب ہو گی!

  

بلا شبہ عید باعثِ مسرت بھی ہے اور لمحہ فکریہ بھی، صدیوں سے ہما رے آبا ؤ اجداد نے نہ جا نے کتنی عیدیں منائی ہیں اور روز محشر تک اہلِ اسلام منا تے رہیں گے، لیکن اگر ہم گزرنے والی عیدوں کا بغور مشاہدہ کریں تو کتنی اِیسی عیدیں ہوں گی،جو حقیقی معنوں میں عید کہلا سکتی ہیں۔۔۔ شاید ایسی چند ہی عیدیں گزری ہوں گی جو محبوبِ خدا رسولؐ کے دور میں خلفائے راشدینؓ کے دور میں حقیقی معنوں میں خو شی اور حقیقی مسرت کا احساس دلا تی ہوں۔ عیدیں اہلِ اسلام کے لئے قومی ثقافتی زندگی کے دو اہم مواقع ہیں۔ ہا دئ دو جہاں رسول اکرمؐ نے خوب خو شی منانے کا بھی فرمایا ہے اور خو شی کا اظہار فطری اور بر محل بھی ہے، لیکن اسلام نے خو شی اور غمی کے موقعوں پر کچھ حدود بھی قائم کر دی ہیں، مسلمانوں میں عیش میں یادِ خدا اور طیش میں خو فِ خدا نظر آنا چاہئے۔اسلام نے خوشی کی اجازت اِس حد تک دی ہے کہ غفلت کا رنگ نظر نہ آئے اور غم کو اتنا طاری نہ کیا جا ئے کہ زندگی عذاب لگنے لگے، ہمارے ہاں عید کے موقع پر شراب نوشی،ناچ گانے کی محفلوں کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ معاشرے کے دولت مند با اثر افراد اپنی نشے سرور میں دھت ایسی محافل کا انتظام ضروری سمجھتے ہیں، جن کے کر نے سے معاشرے میں اُن کا قد بڑا ہو تا ہے اور دوسروں پر ان کی دولت اور اثر رسوخ کا بھی رعب پڑتا ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں بھوک پیاس، کثرت عبادات کا جو فلسفہ دین اسلام کا مغز ہے، اُس کی دھجیاں بکھیر دی جا تی ہیں۔ماہِ رمضان کا مقصد یہ ہے کہ بھو ک پیاس اور تقویٰ سے ایسی تربیت حاصل کی جائے جو سال کے باقی 11مہینوں میں بھی نظر آئے، لیکن عید کے دن کی ابتدا کے ساتھ ہی رمضان کا سارا رنگ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ رنگ و نور، ناچ گانا اور نشے میں دھت ہو کر ماہِ رمضان کی روح کو گدلا کر دیا جاتا ہے،مہنگے ترین ملبو سات پہن کر غریبوں، مسکینوں، لا چاروں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ٹی وی پروگرام، جو رمضان میں اسلامی تعلیمات میں ڈوبے نظر آتے تھے، ایک دن کے بعد ہی ناچ گانے شروع ہو جاتے ہیں۔ رمضان کا مقصد غریبوں کی بھوک پیاس اور ضرورتوں کا خیال تھا، لیکن عید کے دن اِس فلسفے کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جا تا ہے۔

عید کا تصور اور مقصد محض ناچ گانا اور تہوار نہیں ہے، بلکہ یہ دن بھی خدا کے شکر اور عبادات کا ہے، اپنے پالنہار سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کا دن ہے، خدا سے روحانی تعلق استوار کرنے کا دن ہے،اِس لئے عیدالفطر دراصل روزہ دار مسلمانوں کے لئے خوشی اور مسرت کا باعث ہے اور عیدالاضحی کے پس منظر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے پناہ استقامت اور عظیم قربانی کا عکس کار فرما ہے،یعنی دونوں تہواروں میں بامقصد اور احساسِ عبدیت کا رنگ ہے۔ وطنِ عزیز میں اہلِ وطن خو شیوں میں غرق ہیں، جبکہ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ عید ایک دن ہے یا اِس کی اہمیت کچھ اور بھی ہے؟ کیا عید صرف مہنگے چمکیلے ملبوسات اور روپیہ اڑانے کا نام ہے؟سینما گھروں یا ہوٹلوں میں جا کر دولت لٹانے کا نام ہے؟ لمبی چوڑی مہنگی دعوتیں،اشتہا انگیز کھانے کھلانے کا نام ہے؟کیا عید ایک سماجی، ثقافتی تہوار ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ عید دوسروں کے احساس کا نام ہے، دوسروں سے خوشیاں شیئر کرنے کا نام ہے اور دوسروں میں خوشیاں بانٹنے کا نام ہے۔ عید کا دن اپنے اندر خاص مقصدیت رکھتا ہے۔ خاص روحانی رنگ ہونا چاہئے، عید کے دن مہنگے اُجلے ملبوسات پہننا کافی نہیں،بلکہ دِل و دماغ کا اُجالا رکھنے کی ضرورت ہے، عید دستر خوان سجانے کا نہیں کردار سنوارنے کا نام ہے۔اگر ہم اجتماعی طور پر دیکھیں تو سچ تو یہی ہے کہ ہمیں عید منانے کا حق نہیں ہے،کیونکہ جو قوم کھربوں روپے کی مقروض ہو، جس کا پیدا ہونے والا ہر بچہ پہلے سے ہی لاکھوں رو پے کا مقروض ہو، اُس کو پیدا ہونے کے بعد فضول خرچی کر نے کی بجائے اپنے سر کا قرضہ اتارنے کا سوچنا چاہئے،جس قوم کی اکثریت جہالت میں غرق ہو،جو نسل در نسل جہالت میں ہی ڈوبی آ رہی ہو، اُسے اپنا تن آراستہ کرنے کی بجائے اپنے من کو دماغ کو شعور کو علم کے نور سے روشن کرنا چاہئے،جس قوم کا بچہ بچہ آئی ایم ایف اور ترقی یافتہ ملکوں کے رحم و کرم پرہو، اُسے ایک دن کے لئے دولت لٹانے کی نہیں،بلکہ مستقل طور پر معاشی کفالت حاصل کر نے کی منصوبہ کرنی چاہئے، جو قوم سیاسی طور پر اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہو،اُس کو اپنی سیاست، سوچ و اخلاقیات کو صحیح سمت میں استوار کر نے کی فکر کرنی چاہئے۔

جو قوم مختلف طبقوں میں تقسیم ہوچکی ہو، جو دوسروں پر کافر کافر کے گولے داغتی ہو، جن کی مسجدوں سے دہشت گردوں کی قطاریں برآمد ہوتی ہوں، کفر، جھوٹ، تکبر، غرور، فریب، لوٹ مار جن کی ہڈیوں میں اُتر چکی ہو، کر پشن جن کی ترجیح اول بن چکی ہو،جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہوں، جو دوسروں کو دھوکا دے کر خوش ہوں، وہ ایک دن ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر چند گھڑیاں گزار کر اگر حقیقی عید کا مقصد پانے کی خوش فہمی میں مبتلاہوں تو وہ بہت بڑی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ جو قوم صرف ایک دن ہنسے اور سال کے باقی دن روئے تو یہ ایک دن کا تبسم کیا معنی رکھتا ہے،جو قوم ایک دن پیٹ بھر کا کھانا کھائے اور اس کے کروڑوں ہم وطن سارا سال روٹی کے نوالے کو ترسیں تو ایک دن کا خوب کھایا پیا کس کام کا۔جو قوم عید کے دن ایک دوسرے سے گلے ملے اور اگلے ہی دن ایک دوسرے کو کاٹنا شروع کر دے تو ایسی جپھیاں کس کام کی،جو عید کے دن فطرانے کے چند روپے بانٹ کر اور بڑی عید پر بچا کھچا گوشت غریبوں میں بانٹ کر خوش ہوتی ہو اور سال کے باقی دونوں میں غریبوں کو دھکے مارتی ہو، ایسے فطرانے اور گو شت کا کیا فائدہ؟۔۔۔ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر جس قدر زہریلے ہو چکے ہیں،مطلبی ہو چکے ہیں،مفاد پرستی میں غرق ہو چکے ہیں،کیا ہم عید کے حقیقی پیغام کو اپنا تے ہیں، کیا ہم عید کی خوشیاں غریبوں میں بانٹتے ہیں،کیا رمضان المبارک کا رنگ سارا سال ہم پر قائم رہتا ہے، کیا ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتیں دوسروں میں بانٹتے ہیں،کیا ہم غریبوں کا درد محسوس کرتے ہیں؟اگر ہم عید کے دن ناچ گانے کھانے پینے میں دھت رہیں گے تو ہم خدا کے قریب ہونے کی بجائے دور ہو جائیں گے، خدا سے روحانی تعلق استوار ہونے کی بجائے خدا سے دور ہوتے جائیں گے،جس طرح خوشبو کے بغیر پھول،تپش کے بغیر آگ، کرن کے بغیر چاند،لو کے بغیر سورج، ٹھنڈک کے بغیر برف اور آہ سرد کے بغیر عشق نامکمل ہے، اِسی طرح جب تک عید کا تہوار ہم غریبوں کے ساتھ مل کر نہیں مناتے، عید دوسروں میں خوشی لانے کا سبب نہیں بنتی، ہمارے درمیان پیار محبت کے ترانے نہیں بجتے، اخوت، روا داری اور پیار کے گلستان نہیں مہکتے، اُس وقت تک ہم عید کی حقیقی خوشیوں سے محروم رہیں گے، پتہ نہیں ہماری قوم کو کب حقیقی عید کی خوشیاں نصیب ہوں گی، کب ہم حقیقی خوشیوں سے لبریز حقیقی عید منائیں گے؟

مزید :

کالم -