ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص

ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص
 ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص

  

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی راجہ شوکت عزیز بھٹی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نا اہل قرار دے دیا ہے۔ راجہ شوکت عزیز بھٹی 2008ء میں بھی ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ گویا وہ تقریباً نو سال سے پنجاب اسمبلی کے ممبر چلے آ رہے تھے۔ پنجاب اسمبلی نے 2015ء میں ایک کتاب شائع کی تھی۔ جس میں پنجاب اسمبلی کے تمام ارکان کے کوائف شائع کئے گئے ہیں۔ شوکت عزیز بھٹی نے پنجاب اسمبلی کی شائع ہونے والی کتاب کے لئے اپنی تعلیم سے متعلق جو معلومات فراہم کی ہیں۔ اس کے مطابق انہوں نے لندن سے بی بی اے کی ڈگری حاصل کیہ ے اور لندن ہی سے پوسٹ گریجوایٹ ڈپلومہ بھی حاصل کر رکھا ہے۔ لیکن ان کی یہ ڈگری جعلی ثابت ہوئی ہے۔ جس کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔

جب کبھی بھی میں اخبارات میں اس طرح کی خبر پڑھتا ہوں کہ فلاں رکن اسمبلی کو جعلی ڈگری کے باعث نا اہل قرار دے دیا گیا ہے تو میں ایک گہرے صدمے کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہوں۔ جعلی ڈ گری کا مطلب یہ ہے کہ راجہ شوکت عزیز بھٹی 2008ء میں صوبائی یا قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن وہ پانچ سال تک جعلی ڈگری کے باوجود صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں صوبائی یا قومی اسمبلی کے الیکشن کے لئے گریجوایشن کی شرط ختم ہو چکی تھی۔ لیکن راجہ شوکت عزیز بھٹی کی مجبوری یہ تھی کہ کاغذات نامزدگی میں اپنی تعلیم بی بی اے سے کم تحریر نہیں کر سکتے تھے کیونکہ 2008ء میں وہ خود کو گریجوایٹ ظاہر کر کے الیکشن میں حصہ لے چکے تھے اور ممبر پنجاب اسمبلی منتخب بھی ہو گئے تھے۔ اب نو سال بعد الیکشن کمیشن کے فیصلے کی صورت میں یہ راز کھلا ہے کہ شوکت عزیز بھٹی گریجوایٹ تھے ہی نہیں اور یہ کہ ان کی بی بی اے کی سند جعلی تھی۔ یہ مسئلہ صرف جعل سازی، دھوکا دہی اور فریب کاری کا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام افراد جعل سازی اور دھوکہ و فریب دینے کے مرتکب ہوں تو اس پر زیادہ حیرت یا افسوس نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی شخص خود کو قوم کی راہنمائی کے لئے پیش کرتا ہے۔ تو راہنما یا راہبر کو تو دھوکہ باز اور جعل ساز نہیں ہونا چاہئے۔ الطاف حسین حالی نے کہا تھا۔

قافلے گزریں وہاں کیوں کر سلامت واعظ

ہو جہاں راہ زن اور راہ نما ایک ہی شخص

حالی کا ہی ایک اور حسبِ حال شعر یاد آ گیا ہے۔

اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار

اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

میں عرض کر رہا تھا کہ جس شخص نے قوم کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرنا ہو اور پارلیمینٹ میں اپنے حلقہ کے عوام بلکہ قومی معاملات میں پوری قوم کی طرف سے نمائندگی کرنا ہو کم از کم اس کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جعل سازی اور دھوکہ و فریب کے جرم کا ارتکاب کرے۔ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ارکان نے صوبے یا پھر ملک کی سطح پر انتہائی اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص صرف اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے جعل سازی اور فراڈ کا مرتکب ہو سکتا ہے تو پھر اس سے کسی بہتری یا مثبت کام کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ کسی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے والا شخص اپنے صوبہ کا وزیر بلکہ وزیر اعلیٰ بھی منتخب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کا کوئی رکن ملک کا چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم منتخب ہونے کا آئینی ا ور قانونی طور پر حق رکھتا ہے۔ جس قومی یا صوبائی اسمبلی میں جعل سازی اور دھوکہ و فریب کے جرم کا ارتکاب کرنے والے افراد منتخب ہو کر پہنچ جائیں۔ ذرا تصور کیجئے اس اسمبلی کا وقار باقی کیا رہ جائے گا۔ ہمارے ہاں انصاف کے حصول میں جس قدر تاخیر ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ بجائے خود حد درجہ افسوسناک ہے۔ شوکت عزیز بھٹی کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں کہ وہ 2008ء سے پنجاب اسمبلی کے ممبر چلے آ رہے ہیں۔ پھر 2013ء میں بھی وہ پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے۔ اب 2017ء میں جعلی ڈگری کے باعث ان کو نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ 2008ء کے الیکشن کے بعد ان کی جعلی ڈگری کو کسی نے چیلنج کیا تھا یا نہیں لیکن 2013ء کے الیکشن کے بعد میجر ریٹائرڈ افتخار کیانی نے شوکت عزیز بھٹی کے خلاف نا اہلی کی درخواست دائر کی ہوئی تھی اور اب جبکہ پنجاب اسمبلی کی مدت صرف ایک سال باقی رہ گئی ہے تو شوکت عزیز بھٹی کے خلاف نا اہلی کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد بھی نا اہل قرار پانے والے رکن صوبائی اسمبلی اگر سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو باقی ایک سال بھی وہ جعلی ڈگری سمیت گزار لیں گے۔ معاملہ جعلی ڈگری کا ہو یا کسی رکن اسمبلی کی اہلیت کو کسی اور بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہو۔ لیکن فیصلے آنے تک اگر کوئی رکن اسمبلی نا اہل ہونے کے باوجود چار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک اسمبلی کا رکن رہنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ایسا انصاف وہ ہے جسے انصاف سے انکار کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ انصاف کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے جو تاخیری حربے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے اس کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ میری رائے میں جو افراد اسمبلیوں کے الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے جعل سازی اور فراڈ کے مرتکب ہوں۔ ان کے جرم کی سزا عام مجرموں کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہونی چاہئے۔ کیوں کہ ایک راہنما کے روپ میں اگر کوئی شخص اپنے حلقے کے لاکھوں ووٹروں کے ساتھ فراڈ اور دھوکے کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن میں کسی ممبر اسمبلی کے خلاف نا اہلی کی کوئی درخواست دائر ہو تو اس درخواست پر سماعت اور فیصلے کے لئے زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کی مدت کا تعین کر دیا جائے تاکہ فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر نہ ہو کیوں کہ غیر معمولی تاخیر کے بعد اگر انصاف میسر بھی آ جائے تو وہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے اور اس کا فائدہ ہمیشہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو ہی ہوتا ہے۔ کالم تقریباً مکمل ہوا تو 22 جون کے ایک معاصر اخبار میں یہ خبر پڑھنے کو ملی۔ لاہور میں ایک شخص زاہد فاروق جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل سے وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے بعد 21 سال تک عدالتوں میں پیش ہوتے رہنے والا آخر کار جعل سازی کے جرم میں گرفتار ہو گیا ہے۔ میں چونکہ خود وکالت کے شعبے سے منسلک ہوں۔ اس لئے مجھے پنجاب بار کونسل سے شکوہ ہے کہ جعلی اسناد رکھنے والے افراد وکالت کا لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہی کیوں کر ہوتے ہیں۔ پنجاب بار کونسل کو وکالت کا لائسنس دینے سے پہلے ہی یہ تصدیق کروا لینی چاہئے کہ وکالت کے اجازت نامہ کے امیدوار کی تعلیمی اسناد جعلی نہیں ہیں۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ بڑی تعداد میں پنجاب بار کونسل سے ایسے عناصر وکالت کا لائسنس حاصل کر لیتے ہیں جن کی اسناد جعلی ہیں ۔ پاکستان کی تمام بار کونسلوں کو سختی کے ساتھ ایک ایسے فول پروف لائحہ عمل کو بروئے کار لانا ہوگا کہ آئندہ کوئی بھی شخص جعلی اسناد کی بنیاد پر وکالت کے شعبہ سے منسلک ہونے کی جرأت نہ کر سکے

مزید :

کالم -