دورِ طالب علمی اور ملازمت کی آشنائیاں (2)

دورِ طالب علمی اور ملازمت کی آشنائیاں (2)
 دورِ طالب علمی اور ملازمت کی آشنائیاں (2)

  

خالد وڑائچ نے پورے کیریئر میں کبھی مین سٹریم میں کام نہیں کیا۔ وہ زیادہ وقت ریفرنس سیکشن کے انچارج رہے ، لیکن ایک دفعہ سیکشن کے تمام ملازمین نے ان کی تحریری شکایت کر دی اس پر ڈائریکٹر نیوز سرور منیر راؤ نے انہیں ’’سزا‘‘ کے طور پر کنٹرولر رپورٹنگ لگا دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ انہیں کوئی پروفیشنل اسائمنٹ ملی۔ سرور منیر راؤ کو عہدے سے ہٹایا گیا تو مجھے ڈائریکٹر نیوز لگا دیا گیا اور وڑائچ صاحب کو نظرانداز کر دیا گیا اس پر انہوں نے میری ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے پہلے ہائیکورٹ میں ایک رٹ بھی دائر کی تھی تاہم میرے بعد جاوید علی کو چارج دیا گیا پانچ ماہ بعد وہ ریٹائر ہوئے تو خالد وڑائچ ڈائریکٹر نیوز بن گئے۔ جاوید علی صاحب پانچ ماہ قائم مقائم ڈائریکٹر نیوز رہے تاہم اُن کی کنفرمیشن نہیں ہو سکی۔ جاوید علی صاحب کا سٹرانگ پوائنٹ اگرچہ سپورٹس تھا لیکن پھر انہوں نے ہر فیلڈ میں اپنے جوہر دکھائے۔ وہ علم و ادب کا بڑا اچھا ذوق رکھتے ہیں دھیمی طبیعت کے مالک جاوید علی صاحب نے دفتر کی اندرونی سیاست میں اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیلے اور اس کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ ہمارے پورے بیج میں وہ شاید واحد آدمی ہیں جن کی کبھی ٹرانسفر نہیں ہوئی۔ ایم اے سہیل چند سال بعد ہی اعلیٰ تعلیم کے لئے پی ٹی وی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے پھر ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ قمر محی الدین یونیورسٹی کے زمانے سے ہی میرے قریبی دوست تھے۔ لیکن زندگی کے نشیب و فراز اور کھینچا تانی میں توازن قائم نہ رکھ سکے اور مفادات کی تلاش میں دوسری طرف نکل گئے وہ میرے ساتھ ہی کراچی اور پھر کوئٹہ ٹرانسفر ہوئے پھر وہ مظفرآباد بیورو میں چلے گئے وہاں ان پر مذہب کا شدید غلبہ ہو گیا ۔ واپسی پر کافی عرصہ نیشنل نیوز بیورومیں کام کیا اور سینئر نیوز ایڈیٹر بن کر ریٹائر ہو گئے آجکل اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔ محمد سلیم لاہور سے فیصل آباد بیورو گئے وہاں سے مظفرآباد بیورو چلے گئے اور پھر پشاور سنٹر میں طویل عرصہ گزار کر وہیں سنیئر نیوز ایڈیٹر بن کر ریٹائر ہو گئے وہ مین سٹریم میں کبھی نہیں آئے۔ پشاور میں یونین کی ایک خبر دینے پر اُن کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا تھا لیکن پھر بحال ہو گئے ، آجکل لاہور میں ہیں۔

اسلام آباد راولپنڈی سنٹر پر ہماری آن دی جاب ٹریننگ شروع ہو گئی اس دوران ہمارا تعارف ڈائریکٹر نیوز سید زبیر علی سے کرایا گیا۔ انہوں نے جرنلزم کے کچھ عمومی اصول بتائے اورکہا کہ آپ کا جنرل نالج وسیع ہونا چاہئے کہنے لگے کہ مثال کے طور پر آپ نے باہر سے آنے والے ایک Entomologist کا انٹرویو کرنا ہے تو یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ اس موضوع کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہوں، یہاں انہوں نے براہ راست سوال کر دیا کہ بتائیں Entomology کیا ہوتی ہے۔ شرکاء پر خاموشی طاری ہو گئی، میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور بتایا کہ Entomology is Science of Insects ۔ بہت خوش ہوئے انہی دنوں ذوالفقار علی بھٹو نے آئین میں عدلیہ سے متعلق شقوں میں ترمیم کی تھی ، انہوں نے شاہین فاروق صاحب سے پوچھا کہ اس ترمیم کی کچھ تفصیل بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات محدود کئے گئے ہیں جواب شاید صحیح تھا لیکن زبیر علی صاحب کو حاکم وقت کے خلاف بات پسند نہیں آئی انہوں نے کہا کہ آپ پروپیگنڈے کا شکار ہوئے ہیں۔

ٹریننگ کے دوران میرا اور قمر محی الدین کا تبادلہ کراچی کر دیاگیا جس کا کوئی جواز مجھے سمجھ نہیں آیا۔ شاید ہمارا قصور یہی ہو کہ ہمارا تعلق اسلام آباد یا لاہور سے نہیں بلکہ چھوٹی جگہوں سے تھا۔ بہرحال کراچی جا کر کافی مسائل سے واسطہ پڑا کیونکہ تنخواہ ساڑھے چھ سو تھی، تاہم بہت کچھ سیکھا بھی۔ کراچی سنٹر پر اُس وقت پروڈیوسرز کا جھرمٹ تھا، شاید آج تک وہاں ایک وقت میں اتنے لوگ اکٹھے نہیں ہوئے حالانکہ وقت کے ساتھ کام کئی گنا بڑھ گیا ہے شاہدہ مرزا نیوز ایڈیٹر تھیں بعد میں وہ پی ٹی وی چھوڑ کر کراچی یونیورسٹی کے شعب�ۂ ابلاغیات سے منسلک ہو گئی تھیں۔ پروڈیوسروں میں میرے علاوہ قمر محی الدین، طارق فتح، نجم الحسن جعفر بلگرامی، نقی عباس، عزیز ناریجو، تنویر احمد، نذیر چنّا، عبدالحمید، قیصر عباس اور شمیم الرحمن شامل تھے۔ طارق فتح کراچی یونیورسٹی میں لیفٹ کے سٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ ہم لوگ کوئٹہ ٹرانسفر ہو گئے تو ایک دفعہ وہ بیگم کے ہمراہ کوئٹہ بھی ملنے آئے تھے۔ وہ پی ٹی وی چھوڑ کر کینیڈا شفٹ ہو گئے اور ٹورنٹو کی صحافتی اور سوشل لائف میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہاں وہ ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں بھی حصہ لیتے رہے ، کئی کتابیں لکھیں، آجکل وہ زی ٹی وی پر ’’فتح کا فتویٰ‘‘ کے نام سے پروگرام کر رہے ہیں اور اسلام اور پاکستان کے بارے میں اپنے منفی خیالات کی وجہ سے کافی Controversial ہو چکے ہیں۔ نجم الحسن پی ٹی وی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے ،وہاں ٹی وی پروگرام کرتے رہے آجکل ٹورنٹو میں ہیں۔1987 ء میں میں امریکہ گیا تو اُن کے پاس قیام رہا، عزیز ناریجو بھی سروس چھوڑ کر امریکہ چلے گئے آجکل ٹیکساس کے ایک شہر Christie میں قیام پذیر ہیں وہ درمیان میں پاکستان آئے تھے اور انہوں نے اسلام آباد سے شام کا انگریزی اخبار ’’دی کرانیکل‘‘ نکالا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے اور پھر واپس چلے گئے۔ قیصر عباس بھی امریکہ چلے گئے اور آجکل بھی وہیں ہیں۔ نقی عباس صاحب واشنگٹن ڈی سی میں قیام پذیر ہیں۔ ہمارے ایک اور سینئر رضی احمد رضوی واشنگٹن ڈی سی میں وائس آف امریکہ کی اُردو سروس کے ایم ڈی ہیں۔ جعفر بلگرامی صاحب نے کنٹرولر کی پوسٹ سے استعفیٰ دے دیا اور وزیراعظم شوکت عزیز کے میڈیا ایڈوائزر بن گئے۔ آجکل بنکاک میں ہیں جہاں اُن کی بیگم یو این ڈی پی کی کنٹری ہیڈ ہیں۔ تنویر احمد صاحب مارننگ نیوز کے ایڈیٹر رہے اور پھر ڈان میں اسسٹنٹ ایڈیٹر آجکل ریٹائر ڈلائف بسر کر رہے ہیں۔ نذیر چنّا ایک سندھی کامریڈ تھے وہ مہینے کے آخر میں صرف تنخواہ لینے آتے تھے بعد میں اُن کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ عبدالحمید صاحب نے بھی پی ٹی وی چھوڑ کر بزنس کر لیا تھا۔ شمیم الرحمن پی ٹی وی چھوڑ کر ڈان میں چلے گئے تھے وہیں اُن کا انتقال ہو گیا۔ زبیر الدین، ماہرہ شفیع، معراج الدین ، نسرین پرویز اُردو خبریں پڑھتی تھیں(نسرین پرویز بعد میں الیکشن کمیشن میں ملازمت کرتی رہیں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔) انگریزی خبروں میں چشتی مجاہداور نعیم سلطان نمایاں نام تھے ۔ زمان خان اور مصّور علی خان نائب قاصد تھے جو نیوز روم کا ناگزیر حصہ تھے۔

یہ بات تو طے ہے کہ کراچی والے چائے کے رسیا ہوتے ہیں ویسے اب تو پنجابی بھی اِس معاملے میں پیچھے نہیں رہے ۔ پروڈیوسرز میں سے جو بھی نیوز روم پہنچتا تھا آتے ہی چائے اور پان کا آرڈر دے دیتا تھا لہٰذا یہ عمل سارا دن جاری رہتا تھا۔ نیوز روم فرسٹ فلور پر تھا اور کینٹین وہاں سے کافی فاصلے پر گراؤنڈ فلور پر تھی۔ نائب قاصد زمان اگرچہ مضبوط جسم کا پٹھان تھا لیکن ایک دن عاجز آ کر کہنے لگا کہ سر چائے ڈھوتے ڈھوتے میری تو ٹانگیں جواب دے گئی ہیں۔ جہاں اتنے لوگ اور پھر مختلف بیگ گراؤنڈ کے حامل افراد کام کرتے ہوں وہاں آپس میں چپقلش بھی ماحول کا لازمی حصہ ہوتی ہے لہٰذا یہ عنصر یہاں بھی تھا، مثلاً عبدالحمید کی تنویر صاحب اور سلطان قمر صاحب (ایک وقت میں وہاں نیوزایڈیٹر رہے) سے نہیں بنتی تھی ۔ ایک دن عبدالحمید صاحب نے گھر پر ہم سب لوگوں کی دعوت کی تو کھانے میں بھی شاید کچھ کمی رہ گئی تھی پھر آپس کی ناچاقی سلطان قمر صاحب نے اس پس منظر میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بڑے معنی خیز انداز میں کیا ، کہنے لگے کہ کھانا تو بہت اچھا تھا پر بھوک نہ تھی۔

پس تحریر : 30مئی کو چھپنے والے کالم میں یہ صحیح نہیں لکھا گیا کہ شمائلہ جعفری کے علاوہ کوئی رپورٹر کشمیر میں زلزلے کی کوریج کرنے کیلئے نہیں گیا ، شازیہ سکندر زلزلے کے دوسرے دن فوجی ہیلی کاپٹر میں مظفرآباد گئی تھیں اور اُن کے ساتھ ہی واپس آ گئیں۔ اِس غلطی کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -