نو مور، ’’ڈو مور‘‘

نو مور، ’’ڈو مور‘‘

  

برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وطن کے دفاع کے لئے سیکیورٹی فورسز کے حوصلے بلند ہیں، خطے میں امن کے قیام اور استحکام کے لئے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا،لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرے سٹیک ہولڈر بالخصوص افغانستان بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرے، نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا اور بہت زیادہ قربانیاں دیں،بدقسمتی سے پاکستان کی اِن قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا اور ہم سے ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبات کئے گئے اب ہم افغانستان اور دوسرے ممالک سے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ جاری ہے اور ہم اپنی سرزمین کسی دوسرے مُلک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم پاکستان اور عوام کی سیکیورٹی پر منڈلانے والے ہر خطرے کو ختم کر دیں گے۔ پاکستان کے عوام ہی بہادر سیکیورٹی فورسز کی اصل طاقت ہیں، پاکستان کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی بساط سے بڑھ کر لڑی۔ آرمی چیف نے اِن خیالات کا اظہار ہفتے کو جی ایچ کیو میں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں کیا، جس میں مُلک کی موجودہ سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ آرمی چیف نے بڑی صاف گوئی سے وہ بات کہہ دی ہے جس کا ہر کوئی گواہ ہے پاکستان نے واقعی دہشت گردی کے خلاف اتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں کہ دُنیا کی کوئی فوج حتیٰ کہ امریکی فوج بھی اِس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی،اِس وقت بھی افغانستان میں امریکی فوج موجود ہے اور اس کی موجودگی کے باوجود افغانستان میں تقریباً روزانہ ہی دھماکے ہوتے ہیں، ہائی سیکیورٹی زون بھی اِن سے بچا ہوا نہیں ہے ،جہاں امریکیوں سمیت ہزاروں سیکیورٹی اہلکار چپّے چپّے پر تعینات ہیں۔ صدارتی محل کا تو یہ عالم ہے کہ اس کے اردگرد کے وسیع علاقے کو سیکیورٹی مقاصد ے لئے خالی رکھا گیا ہے یا پھر ان عمارتوں میں حفاظتی عملہ تعینات ہے اس کے باوجود صدارتی محل میں امریکی سیکیورٹی متعین ہے،ابھی زیادہ دن نہیں گزرے بگرام ائر بیس کے دس سیکیورٹی اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ یہ ائر بیس امریکہ کے کنٹرول میں ہے اور سیکیورٹی بھی امریکہ کے پاس ہے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو امریکی فوج دُنیا کے بہترین اسلحے سے لیس ہے، رات کو دیکھنے والی خصوصی عینکیں جس کے سپاہیوں کی رات کے اوقات میں بھی رہنمائی کرتی ہیں، جن کی وردیاں خاص طور پر اپنے اندر بعض حفاظتی فیچرز رکھتی ہیں، اسلحے کے انبار بھی اپنی جگہ ہیں اس کے باوجود اگر امریکی فوجی دارالحکومت کابل کو بھی سولہ سال کے دوران محفوظ نہیں بنا سکے تو اب جو پانچ ہزار مزید فوجی امریکہ سے منگوائے جا رہے ہیں وہ کون سا قلعہ فتح کر لیں گے اس سے یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ جان قربان کرنے کا جذبہ نہ ہو تو جدید اسلحہ اور جدید ترین سازو سامان سب بے کار ہو جاتا ہے۔ سلاحِ جنگ اُسی صورت میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے جب اس کے ساتھ قربانیوں کا جذبہ بھی ہو۔

افغانستان میں امریکی فوج کی ناکامیوں کے بالمقابل اگر پاکستان کی کامیابیوں کو میزان میں رکھ کر تولا جائے تو پاکستان کا پلڑا نیچے تک جھکا ہوا ہو گا، نائن الیون سے پہلے پاکستان کے اندر خود کش حملوں کا کوئی تصور نہ تھا، دہشت گردی کا یہ ہتھیار بھی اس حادثہ کی دین کہا جا سکتا ہے گویا ’’اے بادِ صبا این ہمہ آوردۂ تست‘‘ امریکہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ نہ کرتا اور افغان حکومت کو اپنے معاملات خود چلانے دیتا تو شاید حالات مختلف ہوتے،لیکن امریکہ نے حملہ کر کے بزعم خویش یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ کارپٹ بمباری کے بعد افغانستان میں داخل ہو کر چند ماہ میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دے گا اور اِس میدان میں بھی دوسرے بہت سے میدانوں کی طرح کامیاب و کامران ٹھہرے گا،لیکن امریکی افواج کے سپاہی جب زمین پر اُترے تو اُنہیں آہستہ آہستہ اندازہ ہونا شروع ہو گیا کہ اِس سنگلاخ زمین میں آنا تو آسان ہے، کامیاب ہو کر نکلنا مشکل ہے، سولہ سال بعد بھی اگر امریکی صدر ٹرمپ کو مزید امریکی فوجی بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو کیا یہ ناکامیوں کی کافی شہادت نہیں؟ صدر اوباما جب2008ء میں پہلی مرتبہ صدر بنے تو انہوں نے بھی امریکی افواج واپس بلانے کا ارادہ کیا تھا،لیکن جرنیلوں کے دباؤ پر انہیں اپنا یہ پلان ختم کرنا پڑا، وہ آٹھ سالہ مدت پوری کر کے واپس امریکی معاشرے کا حصہ بن گئے،لیکن اُن کا فوجی واپس بلانے کا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ یہی حال صدر ٹرمپ کا ہے گویا افغانستان میں ناکامیوں کی تاریخ اُن کے تعاقب میں بھی ہے۔

امریکہ میں اگر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ صِدق دِلی سے نہیں لڑی یا وہ کچھ نہیں کیا جو امریکہ چاہتا تھا تو ایسا تاثر کسی پاکستان مخالف لابی کے زہریلے اور منفی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ بعض امریکی یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے پاکستان پر امریکہ ہُن برساتا رہا ہے اور اس کے صلے میں اُسے پاکستان سے تعاون نہیں ملا، یہ پرلے درجے کی غلط فہمی اور حقائق سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں خود کش حملے امریکہ کی خطے میں آمد سے شروع ہوئے اور انہی کے نتیجے میں پاکستان کی اقتصادیات پر بڑے گہرے گھاؤ لگے، قیمتی جانی نقصان کا تو کوئی شمار و قطار ہی نہیں جس کا کوئی نعم البدل بھی نہیں ہو سکتا، امریکہ تو پاکستان کا وہ نقصان بھی پورا نہیں کر سکا جو صرف امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے پاکستان کو پہنچ چکا۔ بنیادی طور پر دہشت گردی کی جنگ امریکہ کی جنگ تھی جسے پاکستان نے اپنے گلے میں ڈال لیا اور اب تک اِس کا نتیجہ بھگت رہا ہے اور نہ جانے کب تک بھگتنا پڑے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے درست کہا کہ پاکستان نے بڑی قربانیاں دے لیں اب دوسروں کی باری ہے،لیکن افغانستان میں جو نیشنل آرمی امریکی فوج نے تربیت کے بعد کھڑی کی ہے وہ دہشت گردی کے مقابلے میں ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے، ابھی دو روز قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے پاکستان میں نہیں، افغانستان میں ہیں، خود افغان سیکیورٹی فورسز اِن ٹھکانوں کو ختم نہیں کر سکیں ابھی جمعتہ الوداع کے روز پارہ چنار اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے جو خونیں واقعات ہوئے ہیں یہ بھی افغان سرحد کھولنے ہی کا نتیجہ ہیں یہ دھماکے کرنے والے بھی افغانستان سے آئے۔پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے، لیکن جواب میں اُسے وہ تعاون میسر نہیں جو ملنا چاہئے۔امریکہ میں تو پاکستان کو ’’نان نیٹو اتحادی‘‘ کے نام نہاد خانے سے نکالنے کی کوششیں بھی شروع کر دی گئی ہیں اور امداد بند کرنے کا بل کانگرس میں پیش کیاگیا ہے یہ کوششیں بھی پاکستان مخالف حلقوں کی پروپیگنڈہ مہم کا نتیجہ ہے امریکی انتظامیہ کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو کامیابیاں امریکی فوج نہیں سمیٹ سکی بے سرو سامانی کے عالم میں اگر پاکستان نے حاصل کی ہیں تو ان کی تعریف ہونی چاہئے۔ ’’ ڈو مور‘‘ کا مطالبہ اگر کرنا ہے تو امریکہ افغانستان سے کرے یا پھر خود اس کی افواج افغانستان کو دہشت گردی سے نجات دلائیں پاکستان تو اپنے حصے سے بہت زیادہ کردار ادا کر چکا۔

مزید :

اداریہ -