جعلی مشروبات کی چار لاکھ سے زائدبوتلیں؟

جعلی مشروبات کی چار لاکھ سے زائدبوتلیں؟

  

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے ایک فیکٹری پر چھاپہ مارکر لاہور میں جعلی مشروبات کی چار لاکھ بوتلیں برآمد کرلیں۔ چھاپے کے دوران مالکان کی طرف سے ٹیم کے ارکان کو دھمکیاں دی گئیں اور پھر ان پر فائرنگ بھی کی گئی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نور الامین مینگل موقع پر پہنچے تو مالکان فرار ہوگئے۔ چھاپہ مار ٹیم نے جعلی بوتلوں کا سارا سٹاک ضبط کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ فیکٹری میں تمام معروف برانڈز کی جعلی بوتلیں تیار کی جارہی تھیں۔ ریکارڈ کے مطابق فیکٹری سے اب تک 33لاکھ سے زائد جعلی بوتلیں تیار کرکے فروخت کی جاچکی ہیں کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی چھاپہ مار ٹیمیں تقریباً روزانہ ہی کھانے پینے کی انتہائی ناقص، ملاوٹ شدہ اور جعلی اشیا برآمد کررہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ناقص، ملاوٹی اور جعلی اشیا تیار کرکے فروخت کرنے پر قانونی کارروائی کر نے کے ذمہ دار سرکاری افسران اور اہل کارکہاں سوئے ہوئے ہیں۔ جو فیکٹریاں سیل کی جا رہی ہیں اور جن مقامات پر اشیا فروخت ہو رہی ہیں ، وہاں تک ذمہ دار سرکاری ملازمین کی رسائی کیوں نہیں اور ایکشن کیوں نہیں لیا جارہا ہے؟ یہ صور ت حال تو مک مکا اور ملی بھگت ہونے کی وجہ سے ممکن ہواکرتی ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرتکب ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کر کی ضرورت ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی قابل تعریف ہے لیکن اس کا دائرہ کار وسیع ہونے کی وجہ سے سٹاف میں اضافے اور ضروری قانون سازی بھی ہونی چاہئے۔ بعض اوقات چھاپہ مارٹیم کے ساتھ بدتمیزی اور حملہ کرنے کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔ جس فیکٹری سے مشروبات کی چارلاکھ سے زائد بوتلیں برآمدہوئی ہیں، وہاں پہلے تو چھاپہ مارٹیم کو ڈرایا دھمکایا جاتا رہا لیکن چھاپہ مارٹیم نے اپنی کارروائی جاری رکھی تو مالکان نے فائرنگ کرکے انہیں بھگانے کی کوشش کی۔ اگر ڈی جی نورالامین مینگل بروقت نہ پہنچتے تو صورت حال سنگین بھی ہوسکتی تھی۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ چھاپہ مارٹیموں کے ساتھ پولیس کی مسلح نفری بھی بھیجی جائے۔ اس کے لئے ضروری منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔ جعل سازی، ملاوٹ اور ناقص میٹریل کے استعمال کی انتہا ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اختیارات میں اضافے اور کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے فوری طور مطلوبہ سٹاف مہیا کرنے کی منظوری دیتے ہوئے قانون سازی کی طرف بھی توجہ دیں۔ صور تحال کی خرابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دکاندار سے جعلی مشروبات کی بوتل پکڑی گئی تو اس کے قریبی گودام سے ہزاروں جعلی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

مزید :

اداریہ -