جمو را کالے

جمو را کالے
 جمو را کالے

  

اب کی بار عمران خان عید کی نماز کے بعد جب سلام پھیریں گے تو یقیناًانہیں تبدیلی محسوس ہوگی۔ ایک طرف بابر اعوان اور دوسری طرف امتیاز صفدر وڑائچ بیٹھے نظر آئیں گے یقیناًاسی سحر کیلئے انہوں نے اتنے پاپڑ بیلے تھے۔ یہی تبدیلی کرنی تھی تو بھیا پہلے بتا دیتے ہم پیپلز پارٹی کے سب معززین آپ کی خدمت میں پیش کردیتے لیکن میرا دل کہتا ہے کہ سب دلہنیں صرف حلالہ کی نیت سے تحریک انصاف میں آئی ہیں ان کی واپسی ہوگی اور اپنے پیا کے گھر واپس آئیں گی۔ ایک جیل میں ایک قیدی کی شوگر کی وجہ سے ٹانگ کاٹ دی گئی کچھ عرصہ بعد دوسری کاٹنی پڑگئی۔ کچھ عرصہ بعد ایک حادثے میں اس کا ایک ہاتھ کاٹنا پڑا۔ جیلر اس کے پاس آیا اور بولا میں جانتا ہوں تم آہستہ آہستہ فرار ہو رہے ہو۔ لگتا ایسا ہی ہے پیپلز پارٹی بھی پیپلز پارٹی سے آہستہ آہستہ فرار ہو رہی ہے۔ فردوس عاشق نے تو ماشا اللہ اتنی جگہ خالی کی ہے کہ وہاں مزید سو افراد سما سکتے ہیں۔ جے آئی ٹی جس طرح ہانکا کر رہی ہے لگتا ہے کہ شیر کا شکار ہوکے رہے گا۔ ابھی تک تو خیر جے آئی ٹی صرف تاش پھینٹ رہی ہے تیر پھینکے گی تو معلوم ہوگا (نوٹ میرے اس جملے کو قطعاً منٹو صاحب کے ریفرنس میں نہ پڑھا جائے) میں نہیں کہتا یہ خان صاحب کہتے ہیں کہ میاں صاحب جے آئی ٹی سے بچنے کا چلا کرنے سعودی عرب گئے ہیں اور وہاں سے ایک پھر امام ضامن بندھوا کر آئیں گے۔ کاش میاں صاحب کو یہ دن یاد رہتے اور وہ قطر کیخلاف علی الاعلان سعودی اتحاد کا حصہ بن جاتے تو شاید انہیں آج کا دن نہ دیکھنا پڑتا۔ میں تو بہت ہنسا تھا جب ہمارا وفد سعودی عرب اور قطر میں صلح کرانے گیا تھا۔ اگر آپ نے سعودی پریس کا خط پاکستانیوں کے بارے میں پڑھا ہو تو سمجھ آ جائے گی کہ جو ہمیں اپنا کمی سمجھتے ہیں وہ ہماری صلح کرانے کی پیشکش کو کس حیثیت سے دیکھتے ہوں گے۔ بہرحال میرا یقین ہے جے آئی ٹی جتنا مرضی تاش پھینٹ لے آخر میں نکلے گا حکم کا غلام۔ بھیا میرے یہ پاکستان ہے یہاں انصاف اور قانون کے امیر اور غریب کے حوالے سے الگ الگ معنی ہیں۔ چلو مان لیا انصاف کا اندھا تیر چل گیا فیر؟؟؟ کیا، اس حمام میں ایک میاں صاحب ہی ہیں باقی دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔ اور اگر مان بھی لوں کہ دودھ کے دھلے ہیں تو یہ وہی دودھ ہے جو محکمہ فوڈ والے نالیوں میں ’’روڑہ‘‘ رہے ہیں۔ بھائی میرے طاقتور کا ثبوت جلیا ٹھنڈا ٹھار ہی ہوتا ہے اسی طرح غریب کے جمو بھی را کالے ہوتے ہیں۔ میاں صاحب گئے تو مریم آجائے گی‘ زرداری گئے تو بلاول ہوں گے، شہباز نہ ہوں گے تو حمزہ ہوں گے۔ اس لئے کہتا ہوں آ پیا جانے تے وا پیا جانے۔ یعنی بھیا میرے ’’سانو کی‘‘ تے تینو کی۔ موروثی سیاست کی جو فصل ہم نے کئی دہائیاں پہلے بوئی تھی آج وہ تناور درخت بن گئی ہے جسے جے آئی ٹی کی ایک کند آری سے کاٹنا ممکن نہیں۔ ایک بادشاہ بھیس بدل کر رعایا کا حال معلوم کرتا پھر رہا تھا، اس نے ایک کسان دیکھا جو سر پر ایک بڑا سا تربوز اٹھائے آ رہا تھا۔ بادشاہ نے پوچھا کہاں جا رہے ہو، وہ بولا بادشاہ کو دوہانا پیش کرنے کیلئے۔ بادشاہ بولا اگر اس بادشاہ نے نہ لیا تو؟؟؟ وہ بولا نہ لیا تو بادشاہ وڑے بھانڈے میں۔ اگلے دن کسان دربار پہنچا تو اس کے سر پر رکھا تربوز حیرت سے لڑکھڑاگیا، سامنے وہی آدمی تخت پر بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے کہا کیسے آئے ہو؟ کسان بولا دوہانا پیش کرنا چاہتا تھا۔ بادشاہ نے

مسکرا کے کہا اگر ہم انکار کردیں تو؟؟؟ کسان بولا ’’فیر کل والی گل‘‘ سمجھ جاؤ۔

تو بھیا میرے عید پر ٹی وی سکرین پر چم چم کرتے ماڈلز کو دیکھ کر ماضی کی اداکارہ شبو عرف شبنم کی طرح لمبے لمبے ہوکے بھرنے والے پاکستانی ہمارا زندگی میں کل والی گل کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ جے آئی ٹی اور پیشیاں بس رج کھان دی مستیاں ہیں۔ آپ نہ آپیو میں ہو نہ چاپیو میں۔ اگر میں کہوں کہ ایسی آندھی چلے کہ شیر اڑ کے جدہ کے جنگل میں چلا جائے تو پھر پیپلز پارٹی کی کامیاب ہوگی اور میرا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی عمران خان گروپ حکومت بنالے گا۔ اب تم بتاؤ کیا ملک میں امن کی گنگا میں چھیاں چھیاں چلنے لگے گی یا انصاف اور قانون سڑکوں پر میں تے میرا دلبر جانی بلیاں تے پیار کہانی گاتے پھریں گے۔ نئی بوتل میں پرانی شراب بکے گی یعنی پرانی فلم شرطیہ پرنٹ کے ساتھ چلے گی۔ یہ پاکستان ہے یہاں وزیراعظم سے لے کر جنرل کونسلر تک سب حصہ بقدر جثہ دھونس دھاندلی، طاقت، بے ایمانی کے پلنگ پر بیٹھ کر ایوان اقتدار پہنچتے ہیں۔ راوی چین ہی چین کیسے لکھے وہ تو ہمیشہ بے چین رہے گا۔ انصاف چاہتے، امن چاہتے ہو تو ایک صف اڑاؤ دوسری اڑاؤ پھر تیسری اڑاؤ، اڑاتے جاؤ اڑاتے۔ یہ ٹروجن وائرس ہے تمہاری نسلوں میں سرایت کرچکا، یہ نظام ایک ایسی چڑیل ہے جو صرف غربت، بیروزگاری، چوری چکاری جیسے بچے جنتی ہے۔ اس چڑیل سے محفوظ رہنا ہے تو اس کو اس کے پجاریوں اور حواریوں سب کو جھٹکا کرنا ہوگا نہیں تو پرانی تنخواہ میں کام کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔ خان صاحب اپنے مہمان کو لئے پھر رہے تھے اچانک بولے چھپ جاؤ جلدی کرو چھپ جاؤ۔ مہمان بولا بھائی کیا ہوا؟ وہ بولے سامنے سے میرا دشمن آ رہا ہے۔ ایک بار ہم نے اس کا مہمان مار دیا تھا اب وہ تمہیں مار دے گا۔ سمجھ جاؤ بھائی اس انتقام میں مرنا مہمان نے ہی ہے۔ اس کا مرے تب بھی مہمان دوسرے کا مرے تب بھی مہمان۔ سو میرے پیارے مہمان پاکستانیو! آپ کو عید مبارک ہو، آج عید پر خوش رہنا، عید ملتے ایک مسئلہ ہوتا ہے، سمجھ نہیں آتی سامنے والا پہلے ہاتھ ملائے گا یا گلے لگے گا۔ گلے لگتے ہوئے وہ سجی طرف سر کرے گا یا کھبی طرف۔ پھر یہ بھی کنفیوژن رہتی ہے یہ کتنی بار گلے ملے گا۔ بس ان چھوٹی چھوٹی کنفیوژن کے ساتھ خوش رہو، یہ معلوم کنفیوژن ان کنفیوژن سے بہتر ہے جس کا ہم شکار ہیں کہ اچانک قانون اور انصاف کی دیوی انگڑائی کیوں لیتی ہے اور اچانک باہر کے آقاؤں کی ہش ہش سے اسے نیند کیوں آ جاتی ہے۔

عشق زندہ بھی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔۔ آپ میری مثال ہی لے لو۔

آپ اس سلسلے میں پرویز مشرف کی مثال لے سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -