عیدالفطر۔۔۔فلسفہ، فضائل و احکام

عیدالفطر۔۔۔فلسفہ، فضائل و احکام

  

پسروری

لفظ عید، عود سے مشتق ہے جس کے معنی لوٹنے اور بار بار آنے کے ہیں اور فطر کا معنی روزوں کا ختم ہونا ہے۔ اس دن کے ہر سال لوٹ کر آنے کی وجہ سے اسے عید کہا جاتا ہے۔ اصطلاح میں عیدالفطر خوشی اور مسرت کے اُس دن کو کہتے ہیں جو رمضان المبارک گزرنے کے بعد شوال کی یکم تاریخ کو ہوتا ہے اور جسے ہر سال اہل اسلام نہایت تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔

ہر قوم اور مذہب کی ایک عید ہوتی ہے جس کا کوئی خاص پس منظر اور مقصد ہوتا ہے۔ غیر مسلم اقوام کی عیدوں اور تہواروں میں شراب نوشی‘ لہو و لعب اور فضولیات کا دور دورہ ہوتا ہے لیکن اسلامی عیدوں میں عاجزی، تواضع، ایثار، محبت و خلوص اور اتفاق و اتحاد کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ خادم رسولؐ حضرت انسt اہل اسلام کی عید کی تاریخ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’رسول اللہﷺ جب (ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ خوشی کے دو دن مناتے تھے، آپ نے فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ زمانہ جاہلیت میں ان دِنوں میں کھیلا کرتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کا بہتر بدل تمہیں دے دیا ہے، وہ عیدالاضحی اور عیدالفطر ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد ج۱، ص ۱۶۱)

سنن ابی داؤد کے صفحہ نمبر ۱۶۱ جلد نمبر ۱ کے حاشیہ نمبر ۴ پر ہے کہ اہل عرب کے دو خوشی (عید) کے دنوں کے نام ’’نیروز اور مہرجان‘‘ تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ۲ ہجری میں مسلمانوں کی خوشی اور مسرت کے لیے عیدالفطر کا دِن مقرر فرمایا:۔

’’سب سے پہلی عید جو آپﷺ نے کی وہ عیدالفطر تھی اور یہ سن ۲ ہجری میں ہوئی۔‘‘

حضرت سید عبدالقادر جیلانی ؒ نے امم سابقہ اور امت محمدیہ کی تاریخ یوں بیان فرمائی ہے:۔ (ترجمہ)

’’چار قوموں کے لیے چار عیدیں ہیں‘ اُن میں سے ایک حضرت ابراہیم ؑ کی قوم کی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (نظر کی ستاروں میں اور کہا میں بیمار ہوں) اس سے مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کی قوم اپنی عیدگاہ میں گئی ہوئی تھی اور ابراہیم ؑ نہ گئے۔ دوسری عید قوم موسیٰ ؑ کی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (تمہارے وعدہ کا دن زینت کا دن ہے یعنی عید کے دن موسیٰ ؑ اور جادوگروں کا مقابلہ ہوگا) تیسری عید حضرت عیسیٰ ؑ کی قوم کی ہے جس کا ذکر یوں ہے (عیسیٰ ؑ نے کہا اے ہمارے رب! ہمارے اوپر آسمان سے ایک دستر خوان بھیج دے جو ہمارے اول و آخر کے لیے عید اور تیری طرف سے نشانی ہو) اور چوتھی حضرت محمدﷺ کی امت کی عید ہے۔‘‘

عید کی صبح ہر چھوٹا بڑا فرحاں و شاداں نظر آتا ہے اور گلی کوچوں میں بڑی رونق ہوتی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ عید کی صبح ہی بے شمار فرشتوں کو رمضان المبارک میں روزے رکھنے والوں کے استقبال کے لیے راستوں میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ آنحضرتﷺ کا ارشاد مبارک ہے:۔ (ترجمہ)

’’جب عیدالفطر کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ تمام شہروں میں فرشتوں کو بھیجتے ہیں، وہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور گلی کوچوں اور راستوں میں کھڑے ہو کر پکارتے ہیں۔ فرشتوں کی آواز کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ سب سنتے ہیں۔ فرشتے کہتے ہیں: اے محمدﷺ کے امتیو! تم اپنے رب کریم کی طرف نکلو جو بہت انعام عطا فرماتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘

باعمل مسلمان کے لیے عید کی صبح بخشش، مغفرت، رحمت اور فضل و انعام کی نوید لے کر طلوع ہوتی ہے۔

عید کی صبح حوائج ضروریہ سے فراغت کے بعد عید کے لیے غسل کرنا، خوشبو لگانا اور حسب استطاعت صاف ستھرا لباس پہننا امام الانبیاء ؑ کی سنت مبارکہ ہے:

’’حضرت جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ ہر عید پر خوبصورت یمنی جبہ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔‘‘

نمازِ عیدالفطر کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز خصوصاً طاق عدد کھجوریں کھانا سنت ہے۔

’’حضرت انس بن مالک ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عیدالفطر کے دن کھجوریں کھائے بغیر عیدگاہ کی طرف نہیں جاتے تھے اور آپ کھجوریں طاق کھاتے تھے۔‘‘

نماز عید کے لیے عیدگاہ کی طرف پیدل جانا سنت ہے تاہم اگر کوئی مجبور ہو تو سواری پر جانا بھی جائز ہے۔

’’حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ عیدگاہ کی طرف پیدل جانا اور عید کے لیے نکلنے سے پہلے کوئی چیز کھانا سنت ہے۔ اکثر اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ آدمی عیدگاہ کی طرف پیدل جائے اور بغیر عذر کے سوار نہ ہو۔‘‘

نمازِ عید کے لیے آتے جاتے وقت اور عیدگاہ میں بآوازِ بلند تکبیرات کہنا نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:

’’بیشک رسول اللہﷺ جب عیدالفطر کے دن گھر سے نکلتے تو عیدگاہ تک تکبیریں کہتے تھے۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمرؓ عیدگاہ کے راستے میں اور عیدگاہ میں بآوازِ بلند تکبیرات کہتے تھے۔ (سنن دارقطنی ج۲، ص ۵۴، نیل الاوطار ج۴۳، ص ۱۵۳)

حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ مسنون تکبیرات عید حسب ذیل ہیں:

((اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد)) (سنن دارقطنی ص ۰۵، ج۲)

عید کی نماز شہر یا گاؤں سے باہر کھلے میدان‘ عیدگاہ میں ادا کرنا سنت ہے۔

’’حضرت ابو سعید خدریt فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن (نمازِ عید کیلئے) عیدگاہ کی طرف نکلتے تھے۔‘‘

اگر بارش وغیرہ کا کوئی عذر اور مجبوری ہو تو نمازِ عید مسجد میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

’’حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن بارش ہوئی تو نبی اکرمﷺ نے عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔‘‘

عید کی نماز کے لئے نہ اذان کہی جاتی ہے اور نہ جماعت کے وقت اقامت کہی جاتی ہے، یہی رسول اکرمﷺ کا طریقہ ہے۔

’’حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک دو مرتبہ نہیں کئی مرتبہ عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھی۔‘‘

نمازِ عید کے لیے عورتوں کو بھی عیدگاہ میں جانے کا حکم ہے۔ البتہ حائضہ عورتیں عیدگاہ سے الگ رہیں اور نمازِ عید نہ پڑھیں لیکن مسلمانوں کی دعا میں ضرور شریک ہوں۔

’’ام عطیہؓ فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ دونوں عیدوں کے دن ہم پردہ نشین تمام عورتوں کو عیدگاہ میں لائیں تا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں، ایک عورت نے سوال کیا کہ اگر کسی عورت کے پاس اوڑھنے کے لیے چادر نہ ہو تو آپ نے فرمایا: اس کی پڑوسن کو چاہیے کہ اُسے ادھار چادر دے دے۔‘‘

عید کی نماز آنحضرتﷺ نے ہمیشہ ادا فرمائی ہے اور آپ کے بعد خلفاء راشدین، تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین اور عام مسلمین ادا کرتے رہے ہیں۔ آج تک کسی دور میں بھی مسلمانوں نے اس نماز کو نہیں چھوڑا، جمعہ کی طرح نمازِ عید بھی شعائر اسلام میں سے ہے۔

عید کی نماز کا وقت اشراق کا وقت ہے اور نماز عید کی ادائیگی میں تاخیر ناپسندیدہ عمل ہے۔ صحابی رسولؐ حضرت عبداللہ بن بُشرؓ عیدالفطر یا عیدالاضحی کی نماز کے لیے لوگوں کے ہمراہ عیدگاہ روانہ ہوئے تو امام نے دیر کر دی، آپ نے تاخیر پر اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے فرمایا:

’’کہ ہم تو (رسول اللہﷺ کے دور میں) اس وقت نماز پڑھ کر فارغ ہو جایا کرتے تھے اور وہ اشراق کا وقت تھا۔‘‘

عیدالاضحی کی نماز نسبتاً جلدی اور عیدالفطر کی نماز قدرے دیر سے پڑھنا مسنون ہے۔

’’رسول اللہﷺ نے نجران کے گورنر عمرو بن حزم کو لکھ کر بھیجا کہ عیدالاضحی کی نماز جلدی اور عیدالفطر کی نماز تاخیر سے پڑھاؤ اور (خطبہ عید میں) لوگوں کو نیکی کی نصیحت کرو۔‘‘

جب مسلمان عیدالفطر کے دن عیدگاہ میں تکبیرات کہتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ (سب کچھ جانتے ہوئے) خوش ہو کر فرشتوں سے سوال فرماتے ہیں:

’’اُن مزدوروں کا بدلہ کیا ہونا چاہیے جنہوں نے اپنے کام پورے کر دئیے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے معبود‘ آقا! ان کا بدلہ یہی ہے کہ انہیں پوری پوری مزدوری دی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے فرشتو! تم گواہ رہو کہ میں ان کے رمضان کے روزوں اور قیام کی وجہ سے ان پر راضی ہو گیا ہوں اور ان کو بخش دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو! تم مجھ سے سوال کرو، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! اس اجتماع میں دنیا اور آخرت کی جو بھلائی مانگو گے تمہیں دوں گا اور تمہارا خصوصی خیال رکھوں گا۔ مجھے اپنی عزت کی قسم! جب تک تم مجھ سے ڈرتے رہو گے میں تمہاری خطاؤں سے درگزر کرتا رہوں گا۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں میں ذلیل و رُسوا نہ کروں گا (عید گاہ سے) لوٹ جاؤ، میں نے تم سب کو بخش دیا۔ تم نے مجھے راضی کرنا چاہا‘ میں تم سب سے راضی ہو گیا۔ (الترغیب والترہیب جلد دوم)

سرکار دو عالمﷺ کی سنت یہ ہے کہ جس راستے سے نمازِ عید کے لیے جایا جائے واپسی پر دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔

’’حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ عید کے دن عیدگاہ میں آنے جانے کا راستہ تبدیل فرمایا کرتے تھے۔‘‘

عید ایک دینی اور اسلامی تہوار ہے۔ عید صرف زیب و زینت اور عمدہ اکل و شرب کا نام نہیں ہے بلکہ عید کی حقیقی خوشی اُنہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنہوں نے عید کے دن اللہ تعالیٰ سے گناہ بخشوائے اور آئندہ نیک اعمال بجا لانے کا عہد کیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -