عیدالفطر، مذہبی وملی تہوار

عیدالفطر، مذہبی وملی تہوار

  

سینیٹر پروفیسر ساجد میر

قوموں کے تہوار دراصل ان کے عقائد و تصورا ت اور ان کی تاریخ و روایات کے ترجمان اور ان کے قومی مزاج کے آئینہ دار ہوتے ہیں، اسی لیے ظاہر ہے کہ اسلام سے پہلے اپنی جاہلیت کے دور میں اہل مدینہ جو دو تہوار مناتے تھے وہ جاہلی مزاج، تصورات اور جاہلی روایات ہی کے آئینہ دار ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺنے بلکہ حدیث کے صریح الفاظ کے مطابق خود اللہ تعالیٰ نے ان قدیمی تہواروں کو ختم کرا کے ان کی جگہ عید الفطر اور عیدالااضحیٰ دو تہوار اس امت کے لیے مقرر فرما دیے جو اس کے توحیدی مزاج اور اصول حیات کے عین مطابق اور اس کی تاریخ وروایات اور عقائد وتصورات کے پوری طرح آئینہ دار ہیں۔

ظہور اسلام کے ایک عرصہ بعد جب ہجرت کا عظیم واقعہ رونما ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کو دیکھا کہ وہ سال میں دو دن تہوار(غیر اسلامی ) مناتے ہیں۔ آپ ﷺنے دریافت فرمایا : یہ دو دن کیسے ہیں؟ اہل مدینہ نے بتایا یہ دو دن ہماری مسرت اور خوشی کے دن ہیں۔ ہم ان دنوں میں کھیل کود کرتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم کو یوم الاضحٰی اور یوم الفطر کے دو دن عطا فرمائے ہیں جو تمہارے کھیلنے کودنے اور خوشی منانے کے ان جاہلیت کے دنوں سے بہتر ہیں۔ اس طرح حضرت شارع نے اپنے اس فرمان سے عہدِ جاہلیت کی یادگار تقریباب و رسومات کا یکسر قلمع و قمع فرما کر اہل مدینہ و تمام مسلمانوں کو ’’عیدین سعیدین ‘‘ دو بابرکت عیدوں۔۔۔ کا تحفہ عطا فرمایا۔

’’ عید الفطر‘‘ کا لفظ دو لفظوں عید اور الفطر سے مرکب ہے۔ اس کی تشریح اس طرح ہے کہ عید کا مادہ سہ حرفی ہے اور وہ ہے۔ عود عادً یعود عوداً وعیاداً کا معنی ہے لوٹنا، پلٹنا واپس ہونا ، پھر آنا چونکہ یہ دن ہر سال آتا ہے اور اس کے لوٹ آنے سے اس کی فرحت و مسرت اور برکت و سعادت کی گھڑیاں بھی اس کے ساتھ لوٹ آتی ہیں اس لیے اس روز سعید کو عید کہتے ہیں۔

تہوار مختلف قوموں کی تہذیب و معاشرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ہر قوم اپنے معتقدات اور رسوم و رواج کے مطابق اپنے تہوار مناتی ہے۔ بعض قوموں کے تہوار ظاہری آرائش و زیبائش اور مال و دولت کی نمائش سے عبارت ہوتے ہیں اور کچھ قوموں کے تہوار قومی قوت و شوکت اور قومی استقلال و استحکام کا اظہار کرتے ہیں۔اسلام ایک دین فطرت اور مکمل ضابط حیات ہے اور فرد اور معاشرے ، دونوں کی اصلاح و فلاح کا ذمہ داربھی، اس نے ملتِ اسلامیہ کو دو ایسے اسلامی تہواروں اور دینی جشنوں سے سرفراز کیا ہے جو فرزاندانِ اسلام کی خوشی ، روحانی بالیدگی ، انفرادی مسرت اور اجتماعی شوکت کا مظہر ہیں۔اسلام میں عیدالفطر اور عیدالاضحی مسلمانوں کے دو ہی مذہبی وملی تہوار ہیں۔

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمکہ سے ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ (جن کی کافی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کرچکی تھی) دو تہوار منایا کرتے تھے اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا کہ یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت اور حیثیت ہے؟ (یعنی تمہارے ان تہواروں کی کیا اصلیت اور تاریخ ہے)؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم جاہلیت میں (یعنی) اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے (بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلہ میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر کردیے ہیں (اب وہی تمہارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں) یوم عیدالفطر اور یوم عیدالااضحیٰ۔ (سنن ابی داؤد)

عید الفطر کا دن ہماری زندگی میں سال میں ایک بار آتا ہے، آپ شریعت کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے اس دن کو یاد گار بنا سکتے ہیں۔ اس دن نہائیں، دھوئیں، جو کپڑے سب سے اچھے ہوں وہ پہنیں، خوشبو لگائیں، کھائیں پیءں۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عید کے دن ہمارے گھر کچھ بچیاں بیٹھی تھیں اور جنگ بعاث سے متعلق کچھ اشعار گار رہی تھیں اسی دوران حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اللہ کے رسول کے گھر میں یہ کیا گایا جارہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس وقت ہماری طرف سے کروٹ لئے لیٹے ہوئے تھے (حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا) اے ابوبکر انہیں گانے دو، ہر قوم کے لیے تہوار کا ایک دن ہوتا ہے آج ہماری عید کا دن ہے (بخاری: ۱/مسلم) اسی طرح روایات میں ہے کہ عید کے دن کچھ حبشی بازی گر کرتب دکھلا رہے تھے، آپ نے خود بھی وہ کرتب دیکھے اور حضرت عائشہؓ کو بھی دکھلائے، جب حضرت عائشہؓ یہ تماشہ دیکھتے دیکھتے تھک گئیں تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھا اب چلو (مسلم: ۲/۶۰۷، رقم الحدیث: ۸۹۲) آج ہم عید کو آزادی کا دن سمجھ کر ہرطرح کی خرافات میں مبتلا ہوجاتے ہیں، عید کے چاند کا اعلان ہوتے ہی واقعی یسا محسوس ہوتا ہے کہ شیطان کْھل چکا ہے، جشن عید کے نام پر ہر وہ کام کیا جاتا ہے جس کی عام دنوں میں بھی اجازت نہیں ہے چہ جائیکہ وہ کام عید کی رات یا عید کے دن کئے جائیں۔

مسلمان اس روزبلند آوازسے تکبیریں پڑھتے ہیں۔ فضائیں تحمید و تقدیس اور تکبیر و تہلیل کی روح پرور صداؤں سے گونجتی سنائی دیتی ہیں۔ عیدگاہوں اور کھلے میدانوں میں نماز عید کے لیے مسلمانوں کے اجتماعات ملی شان و شوکت کے نئے ولولے پیدا کرتے اور’’ شکو ہ ملک و دیں‘‘ کے دلنواز مناظر ، قلب و نظر کی تسکین و تمکین کا باعث بنتے ہیں۔

ہمیں عیدالفطر کے اس عظیم الشان دن کی مناسبت سے وطن عزیز کو مستحکم اور پرامن بنانے کے لیے تجدید عہد کرنا ہو گا۔ یہ امرحوصلہ افزا ہے کہ وطن عزیز کو مشکلات سے نجات دلانے کے لیے سیاسی وعسکری قیادت متحد دکھائی دیتی ہے۔ دہشت گردی کے ناسور اور ملک دشمن عناصر کے قلع قمع کے لیے قومی یکجہتی کی عظیم الشان مثال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تاہم ابھی کراچی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے وقت درکار ہے۔ پاک فوج اور رینجرز کی مدد سے کافی حد تک بہتری آچکی ہے۔سندھ حکومت کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ اپنانا ہو گی۔عید کا پرمسرت موقع جہاں ہمیں ایثار، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے وہیں ہمیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ ہمیں محکوم لاچار اور پسے ہوئے طبقے کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری کا سامنا ہت علاوہ ازیں ،مذہبی انتہاپسندی وفرقہ واریت ملک میں مثالی امن اور معاشی خوشحالی کے راستے کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -