چینی وزیر خارجہ کا دورہ ،پاکستان کے داخلی سیاسی عدم استحکام کو روکنے کی کا وش!

چینی وزیر خارجہ کا دورہ ،پاکستان کے داخلی سیاسی عدم استحکام کو روکنے کی کا وش!

  

اسلام آبادسے تجزیہ سہیل چودھری

پاکستان کی داخلہ و خارجہ صورتحال کے تناظرمیں چینی وزیرخارجہ وانگ ژی کے دورہ پاکستان کی ٹائمنگ غیرمعمولی اہمیت کی حامل نظرآرہی ہے ایک ایسے وقت میں جہاں ملک داخلی لحاظ سے سیاسی انتشار اور محاذ آرائی کی جانب تیزی سے گامزن ہو پانامہ کیس کی بدولت ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی تفریق حکومت کو عدم استحکام کی جانب دھکیل رہی ہو اور دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امریکی غلطیوں اور ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کیلئے چارج شیٹ تیارکررہی ہو تو ان تغیرات میں ہچکولے کھاتے ہوئے ملک کا چین کے وزیرخارجہ کا عید کی چھٹیوں کو خاطرمیں نہ ہوتے ہوئے دورہ یقیناًایمرجنسی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے ہی ممکن ہوا ہے کیونکہ عالمی سطح پر اور خطے میں چین کے مفادات کا ایک بڑاحصہ پاکستان کے استحکام سے جڑا ہوا ہے چینی وزیرخارجہ کی اس حوالے سے صدرپاکستان ممنون حسین سے ملاقات کے دوران ان سے ہونیوالی گفتگو ایک اہم پیغام کی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ چینی وزیرخارجہ خارجہ وانگ ژی افغانستان اور اسلام آباد کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کیلئے ایک اہم ’’بروکر‘‘کے طورپر پاکستان آئے ہیں کیونکہ چینی قیادت صدق دل سے یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل خطے کے سٹیک ہولڈرز ہی بہتر طورپرنکال سکتے ہیں جبکہ افغانستان بھی بڑھتی ہوئی چینی اتصادیات سے بہرہ مند ہونیکا خواہشمند ہے اور کابل بیجنگ کی طرف بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اس بنا پر چین اپنے اس اثرورسوخ کو پاکستان اور افغانستان کے مابین معاملات کو دوطرفہ مذاکرات سے حل کرنے کیلئے استعمال کررہا ہے چینی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان کا ایک پہلو یہی ہے جبکہ دوسرا رخ پاکستان کے داخلی سیاسی عدم استحکام کو روکنے کی ایک کاوش کے طورپربھی نظرآرہا ہے کیونکہ چینی وزیرخارجہ نے صدرمملکت ممنون حسین سے ملاقات میں برملا اس امرکا اعتراف کیا کہ وزیراعظم محمدنوازشریف کی قیادت میں پاکستان نے گزشتہ تین چارسال میں غیرمعمولی معاشی ترقی کی ہے جو ہرلحاظ سے متاثرکن ہے علاوہ ازیں انہوں نے پاکستانی قیادت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلی پنجاب شہبازشریف سے اپنی ملاقات کی گفتگو کا بھی صدرمملکت سے ملاقات میں تذکرہ کیا انکا کہنا تھا کہ پاکستان2018کے آخر تک بجلی میں خودکفیل ہوجائیگا اور انفراسٹرکچر کے بیشتر منصوبے اپنی مقررہ مدت سے قبل ہی مکمل ہورہے ہیں جوکہ ایک غیرمعمولی بات ہے چینی وزیرخارجہ کی جاب سے اس طرح سے فرینک ریمارکس سے ظاہرہوتا ہے کہ چین نے اپنا وزن پاکستان کی موجودہ قیادت کے پلڑے میں ڈال دیا ہے چین نے ایک طرح سے پاکستان کو واضح طور پر پیغام دیا ہے ،چینی وزیرخارجہ نے پاکستا ن کی آنیوالی سالگرہ کی بھی مبارکباد دی اور باور کرایا کہ چین پاکستان کی آنیوالی سالگرہ کی تقریبات میں بھرپور جوش و جذبے سے شرکت کریگا ۔

مزید :

تجزیہ -