پاکستان فرنیچر کونسل کا جنگلات کیلئے رقبہ 25فیصد تک بڑھانے کیلئے زور

پاکستان فرنیچر کونسل کا جنگلات کیلئے رقبہ 25فیصد تک بڑھانے کیلئے زور

  

اسلام آباد (اے پی پی)پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی ) نے حکومت اورنجی شعبہ پر زور دیا ہے کہ پاکستان میں فرنیچر کی صنعت کی خام مال کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے جنگلات زیر کاشت رقبہ کو 5فیصد سے 25فیصد تک بڑھانے کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔ پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فرنیچر ،کاغذ اور دیگر صنعتوں کو لکڑی کے خام مال کی قلت کے مسائل درپیش ہیں جس سے نہ صرف انکی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی معیشت کو زیادہ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے فرنیچر کی صنعت پر زور دیا کہ نئی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ سے برآمدی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مستحکم بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنے حصہ کو بڑھا کر ہم مسائل پر قابو پاسکتے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ صنعت کو درپیش مسائل کے خاتمہ کیلئے روز نئی نئی ایجادات اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مصنوعات کی تیاری پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ لکڑی کی نامناسب فراہمی کی وجہ سے چپ بورڈ کی لیمینیٹیڈ شیٹوں سے تیار کردہ خوبصورت اور سستے فرنیچر سے مقامی مارکیٹیں بھری ہوئی ہیں جو شیشم کی لکڑی سے تیار کردہ فرنیچر کے مقابلے میں کم پائیدار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شیشم کی لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے اب شیشم سے صرف مخصوص گاہکوں کیلئے ہی فرنیچر تیار کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 4پیسسز پر مشتمل بیڈ روم فرنیچر ایک لاکھ روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے ، جو چپ بورڈ سے تیار کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چپ بورڈ سے تیار کیاجانے والا فرنیچر سستا ہونے کے باعث ملک کی تمام مارکیٹیں اس سے بھری ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیشم کی لکڑی کا فرنیچر مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگ چپ بورڈ اور روس سے درآمد کی گئی سستی دیار کے فرنیچر کی خریداری میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں لکڑی سے تیار کی جانے والی کرسی کی قیمت 3500روپے ہے جبکہ اس پر کاروونگ کے کام سے اس کی قیمت دس ہزار روپے تک ہے ، زیادہ تر لوگ سستے فرنیچر کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میدانی اور پہاڑی علاقوں سمیت دیگر مختلف مقامات پر شجر کاری کی ا شد ضرورت ہے اور فرنیچر کی صنعت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی خام مال کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نجی اداروں اور حکومت کو چاہیئے کہ ملکر شجر کاری کے حوالے سے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے شعبہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ کام کر رہے ہیں جبکہ جنگلات کے زیر کاشت رقبہ میں کمی کی وجہ سے جنگلات مجموعی قومی پیداوار میں صرف 0.3فیصد کے حصہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فرنیچر کی صنعت میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں جس سے نا صرف مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ بلکہ روز گار کی فراہمی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے دستکار اور ہنر مند لکڑی کے ایک ٹکڑے کو زندگی بخش دیتے ہیں اور انکی تیار کردہ مصنوعات کی دنیا بھر میں مانگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر کی صنعت کی کارکردگی اور برآمدات کے فروغ کیلئے جنگلات کے زیر کاشت رقبہ کو 25فیصد تک بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے ۔

مزید :

کامرس -