زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے ویلیو ایڈیشن کی شرح میں اضافہ ممکن ہے،احمد جواد

زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے ویلیو ایڈیشن کی شرح میں اضافہ ممکن ہے،احمد ...

  

اسلام آباد (اے پی پی) وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان ( ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ ہارٹی کلچر کے شعبہ میں گزشتہ کئی سالوں سے ویلیو ایڈیشن کا فقدان ہے، زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کی شرح میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،سال 2005-06ء کے دوران شعبہ میں ویلیو ایڈیشن کا تناسب 14.50 فیصد تھا جو 2015-16ء میں 11.30 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔ اتوار کو ’’اے پی پی‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران احمد جواد نے ہارٹی کلچر کے شعبی کی ویلیو ایڈیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ میں قبل از کاشت اور بعد از برداشت کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کی شرح میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن اور ویلیو چین کے ذیلی شعبوں میں خصوصی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ زرعی شعبہ کو حقیقی طور پر قومی معیشت کی ترقی کا انجن بنایا جا سکے جس سے غربت کے خاتمہ میں نمایاں مدد حاصل ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے بتایا کہ چین، چلی، تنزانیہ اور بھارت سمیت دیگر کئی ممالک نے زرعی اور ہارٹی کلچر کے شعبہ کی ویلیو ایڈیشن پر سرمایہ کاری سے خاطر خواہ نتائج حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ایک ملین کپاس کی گانٹھوں سے 6 ارب ڈالر کما رہا ہے جبکہ پاکستان 1.5 ارب ڈالر کماتا ہے۔ احمد جواد نے کہا کہ زرعی شعبہ میں ویلیو ایڈیشن کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ضرورت ہے جس سے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 30 ملین ٹن تازہ سبزیاں اور پھل پیدا کر رہا ہے تاہم معیار کے بعض مسائل کے باعث ان کو عالمی منڈیوں میں سپلائی نہیں کر سکتا جس سے زر مبادہ کا حصول متاثر ہو رہا ہے۔ احمد جواد نے حکومت اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ نئی تجارتی منڈیوں کی تلاش کیلئے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز کو خصوصی ہدایات دی جائیں تاکہ شعبہ کی برآمدات کو بڑھا کر قومی معیشت کی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید :

کامرس -