دفاتر میں کام کرنے والے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، تحقیق

دفاتر میں کام کرنے والے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، تحقیق

  

اوٹاوا (اے پی پی) کینیڈین ماہرین نے کہا ہے کہ دفاتر میں کام کرنے والے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق کینیڈا کی ایلبرٹا یونیورسٹی کے ماہرین کی تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دفاتر میں کام کرنے والے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دفاترمیں کام کرنے والے افراد میں سے 91 فیصد تک میں وٹامن ڈی کی کمی دیکھی گئی ہے جس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ سورج کی روشنی میں صرف صبح اور شام میں نکلتے ہیں جب کہ زیادہ وقت دفتر میں گزارتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں سورج کی تپش میں کمی ہوجاتی ہے جس کے باعث اس وقت سورج کی روشنی لینے والے افراد کے جسم میں وٹامن ڈی نہیں بن پاتا۔

جبکہ وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہے اور دل کے امراض سمیت کینسر کا بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔تحقیق میں شامل ڈاکٹر سیبسٹین اسٹروب کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتیجے میں پتا چلا ہے کہ انسان کا کام اس میں وٹامن ڈی کی مقدار کو بڑھانے یا گھٹانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ جو لوگ دفاتر میں بیٹھے بیٹھے کام کرتے ہیں ان میں باہر کام کرنے والوں کے مقابلے میں 78 فیصد وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔انہوں نے تجویز کیا کہ مچھلی، گوشت اور انڈوں سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن سورج کی شعاعوں سے 90 فیصدوٹامن ڈی بنتا ہے۔ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین اوربوڑھے افراد میں بھی وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے جب کہ جن نوجوانوں میں یہ کمی ہوتی ہے ان کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -