جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ بارہویں قسط

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ بارہویں قسط
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ بارہویں قسط

  

اس بار آنے والے ایک سے زیادہ معلوم ہو رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد حوالات کا دروازہ کھلا اور تین سپاہی اندر آگئے۔

’’چل اٹھ۔۔۔! تجھے صاحب نے بلایا ہے‘‘ ان میں سے ایک گالی دے کر بولا۔

’’تم لوگ ٹھیک نہیں کر رہے ہو، مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں؟ میرے بڑے بھائی صاحب وزیر اعلیٰ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ انہیں جب معلوم ہوگا کہ تم لوگوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے تو تم سب کی شامت آجائے گی۔‘‘ میں کھڑا ہوگیا۔

’’ہاں۔۔۔ہاں تو صدر پاکستان کا سالا ہے ہم جانتے ہیں۔ تیرا بھائی تو جو کچھ کرے گا بعدمیں دیکھی جائے گی جو تیرے ساتھ ہمارے ’’صاحب‘‘ نے کرنا ہے تو اس کی خیر منا۔ تو نے صاحب کے استاد پر ہاتھ اٹھایا ہے جس کے لئے اس نے اپنا مذہب تک بدل لیا۔ وہ اس کی اپنے باپ سے بھی زیادہ عزت کرتا ہے لگتا ہے تیری موت کا وقت آگیا ہے۔ صاحب تو اتنا ظالم ہے کہ معمولی چور کو مار مار کر قبر میں اتار دیتا ہے تو نے جرم ہی بہت بڑا کیا ہے بچو!‘‘ ایک سپاہی جو ان سب سے زیادہ چالاک لگتا تھا ہنس کر بولا۔ میں ان کے ساتھ باہر نکل آیا۔ وہ مجھ لے کر ایک بڑے سے کمرے میں آگئے جہاں صرف ایک کرسی کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ ہاں ۔۔۔دیواروں پر عجیب و غریب قسم کی رسیاں اور لاٹھیاں لٹکی ہوئی تھیں۔ کمرے کے وسط میں چھت کے ساتھ ایک رسی لٹکی نظر آئی۔ اندر داخل ہوتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہ کمرہ تھانے کا ’’ٹارچر روم‘‘ ہے۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ گیارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرے ذہن میں پولیس کی روایتی تفتیش کے بارے میں سنی سنائی باتیں گھومنے لگیں، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ دو سپاہیوں نے مجھے زبردستی کرسی پر بٹھا دیا۔ تیسرے نے پیچھے سے آکر میرے دونوں ہاتھ ایک رسی سے باندھ دیے۔ اسی طرح دونوں ٹانگوں کو کرسی کے پایوں کے ساتھ باندھ دیا۔ کرسی فرش میں گڑی ہوئیت ھی میرے ہلانے جلانے کے باوجود نہ ملی۔ میں نے ایک بار پھر ان کو دھمکایا اور ان پر کچھ اثر نہ دیکھ کر ان کی رقم کی آفر کی۔ میری اس بات پر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک نے آگے بڑھ کر میری تلاشی لینی شروع کر دی۔ پینٹ کی جیب سے پرس نکال کر اسے کھولا۔ خوشی سے اس کے منہ سے کلکاری نکلی کیونکہ پرس میں اچھی خاصی رقم موجود تھی۔ اس نے معنی خیز نظروں سے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور ہنسنے لگا۔

’’یہ ساری رقم تم رکھ لو اور مجھے یہاں سے جانے دو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ صرف تمہارے تھانیدار کے خلاف کارروائی ہوگئی تم لوگوں کو معافی مل جائے گی کیونکہ مجھے معلو م ہے کہ تم صرف اس کے حکم کے غلام ہو‘‘ میں نے اس سپاہی کی طرف دیکھا جس نے میری جیب سے پرس نکالا تھا۔

’’رقم تو ویسے ہی ہماری ہوگئی ہے۔‘‘ وہ ہنسا’’جہاں تک تجھے چھوڑنے کا سوال ہے اسے بھول جا ۔۔۔تیرا بھائی کچھ بھی کر لے وہ صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ صاحب کا استاد جسے تھپڑ مار کر تو نے اپنے لئے موت خریدی ہے بہت بڑا جادوگر ہے۔ اگرہم نے تجھے چھوڑ دیا تو وہ تیرے بدلے میں ہمیں پھانسی پر چڑھا دے گا‘‘ اسی سپاہی نے جواب دیا باقی دونوں سپاہی خاموشی سے ایک طرف کھڑے تھے۔ میں کرسی سے بندھا بیٹھا تھا۔ اس کمبخت نے رسیاں اتنی سختی سے باندھی تھیں کہ میرا دوران خون رک گیا۔ بازوؤں اور ٹانگوں میں شدید درد ہو رہا تھا۔ میں نے ایک بار پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن نتیجہ صفر رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ خبیث صورت تھانے دار اور سادھو کمرے میں داخل ہوئے۔ سادھو تو ایک طرف کھڑا ہوگیا جبکہ تھانے دار بالکل میرے سامنے پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں سٹک تھی۔ وہ قہر آلود نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔

’’تو نے میرے استاد کی بے عزتی کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ استاد جی چاہتے تو تجھے ایک پل میں جہنم میں پہنچا دیتے۔ لیکن انہوں نے دیوی سے اجازت لینا تھی جس میں تھوڑا وقت لگ گیا۔ دیوی نے تجھے مارنے کی اجازت تو نہیں دی لیکن۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میری موت کی اجازت نہ پا کر پیچ و تاپ کھا رہا ہے’’لیکن میرا تجھ سے وعدہ ہے کہ آج کے بعد تو کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو پائے گا ‘‘ اس نے دروازے کی طرف دیکھ کر آواز دی ’’رامو۔۔۔!اندر آجا‘‘

ایک سیاہ کالا پہلوان اندر آگیا۔ سات فٹ کے قریب قد اور سانڈ کی طرح پلا ہوا۔ وہ سردی کے باوجود ایک دھوتی اور بنیان میں ملبوس تھا۔ بازوؤں کی مچھلیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کسرت کرنے کا عادی ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا اور دوسرے ہاتھ میں بید نما لمبی اور پتلی سی چھڑی تھی جس کی لمبائی چار فٹ کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ اندر آکر سب سے پہلے سادھو کے سامنے جھکا اور اپنے دونوں ہاتھ ماتھے سے لگا کر بولا۔

’’گرو جی !آگیا ہو تو میں اپنا کر یہ آرمبھ (کام شروع) کروں؟‘‘ سادھو نے ایک قہر بھری نظر میرے اوپر ڈالی پھر اسے سر کے اشارے سے اجازت دے دی۔ وہ چلتا ہوا میرے پاس آیا اور تن کر میرے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے کسی درندے کی آنکھوں میں اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر ہوتی ہے۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا کوڑے والا ہاتھ بلند ہوا، میں نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں، میری بری طرح کانپ رہا تھا۔ اچانک میرے نتھنوں سے گلاب کی تیز خوشبو ٹکرائی۔ میں آنکھیں بند کیے اس انتظار میں تھا کہ ابھی کوڑا میرے جسم پر پڑے گا کہ معاً مجھے رامو کی کربناک چیخ سنائی دی۔ جلدی سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ناقابل یقین منظر میرے سامنے تھا۔ سانڈ نما رامو ہوا میں سر کے بل الٹا لٹکا ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ کوڑا اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا جس کا سرا زمین کو چھو رہا تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ ابھی ہم سب اسے دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ایک دھماکے سے سر کے بل زمین پر آرہا۔ اس کا سر پھٹ گیا۔ جس سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ پانی سے نکل مچھلی کی طرح زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ پھر اس کے منہ سے بھی گاڑے خون کا اخراج ہونے لگا۔ گلے سے ذبح ہوتے بکرے جیسی خرخراہٹ نکل رہی تھی۔

کمرے میں موجود ہر شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے سادھو کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ وہ چاروں طرف سر گھما کر یوں دیکھ رہا تھا۔ اب سانڈ نما رامو کسی مردہ چھپکلی کی طرح زمین پر پڑا تھا غالباً روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ اچانک فضاء میں ایک اور چیخ گونجی۔ یہ اس سپاہی کی تھی جس نے میری جیب سے پرس نکالا تھا۔ اب وہ زمین سے آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں وہ خوفزدہ نظروں سے چارو طرف دیکھ کر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ اسے بھی کسی نادیدہ وجود نے گردن سے پکڑ کر ہوا میں معلق کر دیا تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ کچھ دیر وہ ہوا میں لٹکا رہا پھر دھڑام سے زمین پر آگرا۔ اس کا حشر بھی رامو جیساہوا۔ تھوڑی دیر وہ منہ سے خون خارج کرتا رہا پھر ساکتہوگیا۔ سادھو نے اپنے دو چیلوں کا یہ حشر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ کمرے میں موجود باقی دو سپاہی چیختے ہوئے باہر بھاگ گئے۔ تھانے دار اب مجھ سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا تھا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے استاد کے قریب ہوگیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے بھی خوف جھانک رہا تھا۔ میں سخت حیران تھا۔ سادھو کچھ دیر تذبذب کے عالم میں کھڑا رہا پھر اسکی غضبانک آواز کمرے میں گونجی۔

’’تو بھی دو شبد (لفظ) جانتا ہے۔ پرنتو تجھے میری شکتی سے جانکاری نہیں ہے۔ میں چاہوں تو اسی سمے تجھے نرک میں بھیج دوں پرنتو۔۔۔مجھے دیوی کا دھیان ہے۔ اس کی آگیا کا پالن کرنا میرا دھرم ہے۔۔۔پرنتو تجھے کشٹ نہ دینا اب میرے بس سے باہر ہے ‘‘ یہ کہہ کر اس نے منہ ہی منہ میں کچھ بدبدانا شروع کردیا۔ اس کے موٹے بھدے ہونٹ ہل رہے تھے۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ میری آنکھوں نے ایک اور حیرتناک منظر دیکھا۔ تھانے دار ہاتھ میں چھڑی لئے ایک طرف کھڑا اپنے استاد کی طرف دیکھ رہا۔ اچانک اس کے ہاتھ سے چھڑی نکلی اور اسی کے جسم پر پڑنے لگی۔ چھڑی مارنے والا ہاتھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن کوئی چھڑی سے تھانے دار کی پٹائی کر رہا تھا۔ چھڑی ہوا میں لہرا لہرا کر اس کے جسم کے مختلف حصوں پر پڑ رہی تھی۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔ تیرہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

رادھا -