فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 131

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 131
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 131

  

ہماری خوش قسمتی دیکھئے کہ کچھ عرصہ قبل ڈھاکا کی فلم ’’چکوری‘‘ ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ہوگئی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن دونوں بالکل نئے تھے۔ یہ ندیم اور شبانہ کی پہلی فلم تھی۔ ندیم گلوکار بننے کیلئے ڈھاکا گئے تھے مگر قسمت نے انہیں اداکار بنادیا اور اداکار بھی ایسا کہ پہلی ہی فلم سے راتوں رات سپر اسٹار بن گئے۔ اور ملک کے دونوں حصوں میں ان کی شہرت اور مقبولیت پھیل گئی۔ ندیم اس وقت کے دوسرے ہیروز کے مقابلے میں کم عمر بھی تھے اور قد و قامت اور معصوم چہرے کی وجہ سے کچھ اور بھی نو عمر نظر آتے تھے۔ مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ پیش آیا کہ ’’چکوری‘‘ کے فلم ساز اور ہدایت کار احتشام صاحب ان کے اتالیق اور مشیر بن گئے۔ وہ دراصل انہیں مشرقی پاکستان میں اپنی فلموں تک محدود رکھنا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہیں مغربی پاکستان کی فلمی صنعت کی ہوا لگ گئی تو پھر وہ ان کے کام کے نہیں رہیں گے۔ (چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا) اس لئے وہ ندیم کو مغربی پاکستان کے فلم سازوں اور یہاں کے فلمی ماحول سے ڈراتے رہتے تھے۔

جس طرح مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی اسی طرح پاکستان کے کسی بھی حصے کا کوئی اداکار اپنے روشن مستقبل کیلئے لاہور آئے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 130 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ندیم کو مزید بندشوں میں جکڑنے کیلئے احتشام صاحب نے بعد میں ان سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کردی تھی۔ یہ کوئی کاروباری شادی نہیں تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور احتشام صاحب ندیم کو پسند کرتے تھے۔ وہ خوش اخلاق، تعلیم یافتہ اور مہذب نوجوان تھا اور چکوری کی ریلیز کے بعد صف اول کے اداکاروں کی صف میں آکھڑا ہوا تھا۔

قصہ مختصر یہ کہ ندیم نے مغربی پاکستان کی فلموں میں بھی کام شروع کردیا۔ کراچی اور لاہور میں ہماری بھی ان سے ملاقات ہوئی اور ہمیں وہ بہت اچھے لگے۔ دوستی تو نہیں مگر ان سے بہت اچھے مراسم قائم ہوگئے۔ وہ شبنم کے گھر پر یا دوسری فلمی محفلوں میں اکثر مل جایا کرتے تھے اس طرح بے تکلفی بھی ہوگئی۔ یہ ۱۹۶۹ء کی بات ہے جب ہم نے ’’سزا‘‘ کی کہانی لکھنی شروع کی تھی۔ ندیم کو دیکھا تو جیسے ہمارے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ ہم نے انہیں اپنی اس آنے والی فلم کیلئے سائن کرنے کی ٹھان لی۔ اگلی بار ان سے لاہور میں ملاقات ہوئی تو ہم نے ان سے اپنی فلم کا تذکرہ کیا اور انہوں نے اس میں کام کرنے کی ہامی بھرلی۔ فلم کی شوٹنگ شروع ہونے میں آٹھ نو ماہ کا عرصہ تھا مگر ہم نے ان سے اسی وقت فلم کی شوٹنگ ڈیٹس طے کرلیں اور اطمینان کا سانس لیا۔۔۔ کہ ایک بہت بڑا مرحلہ طے ہوگیا۔ ندیم ہر لحاظ سے اس کردار کیلئے بہترین انتخاب تھے۔ خوش شکل، نوخیز، نو عمر، معصوم صورت اور سب سے بڑھ کر یہ بہت اچھے اور سپرہٹ اداکار۔ معاوضے کی بات زبانی طے ہوگئی اور ہم نے انہین بتادیا تھا کہ ایڈوانس دینے کے قائل نہیں ہیں۔ فلم کی شوٹنگ شروع ہوگی تو وہ جس طرح کہیں گے انہیں ادائیگی کردی جائے گی۔ ندیم بہت وضع دار ور بامروت انسان ہیں۔ اس وقت کچھ زیادہ ہی بامروت تھے فوراً مان گئے۔

اب ہم نے دوسرے اداکاروں کے انتخاب کی طرف توجہ دی۔ ہیروئن کیلئے ہماری نگاہ روزینہ پر پڑی۔ روزینہ نے اس وقت چند فلموں ہی میں کام کیا تھا۔ لاہور کی ایک فلم میں سائیڈ ہیروئن کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ کراچی کی ایک دو فلموں میں بھی وہ معاون اداکارہ تھیں۔ وہ طبعاً شوخ اور چلبلی تھیں (اب خدا جانے کیسی ہوگئی ہیں۔ یہ لگ بھگ ۲۵ سال پہلے کی بات ہے) صورت شکل، قد و قامت، جسم کا تناسب سبھی کچھ ٹھیک تھا۔ شوخ مسکراتی ہوئی آنکھیں، چغلی کھاتے ہوئے ہونٹ، فتنوں کو جگا دینے والی چال، شریر مسکراہٹ، خدا جانے کسی فلم ساز نے انہیں ہیروئن کی حیثیت میں کاسٹ کیوں نہیں کیا تھا۔ ہم نے انہیں ہیروئن بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ کراچی میں تھیں۔سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی کے گول چکر کے سامنے ایک فلیٹ میں اپنی بڑی بہن راحیلہ اور والدہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کی والدہ کرسچین تھیں اور وہ بھی ممی کہلاتی تھیں۔ ایمی کی والدہ کے بعد فلمی دنیا میں ’’ممی‘‘ کے نام سے مشہور ہونے والی وہ دوسری ہستی تھیں۔ مگر ایمی کی والدہ کے برعکس وہ کم گو تھیں۔ وہ ہنس مکھ اور محبت اخلاق اور لحاظ والی خاتون تھیں۔ روزینہ اور ممی سے ہماری کئی بار مختلف اسٹوڈیوز میں ملاقات ہوچکی تھی۔ اچھی خاصی بے تکلفی تھی۔

کراچی میں ہم نے فون کیا اور ان کے گھر پہنچ گئے۔ وہ بہت اخلاق سے ملیں۔ ممی بھی شفقت سے پیش آئیں۔ چائے کا دور چلا تو ہم نے موقع پاکر اپنا مدعا بیان کیا۔ انہوں نے پوچھا ’’ہدایتکار تو حسن طارق صاحب ہوں گے؟‘‘

ہم نے کہا ’’ضروری نہیں ہے۔ وہ بہت مصروف ہیں۔ اگر فارغ ہوئے تو وہی ہمارے ڈائریکٹر ہوں گے ورنہ ہم خود یا پھر کوئی اور ہدایت کار ہوگا‘‘۔

انہیں ہدایت کار کے بارے میں زیادہ تشویش نہیں تھی۔ یہی کافی تھا کہ ہم اس فلم کے مصنف اور فلم ساز تھے۔ ہماری دو فلمیں پہلے ریلیز ہوچکی تھیں اور کافی دھومیں مچا چکی تھیں اس لیے ہر کوئی ہم پر توجہ دیتا تھا۔ پھر روزینہ کو تو ہم ہیروئن کا چانس دے رہے تھے۔ وہ بلا حیل و حجت مان گئیں۔معاوضہ بھی طے پا گیا اور ہم نے ان سے ڈیٹس بھی لے لیں۔

ممی نے کہا ’’ارے مسٹر آفاقی! آٹھ مہینے پہلے آپ ڈیٹ لینے کو مانگتا ہے؟‘‘

ہم نے انہیں بتایا کہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس طرح پریشانیوں اور بلاوجہ کی بھاگ دوڑ سے بچ جاتے ہیں۔

انہیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ اگرچہ انہیں یہ بات کچھ عجیب سی لگی بہر طور انہوں نے ایک ڈائری پر یہ ڈیٹس نوٹ کرلیں۔

ہیرو اور ہیروئن کا بنیادی مسئلہ حل ہوگیا تو ہم نے اطمینان کی سانس لی۔ اب لہری صاحب کی باری تھی۔ لہری صاحب اس وقت شادی شدہ تھے مگر ان کے بیوی بچے کراچی میں رہتے تھے۔ لہری صاحب لاہور میں ہمیشہ کنواروں کی طرح اکیلے ہی رہتے۔ بہت زندہ دل، دلچسپ اور باغ و بہار آدمی تھے۔ قدرت ان پر مہربان تھی۔ ان کی فلمیں اوپر تلے ہٹ ہو رہی تھیں۔ مزاحیہ اداکاروں کی قطار میں اپنے منفرد انداز کی وجہ سے وہ سب سے آگے نظر آتے تھے۔ ہمارے مہربانوں میں تھے۔ اکثر ملاقات ہوا کرتی تھی۔ اور ہم دونوں ایک دوسرے کی خوش لباسی کی تعریف کیا کرتے تھے۔ عموماً گفتگو کچھ اس طرح کی ہوتی تھی۔

لہری صاحب ’’واہ آفاقی بھائی! بہت اچھا سوٹ ہے۔ ٹائی کا بھی جواب نہیں ہے۔ جچ رہے ہو آج تو‘‘۔

ہم شکریہ ادا کرکے ان کے لباس کی تعریف کرنے میں لگ جاتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لہری صاحب فلمی صنعت کے چند خوش لباس لوگوں میں سے ایک تھے۔ اصلی زندگی میں بھی وہ سنجیدہ صورت بنا کر بڑی متانت سے فقرے چست کرتے رہتے تھے۔

کبھی وہ تنقید بھی کرتے ’’بہت اچھا سوٹ ہے بھائی صاحب۔ مگر ٹائی کا مزہ نہیں آیا‘‘۔

ہم کہتے ’’کیوں کیا خرابی ہے اس ٹائی میں؟‘‘

وہ سوچتے پھر کہتے ’’ہوں۔ خرابی تو کوئی خاص نہیں ہے مگر کوئی خوبی بھی نہیں ہے۔ ڈیزائن غیر سنجیدہ ہے۔ زیب نہیں دیتا آپ کو‘‘۔

ہم ٹائی کو دیکھ کر سوچ میں پڑجاتے۔

’’ویسے رومال بھی اگر آپ اس کے ساتھ میرون کلر کا ہی لگاتے تو کیا بات تھی۔ خیر یہ بھی گزارہ ہے‘‘۔

ہم مزید سوچ میں پڑجاتے۔

وہ کہتے ’’میرے ایک سوٹ کے ساتھ یہ ٹائی ایسے میچ کرتی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ میں نے بہت ڈھونڈی مگر کم بخت کہیں نہیں ملی‘‘۔

’’تو پھر آپ کی ہماری ٹائی پر نظر ہے؟‘‘ ہم پوچھتے۔

’’ارے نہیں بھائی! ٹائیاں تو آنی جانی چیز ہیں۔ دوستی اور تعلقات کی بڑی اہمیت ہے‘‘۔

اگر اس وقت کہیں سے اقبال یوسف آنکلتے تو وہ فوراً ہم دونوں کے لباس کا ناقدانہ جائزہ لینا شروع کردیتے۔

پھر کہتے ’’ٹھیک ہے۔ اچھا اب ذرا پتلون کا پائنچا اٹھا کر موزے دکھاؤ‘‘۔

ہم دونوں فیشن شو کے ماڈل کی طرح انہیں موزے دکھادیتے۔

’’اوں ہوں‘‘۔ وہ منہ بناکر کہتے ’’بس یہیں مار کھا گئے۔ یار موزوں پر بھی دھیان دیا کرو، ان کا بھی حق ہے تم پر‘‘۔

اس تنقیدی کلب میں اسلم پرویز بھی ایک ممتاز رکن تھے۔ وہ بے حد جامہ زیب اور خوش لباس، خوش اخلاق اور خوش گفتار آدمی تھے۔ وہ داد تو جی کھول کر دیتے تھے مگر نکتہ چینی کے معاملے میں طرح دے جاتے تھے یا پھر بہت نرم الفاظ میں اس طرف توجہ دلادیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں فلمی صنعت میں بہت اچھا اور خوش گوار ماحول تھا۔ لوگ بھی اچھے اور پیارے تھے اس لئے جی لگا رہتا تھا اور وقت بہت اچھا گزرتا تھا۔

ہم نے لہری صاحب کو ٹیلی فون کیا جو ان کے ملازم نے سنا۔ ہم بتا چکے ہیں کہ وہ بڑے اسٹائل میں رہتے تھے۔ ان کے ملازم بھی بہت شائستہ اور تربیت یافتہ تھے۔ ان کی آنکھ کا اشارہ سمجھتے تھے۔ اتنے مؤدب کہ دیکھ کر پرانے انگریزوں کے بٹلر یاد آجاتے تھے۔

ملازم نے ہمارا نام دریافت کیا اور کہا ’’پتا نہیں صاحب، دیکھ کر بتاتا ہوں‘‘۔

ہم نے کہا ’’بھائی دو کمروں کا تو فلیٹ ہے۔ کہاں دیکھو گے؟ ویسے ہی کیوں نہیں بتا دیتے کہ وہ ہیں یا نہیں؟‘‘

کہا ’’ہولڈ کیجئے‘‘ اور فون رکھ کر غائب۔

چند لمحے بعد لہری بھائی کی آواز سنائی دی۔ ملازم نے انہیں بتایا تھا کہ ساقی صاحب کا فون آیا ہے اور وہ غسل خانے سے بھاگے بھاگے چلے آئے تھے۔ ہمارا نام سنا تو بولے ’’اس کم بخت نے ساقی صاحب کا نام بتادیا تو میں غسل چھوڑ کر بھاگا آیا‘‘۔

ہم نے کہا ’’ساقی صاحب کے نام کا غسل سے کیا تعلق ہے؟ اور اگر وہ ہمارا نام بتاتا تو کیا آپ غسل چھوڑ کر نہ بھاگے آتے؟‘‘

سنجیدگی سے کہنے لگے ’’اس صورت میں کم از کم تولیا ضرور لپیٹ لیتا‘‘۔

ہم نے گھر پر ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ وہ ایک لمحے کیلئے سوچ میں پڑگئے پھر کہا ’’ٹھیک ہے۔ آپ ابھی آجائیے۔ ناشتا میرے ساتھ ہی کیجئے گا‘‘۔

ہم نے کہا ’’گیارہ بج رہے ہیں۔ یہ ناشتے کا کون سا وقت ہے۔ ہم تو ناشتا کرچکے ہیں۔

کہنے لگے ’’گیارہ بجے کے ناشتے کی اطبا نے بہت خوبیاں بیان کی ہیں۔ بہر حال۔ آپ آ تو جائیں۔ جو دال دلیا ہوگا حاضر کردوں گا‘‘۔

’’دال دلیا؟‘‘

’’یعنی چائے سگریٹ وغیرہ‘‘۔

وہ ان دنوں گلبرگ کے ایک فلیٹ میں رہا کرتے تھے۔ کچھ دیر بعد ہم وہاں پہنچے تو وہ سوٹ بوٹ پہنے، ٹائی لگائے دلہا بنے بیٹھے تھے۔ چائے کا دور چلا۔ ہم نے ان کو اپنی فلم کے بارے میں بتایا اور کہا کہ لہری بھائی۔ یہ کردار ہم نے خاص طور پر آپ ہی کو ذہن میں رکھ کر لکھا ہے۔

’’ڈیٹس کب چاہیے؟‘‘ انہوں نے پوچھا

ہم نے سات آٹھ ماہ بعد کی تاریخیں بتادیں۔ انہوں نے بڑی نفاست سے سامنے رکھی ہوئی ایک چھوٹی سی کالے رنگ کی خوبصورت ڈائری اٹھائی۔ کچھ دیر اس کا مطالعہ کرتے رہے ۔ ورق الٹتے رہے۔ پھر بولے ’’اوہو، آفاقی صاحب!یہ تو بہت مشکل ہے۔ یہ ڈیٹس تو پہلے ہی کسی نے لے رکھی ہیں‘‘۔

ہم نے کہا ’’ہمارے علاوہ کون سا فلم ساز ہے جو اتنے عرصے پہلے تاریخیں لے لیتا ہے؟‘‘

فرمایا:

فلم سازوں کی کمی نہیں غالب

ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

پھر کہا ’’کی�آپ یہ ڈیٹس تبدیل نہیں کرسکتے؟‘‘

ہم نے کہا ’’ہم ندیم اور روزینہ سے یہی تاریخیں لے چکے ہیں۔ یہ تو بہت گڑبڑ ہوجائے گی۔ اچھا آپ یہ بتائیے کہ یہ تاریخیں آپ نے کون سے فلم ساز کو دی ہیں۔ ہم خود ہی ان سے بات کرلیں گے‘‘۔

کہنے لگے ’’آفاقی بھائی! یہ غیر اخلاقی حرکت ہوگی۔ قطعی غیر کاروباری حرکت ہوگی کہ میں اس فلم ساز پر دباؤ ڈالنے کیلئے آپ کو اس کا نام بتادوں۔ آپ فکر نہ کیجئے۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ آپ کیلئے تو کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘۔

ہم ان کے ڈائیلاگ چپ چاپ سنتے رہے اور دل ہی دل میں مسکراتے رہے۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔ ۔ قسط نمبر 132پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -