میٹرو معاہدہ میں غلطیوں کا انکشاف, بس کمپنی کو کروڑوں کی ناجائزادائیگیاں

میٹرو معاہدہ میں غلطیوں کا انکشاف, بس کمپنی کو کروڑوں کی ناجائزادائیگیاں
میٹرو معاہدہ میں غلطیوں کا انکشاف, بس کمپنی کو کروڑوں کی ناجائزادائیگیاں

  

 لاہور( ویب ڈیسک) حکومت پنجاب کی طرف سے لاہور میٹرو بس چلانے والی کمپنی سے معاہدے کے وقت فاش "غلطیاں" کی گئیں جس سے صوبائی خزانے پر کروڑوں روپے کا ناجائز بوجھ ڈال کرکمپنی کو مالی فوائد پہنچائے گئے ۔

روزنامہ دنیا کی رپورٹ کے مطابق  پنجاب میٹرو بس اتھارٹی نے 2013 میں ترکی کی کمپنی میسرز پلیٹ فارم کو کسی دوسری کمپنی سے مقابلہ کے بغیر لاہور میٹرو بس سروس چلانے کا ٹھیکہ فی بس 360 روپے فی کلو میٹر کے ریٹ پر دیا اوراس وقت کے ڈیزل ریٹ 101 روپے فی لٹر کو معاہدے کی 8 سالہ مدت کیلئے تسلیم کیا جو 2020 تک لاگ ہے ۔ پاکستان سٹیٹ آئل کے ریکارڈسے کی گئی تحقیق سے انکشاف ہوا کہ 103 روپے فی لٹر کا ریٹ صرف چند ہفتے رہا اور اس کے بعد مسلسل ریٹ گرتا رہا لیکن پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کی طرف سے چپکے سے 360 روپے فی کلو میٹر کی ادائیگی جاری ہے ،معاہدے کی مدت فروری 2013 سے جون 2017 تک ڈیزل کا اوسط ریٹ فی لٹر 83 روپے 51 پیسے ریکارڈ کیا گیا ہے ،حکومت پنجاب نے اس وقت شہر میں چلنے والی 64 میٹرو بسوں کوکم از کم سالانہ 70 ہزارکلومیٹر کی ادائیگی کی گارنٹی کا معاہدہ کیا ہے اس لحاظ سے فروری 2013 سے جون 2017 تک ان بسوں میں جلنے والے ڈیزل کے ہر لٹر پر 17 روپے 48 پیسے کمپنی کو اضافی ادا کئے جارہے ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق معاہدے میں کی گئی اس غلطی کے باعث صرف اس ایک مد میں پنجاب کے خزانے پر کم ازکم 33 کروڑ 43 لاکھ روپے کا ناجائز بوجھ لاد دیا گیا ۔

اخبار کے مطابق  پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کے سربراہ سبطین فضل حلیم نے یہ معاملہ تحقیقاتی اداروں تک پہنچنے کی اطلاعات کے بعد راولپنڈی،اسلام آباد (پاکستان میٹرو) کا لاہور والی کمپنی (میسرز پلیٹ فارم) سے فی بس فی کلو میٹر 325 روپے میں معاہدہ کیا ،لیکن اس میں بھی ڈائیوو کمپنی کو میٹرو بس چلانے کا تجربہ کی مدت پوری نہ ہونے کے بہانے فنی بنیادوں پر آؤٹ کردیا گیا، اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ ملتان میٹرو بس سروس کا معاہدہ فی بس 275 روپے فی کلومیٹر میں کوریا کی کمپنی ڈائیوو سے کیا گیا ہے اس ٹھیکے میں پہلی بار ترک اور کوریائی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ کرایا گیا تھا۔دنیا نیوز نے پنجاب فنانشل رولز سے جو تحقیقات کی ہیں اس میں بھی یہ پتہ چلا ہے کہ کسی بھی منصوبے کی لاگت اگر 5 فیصد کی شرح سے کم یا زیادہ ہوجائے تو اس کا فائدہ یا نقصان دونوں پارٹیاں (حکومت اور ٹھیکیدار) شیئر کرتی ہیں لیکن لاہور میٹرو کیس میں ڈیزل سستا ہونے کا فائدہ حکومت کو نہیں مل سکا۔

اخبار کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی میٹرو بس لاہور سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بسیں چلانے والی ترک کمپنی کو روزانہ 71 لاکھ 11 ہزار روپے سبسڈی کی مد میں ادا کئے جارہے ہیں اور ہر بس کو کم از کم روزانہ 200 کلو میٹر سفر کرنا لازمی ہے جس کے لئے فی کلو میٹر 360 روپے کا ریٹ طے کیا گیا ہے لیکن حیران کن طور پر معاہدہ کی سالانہ مدت 365 دنوں کے بجائے 350 دن رکھی گئی ہے جس کے باعث ہر بس 200 کلو میٹر کے بجائے روزانہ 191 اعشاریہ 78 کلو میٹر طے کرتی ہے جس کے بعد اگلے 8 اعشاریہ 22 کلومیٹر ( 19178 سے 200 ) کا کرایہ فی کلو میٹر 360 کے بجائے 252 روپے کا معاہدہ طے ہے مگر میٹرو بس اتھارٹی رعایتی کرایہ ادا کرنے کے بجائے کمپنی کو 360 روپے ہی ادا کئے جارہی ہے اس "مفت بری" کے تحت کمپنی کو روزانہ 12 لاکھ روپے کی ناجائز ادائیگی کی جارہی ہے اور 8 سالہ معاہدہ کے باعث یہ ناجائز ادائیگی جاری رہے گی لیکن راولپنڈی اور ملتان میں کے معاہدوں میں یہ غلطی چپکے سے درست کرکے 365 دن آپریشن لازمی کردیا گیا۔دنیا نیوز نے یہ بھی پتہ چلایا ہے کہ لاہور میٹرو کے تحت چلنے والی بسوں میں ڈیزل کی کھپت کا معیار فی لٹر 1 اعشاریہ ایک کلومیٹر رکھا گیا ہے لیکن درحقیقت یہ بسیں ایک لٹر ڈیزل میں ایک اعشاریہ 7 کلو میٹ کا فاصلہ طے کرتی ہیں اور کمپنی کی طرف سے بسوں کی کارکردگی کے بارے میں غلط اطلاع فراہم کرنے اور پنجاب حکومت کے افسروں کی طرف سے اس پر آنکھیں بندکرکے یقین کرنے سے صوبائی خزانے کو کروڑوں روپے سالانہ اضافی طور پر ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس قسم کے فنانشل مس مینجمنٹ کے مسائل کے باعث منصوبے کی لاگت میں 31 کروڑ 86 لاکھ روپے کی ادائیگیاں 11 ماہ میں منصوبہ مکمل کرنیوالے ٹھیکیدار کمپنیوں کو کردی گئیں۔اس قسم کی ادائیگیوں میں سڑک کی تعمیر کے دوران تارکول کی کم شرح استعمال سے 3 کروڑ 25 لاکھ اور لیبر چارجز کی مد میں اضافی ادائیگی سے صوبائی خزانے کو 8 کروڑ 63 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹرو بس ڈپو کی تعمیر پر 1 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی اور اس ڈپو میں پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کے دفاتر بھی تعمیر کئے گئے لیکن اتھارٹی نے یہ دفاتر بسیں چلانے والی ترک کمپنی کو کسی کرائے کے بغیر دیدئیے اور خود ارفع کریم ٹاور میں 95 لاکھ روپے کرائے پر دفتر لے لیا۔تحقیقات کے دوران غیر مصدقہ ذرائع سے انکشاف ہوا کہ لاہور میں چل رہی 64 میٹرو بسوں کے لئے پنجاب بینک سے قرض لیا گیا تھا اور ترک کمپنی نے اس منصوبے میں ایک ڈالر کی بھی سرمایہ کاری نہیں کی ،کوشش کے باوجود اس بارے میں پنجاب بینک کے حکام سے سچ معلوم نہیں ہوسکا اور اس بارے میں نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے ذریعے یہ رپورٹ پنجاب اسمبلی کو بھجوا دی تھی جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایکشن لینا تھا لیکن کمیٹی کے چیئرمین اور لیڈر آف دی اپوزیشن میاں محمود الرشید اس رپورٹ کو کمیٹی میں زیر بحث لانے میں بدستور خاموش ہیں۔

مزید :

لاہور -