پاناما کیس، دیار نبیؐ سے جے آئی ٹی نے کیپٹن صفدر کو عین اس وقت طلب کیا جب وہ جمعۃ الوداع کی ادائیگی کے لئے مسجد نبویؐ کا رخ کرنے والے تھے : صالح ظافر

پاناما کیس، دیار نبیؐ سے جے آئی ٹی نے کیپٹن صفدر کو عین اس وقت طلب کیا جب وہ ...
پاناما کیس، دیار نبیؐ سے جے آئی ٹی نے کیپٹن صفدر کو عین اس وقت طلب کیا جب وہ جمعۃ الوداع کی ادائیگی کے لئے مسجد نبویؐ کا رخ کرنے والے تھے : صالح ظافر

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) یہ درست ہے کہ پاکستان اچھے وقتوں سے نہیں گزر رہا لیکن مشیت ایزدی اس حد تک بھی اس مملکت خداداد سے خفا نہیں ہوگی کہ اس پر کردار سے عاری لوگ مسلط کردیئے جائیں پاکستان مسلم لیگ نون یوتھ ونگ کے سربراہ رکن قومی اسمبلی کیپٹن محمد صفدر جنہیں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دیار نبیؐ مدینہ منورہ سے عین اس وقت طلب کیا جب وہ جمعۃ الوداع کی ادائیگی کے لئے مسجد نبویؐ کا رخ کرنے والے تھے انہیں دنیا کی عظیم ترین مسجدا ور سرکار دو جہاںؐ کے قدم مبارک میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی نماز پڑھنے کی سعادت سے محروم کردیا گیا وہ حجاز مقدس کے لئے رخت سفر باندھ چکے تھے کہ مشترکہ ٹیم جو جے آئی ٹی سے موسوم ہے نے بلا بھیجا کہ وہ ہفتے کے روز اس کے روبرو پیش ہوں کیپٹن صفدر نے ادب کے دائرےمیں رہتےہوئے ٹیم سے استدعا کی کہ انہیں ہفتہ 24جون کی بجائے اس سے پہلےہی حاضر ہونے کا موقع دیدیا جائے تاکہ وہ خشوع و خضوع سے عمرہ ادا کرسکیں اور رمضان المبارک کا آخری عشرہ حرمین شریفین میں گزار سکیں جو شریف فیملی کا عشروں سے معمول ہے۔ یہ دعویٰ سینئر صحافی صالح ظافر نے گزشتہ روز روزنامہ جنگ میں لکھے گئے اپنے تجزیئے میں کیا۔

اُنہوں نے لکھاکہ ’کیپٹن صفدر نے حاضری کے لئے التوا نہیں مانگا تھا ان کی اس استدعا کو مسترد کردیا گیا اس کا سبب یہ تھا کہ کیپٹن محمد صفدر وزیراعظم نواز شریف کے داماد ہیں انہیں مدینہ منورہ میں عیدالفطر کے روز عازم برطانیہ ہونا تھا جہاں ان کے جسمانی عوارض کا کئی مہینوں سے علاج چل رہاہے وہ اس سے اگلےہفتے اپنے معالج سے معائنے کےبعد وطن واپس آنے والے تھے اسی مشترکہ ٹیم نے قبل ازیں ایک سابق وفاقی وزیر کو جس کا پس منظر زیادہ قابل فخر نہیں محض اس بنا پر حاضر ہونے کے لئے التوا کی اجازت دیدی کہ وہ بیرون جارہے تھے تاہم اندرون ملک موجود تھے۔ انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ نواز شریف کے خلاف گواہی دینگے انہیں حاضری میں رعایت مل گئی یہ چلن قابل رشک نہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے لئے نواز شریف اورشہباز شریف کے بعد کیپٹن صفدر کا غیر معمولی بے باکی سے اپنا نقطہ نگاہ بیان کرنا حیران کن تجربہ ہوگا جنہوں نے اپنے بیان کے ذریعے جو کم و بیش پانچ گھنٹے تک پاناما سازش کیس کو ادھیڑ کر رکھ دیا اور صاف صاف لفظوں میں بتادیا کہ وہ اور ان کی پارٹی 73ء کے مقدس آئین کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہیں وہ قانون و ضابطے کےپابند ہیں پاناما سازش کیس اس نواز شریف کے خلاف کھڑا کیاگیا جنہوں نے پوری دنیا کے دبائو کو ٹھوکر مار کر پاکستان کو ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنایا‘۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -