مرتدین کا وہ سردار جس نے امیر المومنین سے جنگ کی تو آپؓ نے اپنی بہن کا رشتہ اسے دے دیا، اسکی وجہ کیا تھی؟‎اسلامی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ

مرتدین کا وہ سردار جس نے امیر المومنین سے جنگ کی تو آپؓ نے اپنی بہن کا رشتہ ...
مرتدین کا وہ سردار جس نے امیر المومنین سے جنگ کی تو آپؓ نے اپنی بہن کا رشتہ اسے دے دیا، اسکی وجہ کیا تھی؟‎اسلامی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ

  

لاہور (نظام الدولہ) خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ  کی نگاہ صادق سے بہت سی کرامات کا ظہور ہواتھا ، آپؓ گمراہوں کے دلوں کی سیاہی کو اپنی نگاہ نورسے منور کردیتے تھے ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ  فرماتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ  فراست کے بلندترین مقام پرتھے، آپؓکی نگاہ کرامت کی نوری فراست نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات کوجانچ لیا اور آپؓ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے لئے منتخب فرمایا ،جس کو تمام دنیا کے مو رخین اوردانشوروں نے بہترین قرار دیا۔تاہم اس سے کے علاوہ بھی آپؓ ؓکی ایسی کرامت کا ذکر ملتاہے جس نے تاریخ اسلام کا تابناک باب رقم کیا حالانکہ اس وقت اکثر جلیل القدر صحابہؓ بھی آپؓ کے فیصلوں کی گہرائی اور پرواز فہم کا اندازہ نہیں کرپائے تھے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کرامت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو قبائل عرب اسلام سے پھر گئے ان میں قبیلہ کندہ بھی تھا، چنانچہ امیر المو منین حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اس قبیلہ والوں سے بھی جہادفرمایا اورمجاہدین اسلام نے ا س قبیلہ کے سردار اعظم یعنی اشعث بن قیس کو گرفتار کر لیا اورلوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر اس کو دربار خلافت میں پیش کیا۔امیر المو منین کے سامنے آتے ہی اشعث بن قیس نے بآواز بلنداپنے جرم اِرتِداد کا اقرار کرلیا اورپھر فوراً ہی توبہ کر کے صدق دل سے اسلام قبول کر لیا۔ امیر المو منینؓ نے خوش ہو کراس کا قصور معاف کر دیا اوراپنی بہن حضرت ام فرو ہؓ سے اس کا نکاح کر کے اس کو اپنی قسم قسم کی عنایتوں اور نوازشوں سے سر فراز کر دیا۔صحابہؓ  آپؓ کے فیصلہ پر حیران تھے کہ مرتدین کا وہ سردار جس نے امیر المو منین سے بغاوت اورجنگ کی اور بہت سے مجاہدین اسلام کا خون ناحق کیا ، ایسے خونخوار باغی اوراتنے بڑے خطر ناک مجرم کو امیر المو منین نے اس قدر کیوں نوازا ؟ ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب حضرت اشعث بن قیسؓ نے صادق الاسلام ہو کر عراق کے جہاد  میں اپنا سر ہتھیلی پررکھ کر ایسے مجاہدانہ کارنامے انجام دیے کہ عراق کی فتح کا سہرا انہیں کے سر بندھا۔ حضرت عمرفاروق ؓ کے دور خلافت میں جنگ قادسیہ اورقلعہ مدائن و نہاوند کی لڑائیوں میں انہوں نے سرفروشی و جانبازی کے جو حیر ت ناک مناظر پیش کیے انہیں دیکھ کر سب کو یہ اعتراف کرناپڑا کہ واقعی امیر المو منین حضر ت صدیق اکبرؓ  کی  نگاہ کرامت نے حضرت اشعث بن قیسؓ  کی ذات میں چھپے ہوئے کمالات کو برسوں پہلے دیکھ لیا تھا ، وہ کسی اور کو نظر نہیں آئے تھے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -