انتخابی قوانین میں نئی تبدیلیوں کی ضرورت

انتخابی قوانین میں نئی تبدیلیوں کی ضرورت
انتخابی قوانین میں نئی تبدیلیوں کی ضرورت

  

موجودہ پاکستان کی تاریخ کے یہ دسویں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جن کے لئے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں اتر رہے ہیں، وہیں بہت سارے آزاد امیدوار ان نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں، جن کی سکرونٹی مکمل ہوچکی ہے۔ تمام امیدواروں نے اپنے اثاثے بھی الیکشن کمیشن میں ظاہر کئے ہیں۔۔۔ ( ان اثاثوں میں بیویوں کا بھی ذکر ہے: گویا بیویاں بھی اثاثے ہیں)۔۔۔ عام عوام اپنے آنے والے ممبران کے اثاثے اور ان کی قلابازیاں دیکھ دیکھ کر ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسا امیدوار سامنے نہیں آیا، جس کا اثاثہ صرف عوام ہوں اور وہ کسی اور چیز کا مالک نہ ہو۔۔۔ ( شیخ رشید صاحب کے اثاثوں میں بیویوں کا ذکر نہیں ہے)۔۔۔ یہاں رک کر ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ کیا اس ملک میں اعلیٰ دماغ وہی ہیں جن کے اثاثے اعلی ہیں؟ میں ذاتی طور پر ہزاروں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں، جن کا کوئی اثاثہ نہیں ہے، لیکن وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ویڑن رکھتے ہیں، ان کے پاس نظام کو بہتر کرنے کا پروگرام ہے۔ ملکی خدمت میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، چونکہ ان کے پاس نہ اثاثے ہیں نہ انتخابات کے لئے اخراجات، لہٰذا وہ اپنا دماغ اپنے پاس رکھیں یا دماغ دے کر ملوک خرید لیں۔۔۔پھر ان انتخابات کو کیونکر انتخابات کہا جائے، جس میں صرف امیر لوگ ہی حصہ لے سکتے ہیں؟ قانون ساز اسمبلیاں تو قانون سازی اور نظام بنانے کے لئے معرض وجود میں آتی ہیں اور اگلے پانچ سال میں بہتر سے بہترین قانون سازی کرنا اور نظام سے کمزوریوں کا خاتمہ کر کے بہتر نظام بنانا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن جب ملک کا 95 فیصد حصہ انتخابات میں صرف ووٹر کی حیثیت سے ہی حصہ لے سکتا ہے: امیدوار نہیں بن سکتا، توقانون سازی کیونکر درست ہو گی اور نظام کیسے بہتر ہوگا؟ نہ تو کوئی جماعت نظریاتی ہے نہ امیدوار، تمام امیدواروں کی اچھل کود جاری ہے، کوئی ایک پارٹی سے دوسری جماعت میں جا رہا ہے تو کوئی آزاد امیدوار بن بیٹھا ہے۔

اگر کوئی بندہ کسی نظریے کی بنیاد پر کسی جماعت کا ممبر ہے اور کئی سال یا دہائیوں سے اسی جماعت سے منسلک آرہا ہے تو وہ صرف ٹکٹ نہ ملنے کی بنیاد پر راتوں رات کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کر لے یا آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آجائے تو پھر نظریہ کیا ہوا؟ اب جبکہ انتخابات میں ایک ماہ باقی ہے۔کسی جماعت یا امیدوار کا منشور سامنے نہیں آیا،نہ کوئی پروگرام یا ویڑن، کوئی امیدوار ایسا نظر نہیں آرہا جو یہ کہہ رہا ہو کہ میں اسمبلی میں جا کر کوئی نیا پروگرام پیش کروں گا، نظام میں کمزوریوں کو دور کرنے کی تحریک پیش کروں گا، اور ملک کو درپیش مسائل کا حل پیش کروں گا، بلکہ انتخابات کے اکھاڑے میں اترنے والوں نے تو ملک کو کھلواڑ بنا رکھا ہے۔ ابھی تک تو کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ 2001ء کے اس قانون میں ہی تبدیلی لائے گا، جس کی بنیاد پر اثاثے ظاہر کرتے وقت ان اثاثوں کی موجودہ قیمت کے بجائے وقت خرید کی ویلیو ظاہر کی جاتی ہے اور وہ بھی پوری نہیں۔ تمام لیڈران اور امیدوار ان کے ظاہر کئے گئے، اثاثوں کے بعد بے شمار غریب اور بے گھر افراد اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ وہ بھی بنی گالہ، مری روڈ، ماڈل ٹاؤن کراچی کے پوش علاقوں اور جاتی عمرہ میں انتہائی سستے داموں زمین خرید کر بہت کم لاگت میں اپنے مکان بنائیں گے۔۔۔

جبکہ میں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا ہوں کہ جتنے تحفے عمران خان، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور صفدر زیر کفالت مریم کو ملتے ہیں ،ان کا ایک فیصد بھی کوئی مجھے کیوں نہیں دیتا؟آنے والی اسمبلی میں جب اتنی تعداد میں امین و صادق اکٹھے ہو جائیں گے تو پھر بادی النظر میں یہ کیسے تلاش کریں گے کہ کون صادق اور امین نہیں رہا؟ اور اگر ان ہی صادقوں اور امینوں میں سے کوئی قائد ایوان بھی مقرر ہو گیا تو پھر اسے ہم کیسے نکال کر باہر جی ٹی روڈ پر چڑھائیں گے؟ ان بڑے بڑے لیڈران کے اثاثے دیکھ کر میں تو ششدر رہ گیا ہوں۔ساتھ ہی مجھے یہ یقین نہیں آرہا کہ جن کے پاس اپنی ذاتی گاڑی بھی نہیں، ان کو لوگ ووٹ کیسے دیں گے؟ اب دیکھیں نا حمزہ شہباز اور عمران خان کی بھی بھلا کوئی عزت ہے، جن کے پاس اپنی ذاتی گاڑی ہی نہیں ہے، ایسے شخص کو تو لوکل کونسلر بھی منتخب نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں کو تو کوئی سلام بھی نہیں کرتا، ووٹ کدھر؟اب عوام سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب پاکستان کی کل آبادی کے صرف دو فیصد میں سے امیدوار سامنے آئے ہیں اگر ان میں سے ہم کسی کو بھی ووٹ نہ کرنا چاہیں تو پھر ہم کیا کریں؟ انتخابات میں گھر بیٹھے رہیں یا پولنگ اسٹیشن پر جا کر احتجاج کریں کہ ہمیں اپنی کلاس میں سے کوئی امیدوار چاہیے؟پاکستان میں ووٹ ڈالنے کی شرح دنیا کے بیشتر ممالک سے پہلے ہی بہت کم ہے اور اب جب عوام باشعور ہو رہے ہیں تو یہ شرح بڑھنے کی بجائے مزید کم ہونے جا رہی ہے، پھر جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی؟ میری چند تجاویز ہیں، اگر کوئی ان تجاویز کو درخور اعتنا سمجھے تو۔۔۔

ان انتخابات میں جو لوگ منتخب ہوں اور جس جماعت کی بھی حکومت بنے، فوری طور پر انتخابی قوانین میں تبدیلیاں کی جائیں۔ سب سے پہلے اس قانون کو بدلا جائے، جس کے تحت امیدوار اپنے اثاثوں کی موجودہ قیمت کے بجائے وقت خرید کی ویلیو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے نمبر پر بطور آزاد امیدوار انتخاب میں شامل ہونے پر پابندی عائد کی جائے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں اس عیاشی کی اجازت ہے نہ ہر کسی کو نئی سیاسی جماعت بنانے کی موج۔ ہر جماعت کے لئے عوامی حمایت کی ایک خاص شرح کی شرط ہوتی ہے ،اگر کوئی جماعت ڈالے گئے ووٹوں کا چار فیصد سے کم حاصل کرے تو اس کے جیتے ہوئے امیدوار کی بھی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، اگر ممکن ہو تو متناسب نمائندگی کا قانون بنا دیا جائے، اس طرح سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی۔

تارکین وطن سمیت کوئی اہل ووٹر جہاں بھی ہو، اسے اپنے ووٹ کے استعمال کی سہولت کا انتظام کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ انتخابات میں اخراجات کی موجودہ حد کو کم کر کے معمولی سطح پر رکھا جائے اور اس حد سے آگے بڑھنے والوں کو اسی وقت نااہل قرار دیا جائے۔ کاغذات نامزدگی کے وقت امیدوار سے اس کے پروگرام، وژن، قانون سازی کی اہلیت اور بین الاقوامی نالج کے متعلق سوالات کئے جائیں اور اس پر پورا نہ اترنے والوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔ پڑھے لکھے غریب اور مزدوروں کے لئے اسمبلیوں میں ایک خاص کوٹہ مقرر کیا جائے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ٹکٹ جاری کرتے وقت کم از کم بیس فیصد پڑھے لکھے نادار لوگوں کو ٹکٹ جاری کریں، اسی طرح تارکین وطن پاکستانیوں اور خواتین کا بھی کوٹہ مقرر کیا جائے۔۔۔

( خواتین کے موجودہ کوٹے میں اضافہ کیا جائے) ۔۔۔تمام سیاسی جماعتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی جماعتوں میں باقاعدگی سے حقیقی جماعتی انتخابات کروائیں اور اپنے کارکنان کو تربیت دے کر ملکی اور غیر ملکی مسائل سے آگاہی دیں۔ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے خواندگی کی شرح میں اضافہ کیا جائے اور تعلیمی اداروں میں سیاسی حوالے سے نئے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ روایتی خاندانوں سے ہٹ کر نئی قیادت سامنے لائی جا سکے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ملک کو ترقی دینے کے لئے دو شعبے بہت ہی اہم ہیں۔ تخلیقی صلاحیت یعنی سائنسی تعلیم اور سیاسی شعور یعنی سیاسی تعلیم دے کر سیاستدان پیدا کرنا۔ سیاستدانوں پر ملک چلانے اور ملک کو درپیش مسائل کا حل پیش کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور سائنسدان نئی نئی ایجادات کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔لیکن کیا یہ ایلیٹ کلاس چاہے گی کہ ہمارے علاوہ بھی کوئی حکومت میں آئے؟

مزید : رائے /کالم