بھارت : خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

بھارت : خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ
بھارت : خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

  

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہندو انتہا پسندوں نے 4خواتین سمیت متعدد کشمیریوں کو سخت زد وکوب کیا۔ چالیس کے قریب ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیریوں کو زد وکوب کرنے کی ویڈ یوسوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں ایک خاتون کو مدد کے لئے چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔ کشمیریوں کے ایک گروپ کو جس میں چار خواتین بھی تھیں ، نئی دلی کی سن لائٹ کالونی میں تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔مشتعل ہجوم نے کشمیریوں کو لاٹھیوں سے بے دردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا۔مار پیٹ کانشانہ بننے والوں نے بتایا کہ انہیں محض کشمیری ہونے کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ زخمی ہونے والے ایک فرد کا کہنا تھا کہ اس کی بہن کے ساتھ بھی ناشائستہ سلوک کیا گیااور اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا اور ملزمان ہاکیوں سے لیس تھے۔ حملہ آور نعرے لگا رہے تھے۔۔۔ ’’کشمیری دہشت گردو ں کو واپس بھیج دو‘‘۔۔۔

اس سے قبل بھی کئی بار ان پر حملہ کیا گیااور وہ علاقے میں سخت خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے خواتین کی چٹیا کاٹنے کے واقعات رونما ہورہے ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جبکہ بعض مقامات پر قابض بھارتی فورسز پر ہی خواتین کی چٹیا کاٹنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کنگان کے علاقے میں قابض بھارتی فوج کے 3 سادہ لباس اہلکار نجی کار میں سوار تھے اور علاقے میں مشکوک اندازمیں گشت کررہے تھے، جہاں مقامی افراد کے ایک ہجوم نے انہیں روکا اور شناخت ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اہلکاروں کی جانب سے مقامی افراد کو جب کارڈ دکھائے گئے تو وہ بھارتی فوجی نکلے جس پر لوگوں کو شک ہوا کہ یہ فوجی اہلکار خواتین کی چٹیا کاٹنے کے ارادے سے آئے تھے، جس کے باعث مقامی افراد نے بھارتی فوجیوں کی بری طرح پٹائی کردی۔ واقعے کے بعد قریب ہی موجود بھارتی فوجیوں کے کیمپ سے اہلکار اپنے ساتھیوں کو بچانے پہنچ گئے اور انہیں ہجوم سے چھڑا لے گئے۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے لئے سرگرم ایک بین الاقوامی تنظیم کے تازہ ترین سروے کے مطابق بھارت میں انیس برس سے کم عمر کی تقریباً چالیس فیصد خواتین کو تشدد اور استحصال کا شکار بنایا جاتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں دس برس سے کم عمر میں ہی چھ فیصد بچیوں کو کسی نہ کسی طرح کے تشدد یا استحصال کا سامنا رہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں بھارت میں تقریباً تہتر فیصد خواتین کو کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا سامنا رہا۔ سروے میں شامل ہر چار خواتین میں سے ایک یا تقریباً چھبیس فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سروے میں اٹھارہ اور اس سے زیادہ عمر کی پچیس سو سے زائد خواتین نے حصہ لیا۔ اس دوران بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ملک میں خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کے واقعات میں تینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس جرم میں ملوث ملزمان میں سے ساٹھ فیصد کی عمر اٹھارہ سے تیس سال کے درمیان تھی۔سروے کے مطابق دس میں سے آٹھ یا تقریباً بیاسی فیصد خواتین اپنے تحفظ کے لئے کئی طرح کے طریقے استعمال کرتی ہیں۔ وہ جن طریقوں کا استعمال کرتی ہیں، ان میں پارک یا ہلکی روشنی والے علاقوں میں جانے سے گریز، راستہ تبدیل کر کے گھر یا دفتر جانا، سیلف ڈیفنس، ریپ الارم اور مرچ اسپر ے کا استعمال شامل ہیں۔ تیئس فیصد خواتین چابی کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

ایکشن ایڈ انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سندیپ چھاچھرا کا اس رپورٹ کے حوالے سے کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین پر ہونے والے تشدد اور ان کے استحصال کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں خواتین کے حقوق، ان کی صلاحیتوں اور ان کی اہلیت کے سلسلے میں کافی بیداری آئی ہے، لیکن اب بھی خواتین کی سلامتی کے لئے مزید قدم اٹھانے اور خواتین کے حوالے سے لوگوں کی ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ریپ یا جنسی زیادتی کا سوال بھارت میں ایک عرصے سے عوام کے شعور میں کسی آتش فشاں کے لاوے کی طرح پک رہا تھا۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا، جیسے جنسی زیادتی کے مجرموں کو قانون کا کوئی خوف ہی نہ ہو۔ معاشرے کا رویہ بھی فرسودہ اور اکثر قابل مذمت رہا ہے۔ جنسی زیادتی کے کسی واقعے کے بعد اگر کوئی بحث چھڑتی تو کبھی اس طرح کے مشورے آتے کہ لڑکیوں کو جینز نہیں پہننی چاہیے تو کبھی کوئی رہنما یہ بتاتا کہ لڑکیوں کو رات میں گھر سے نہیں نکلنا چاہئے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ شہر کے سارے پبز (شراب خانے) بند کر دیئے جائیں۔

ان سبھی دلیلوں کا اگر تجزیہ کریں تو ان سے یہی نتیجہ نکلتا ہے جیسے جنسی زیادتی کے لئے خود لڑکیاں ہی ذمے دار ہیں۔ہر برس جنسی زیادتی کے ہزاروں واقعات کے باوجود بھارتی معاشرے میں انسانیت کے خلاف اس بھیانک جرم کی جڑ تک جانے اور ان پر قابو پانے کے طریقوں پر کبھی کوئی منظم اور موثر بحث نہ ہوسکی۔ ملک کے پالیسی سازوں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس مجرمانہ ذہنیت کو شکست دینے کی کوشش نہیں کی جس نے آج پورے بھارتی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔جنسی زیادتی کے واقعات بھارتی معاشرے کا غیر پسندیدہ حصہ بن چکے ہیں۔ مجرموں کو سزا دینے کے لئے سو برس پرانے جو قوانین نافذ ہیں وہ اتنے پیچیدہ، اتنے مبہم اور اتنے تکلیف دہ ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے قانون کی مدد نہیں لینا چاہے گا۔

مزید : رائے /کالم