میانوالی لاڑکانہ نہیں رہا

میانوالی لاڑکانہ نہیں رہا
میانوالی لاڑکانہ نہیں رہا

  

سیاسی طور پر اب عمران خان کی وجہ سے میانوالی کی وہی اہمیت ہے، جو نوازشریف کی وجہ سے لاہور کی یا بے نظیر بھٹو کی وجہ سے لاڑکانہ کی ہے، میانوالی کے لوگ پر امید ہیں کہ عمران خان وزیر اعظم بن کے میانوالی کا نام اونچا کریں گے، سیاسی طور پر عمران خان سے پہلے بھی میانوالی کا سیاسی حوالہ بہت مضبوط تھا ، نواب آف کالا باغ ملکی سطح پر ایک بڑا نام تھے۔۔۔ مولانا عبدالستار خان نیازی بھی سیاسی طور پر میانوالی کے ماتھے کا جھومر تھے، ڈاکٹر شیر افگن مرحوم اپنی آئینی و قانونی مہارت کی وجہ سے پورے پاکستان میں نمایاں شخصیت تھے۔۔۔ امیر عبداللہ خان روکھڑی بھی ایک زمانے میں میانوالی کے نام کو اوپر اٹھاتے رہے، مگر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ میانوالی میں عوامی سیاست کو ڈاکٹر شیر افگن نے فروغ دیا۔

یہ واحد شخصیت تھے جن کی وجہ سے میانوالی کے جاگیردار اور سرمایہ دار اپنے عالیشان گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آئے۔ لوگوں نے پہلی بار دیکھا کہ بڑے بڑے لوگ ان سے ہاتھ ملا رہے ہیں انہیں گلے مل رہے ہیں۔۔۔ ان کے مسائل سن رہے ہیں۔۔۔ ان کے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھے ہیں۔۔۔ عمران خان نے در اصل ڈاکٹر شیر افگن کی لائی ہوئی تبدیلی سے فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو اپنے قریب جمع کیا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ میانوالی میں بطور جماعت تحریک انصاف ایک بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔۔۔ گزشتہ الیکشن میں اس جماعت نے ضلع کی دو قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں سے ایک ایم پی اے کی نشست کے سوا باقی سبھی نشستیں جیت لیں۔۔۔ بعد ازاں ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے ایم این اے کی سیٹ جیت کے حساب برابر کر دیا۔

اب 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کی پہلی پوزیشن نہیں ہے۔۔۔ پارٹی کے ورکر قیادت سے نالاں ہیں۔۔۔ میانوالی میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے بغاوت صاف نظر آرہی ہے اور پھر عمران خان کے کاغذات نامزدگی نے بھی عام کارکنوں کو مایوس کر رکھا تھا۔۔۔ چوبیس جولائی کو میانوالی سے عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا ہے۔۔۔ خیال یہ تھا کہ وہ کسی بڑی جگہ جلسے کا اہتمام کرکے اپنی سیاسی دھاک بٹھانے کی کوشش کریں گے اور سیاسی ماحول گرم کریں گے مگر میانوالی میں افتتاحی انتخابی جلسہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ دس کنال پر مشتمل شہر کے وسط میں ایک ہاکی گراؤنڈ میں کیا۔۔۔ اس گراؤنڈ میں بمشکل ہی دس ہزار آدمی شرکت کر سکتے ہیں مگر جلسے میں لوگ بہت کم آئے اور جلسہ اپنا رنگ نہ جما سکا جو یقینی طور پر ایک مایوس کن بات ہے، یہ مایوسی گزشتہ ایک ماہ سے دکھائی دیتی تھی۔۔۔ بنیادی وجہ ٹکٹوں کی تقسیم ہے۔۔۔ عمران خان نے خاص طور پر تحصیل عیسیٰ خیل کے دو ایم پی ایز کی ٹکٹوں کی تقسیم میں کارکنوں کے نزدیک غلط فیصلہ کیا۔۔۔ ان دو حلقوں میں جن دو لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا ہے اس سے پی ٹی آئی کے اکثر کارکن نالاں ہیں۔۔۔ اور وہ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف شدید احتجاج کر رہے ہیں بلکہ بعض ناراض کارکن بطور امیدوار میدان میں بھی نکل آئے ہیں۔

عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے کارکنوں سے معذرت بھی کی ہے۔۔۔ مگر امید نہیں ہے کہ ان کے کارکن یہ معذرت قبول کریں۔۔۔ میانوالی کا اہم سیاسی گھرانہ نواب کالا باغ۔۔۔ جو کہ عمران خان سے سیاسی ہی نہیں ذاتی تعلقات بھی رکھتے ہیں۔۔۔ اور اس خاندان نے 2013ء کے الیکشن میں بڑھ چڑھ کے عمران خان کی انتخابی مہم چلائی اور تمام اخراجات بھی برداشت کئے۔۔۔ اب اس خاندان کی خواہش تھی کہ انہیں ایم پی اے کی ایک نشست پر ٹکٹ دیا جائے۔۔۔ اور یہ لوگ گزشتہ چھ ماہ سے حلقے میں اپنی مہم چلائے ہوئے تھے انہوں نے تحریک انصاف کو بہت فعال کیا ہوا تھا۔۔۔ کارکنوں کے ساتھ رابطے بھی رکھے ہوئے تھے مگر اب ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے شدید اختلاف کے بعد نواب وحید خان ایم این اے کی نشست پر عمران خان کے خلاف میدان میں کھڑے ہیں سو عمران خان کو اب اپنے روایتی حریف مسلم لیگی عبداللہ شادی خیل کے علاوہ اپنے نئے حریف ملک وحید خان کی مخالفت کا بھی سامنا ہے اور ملک وحید خان کے بیٹے ملک امیر محمد خان بھی ایم پی اے کی نشست پر تحریک انصاف کے نامزد امیدوار کے سامنے کھڑے ہو چکے ہیں۔۔۔ تحصیل عیسیٰ خیل میں سیاسی صورتحال خاصی دلچسپ ہو چکی ہے اور عمران خان کے دونو ں مد مقابل امیدوار اپنی انتخابی مہم زور دار طریقے سے چلائے ہوئے ہیں۔۔۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ میانوالی میں کالا باغ شادی خیل۔۔۔ اور روکھڑی کے درمیان سیاسی اتحاد ہو سکتا ہے۔۔۔ اگر ان تینوں گروپوں نے آپس میں سیاسی اتحاد کر لیا۔۔۔ تو پھر ان کے اتحاد سے تحریک انصاف کو میانوالی میں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ تینوں خاندان سیاسی طور پر میانوالی میں بہت فعال ہیں الیکشن لڑنے کے حوالے سے بھی بہت تجربہ رکھتے ہیں۔ مالی طور پر بھی بہت مضبوط ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گزشتہ الیکشن میں نواب کالا باغ خاندان نے عمران خان کی انتخابی مہم چلانے کے لئے اپنی جیب سے کروڑوں روپے خرچ کئے اور انہوں نے اس حلقے سے عمران خان کو تقریباً تقریباً آزاد کر دیا۔۔۔ یعنی عمران خان صرف ایک دن کے لئے حلقے میں آئے عبداللہ شادی خیل سابقہ ایم این اے نہ صرف یہ کہ مالی طور پر تگڑے آدمی ہیں۔۔۔ بلکہ ان دونوں بھائیوں عبداللہ خان اور صوبائی اسمبلی کے ممبر امانت اللہ خان نے حلقے میں بہت زیادہ ترقیاتی کام کروائے ہیں۔۔۔ سڑکوں کا ایک جال بچھا دیا ہے۔ جو میانوالی سے عیسیٰ خیل تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔ آپ اگر وہاں جائیں تو ایسا لگے گا کہ آپ موٹر وے پر سفر کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے بہت کوشش کر کے نواز شریف اور شہباز شریف سے ’’سی پیک‘‘ کی سڑک اپنے علاقے یعنی میانوالی کے وسط کمر مشانی کے قریب سے گزارنے کا مطالبہ منوایا، سی پیک روڈ کے وہاں گزرنے سے علاقے کے لوگوں کے لئے روز گار کے بہت سے مواقع پیدا کئے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ اردگرد کی زمین کی قیمت میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔۔۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹے موٹے دیگر ترقیاتی کام بھی ہوتے نظر آتے ہیں۔۔۔ عمران خان مشانی میں جلسہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے مگر مقامی قیادت کو خوف تھا کہ جلسہ بری طرح ناکام ہو جائے گا۔ سو انہوں نے میانونی شہر میں جلسہ رکھ دیا۔۔۔ جہاں زیادہ سے زیادہ کارنر میٹنگ کا ماحول بن سکا۔۔۔ میرے خیال میں اب میانونی عمران خان کے لئے ’’لاڑکانہ‘‘ نہیں رہا۔۔۔

مزید :

رائے -کالم -