فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر461

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر461
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر461

  

جب انور مقصود نے اپنا مشہور پروگرام سلور جوبلی پیش کیا تو اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ کہ اس پروگرام کے ذریعے نئی نسل کو پرانی فلموں، پرانے فنکاروں اور ہنر مندوں سے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس دور کے مقبول ترین گانے نئی آوازوں میں پیش کئے گئے تو پوپ میوزک کے شیدائی نوجوان حیران رہ گئے۔ ان نغموں کی مٹھاس ، طرزیں اور راگ راگنیوں کا رچاؤ، دھنوں کی سادگی اور گلوکاری کا اسلوب سب کچھ ان کے لیے نیا انوکھا اور بہت دلکش تھا۔ اس طرح انہیں اپنے ماضی کی خوب صورتیوں اور رعنائیوں کا علم ہوا۔ اس سے پہلے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی جو کہ بدقسمتی ہی کہی جائے گی۔ کوئی بھی قوم اپنے ماضی کی روایات و اقدار سے رشتہ توڑ کر صحیح معنوں میں ایک باشعور اور پر اعتماد قوم نہیں بن سکتی۔ زندہ اور ترقی یافتہ اقوام اس بات کا خاص طور پر اہتمام کرتی ہیں کہ ماضی اور حال کے مابین رشتہ اور تسلسل قائم رہے لیکن ہمارے ملک کے حکمرانوِں، بیوروکریٹس اور جدید روشنی کے دلدادہ مغرب پسند، دانش وروں نے اس کی ضرورت و اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔ بہرحال دیر آید درست آید۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر460 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انور مقصود صاحب نے اس بہت بڑی ضرورت کو ’’سلور جوبلی‘‘ کے ذریعے پورا کیا۔ اس پروگرام میں پرانے زنامہ اور مردانہ سپرہٹ نغمات آج کی آوازوں میں پیش کیئے گئے اور بے حد پسند کئے گئے۔

نیرہ نور نے بھی اس پروگرام میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ خصوصاً خورشید بیگم کا نغمہ۔

گھٹا گھنگور گھور

مور مچائیں شور

میرے سجن آجا آجا۔

جب نیرہ نور نے پیش کیا تو نئے لوگوں کی تو یہ بہت بھایا ہی تھا مگر پرانے زمانے میں خورشید بیگم کی آواز میں یہ نغمہ سننے والے بھی جھوم جھوم گئے۔ نیرہ نور نے یہ نغمہ اس قدر عمدگی سے پیش کیا تھا کہ اس کا تاثر بہت عرصے تک قائم رہا۔

نیرہ نور گلوکارہ نہ ہونے کے باوجود اب ایک معروف اور بہت مقبول گلوکارہ بن چکی تھیں۔ فلمی صنعت کے لوگوں کو عام طورپر نئی صلاحیتوں کی موجودگی کا علم کچھ دیر سے ہوتا ہے۔ جب تک کوئی اپنے آپ کو ہر طرح منوا نہ لے یا کوئی قابل ذکر اور ممتاز فلم ساز و ہدایت کار اس کی خدمت حاصل نہ کر لے ہمارے فلم ساز قطعی بے خبر اور بے نیاز رہتے ہیں مگر جوں ہی کوئی ممتاز ہنر مند کسی اور کو اپنی فلم میں لیتا ہے سب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور پھر کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں تو بھیڑ چال کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے اور سب اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اسے ہر طرح اس قدر مجبور کر دیتے ہیں ایسی ایسی سفارشیں اور ایسے ایسے لالچ دیتے ہیں کہ اس کی مصروفیات میں بے انتہا اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر جب اس کے نخرے اور مصروفیات میں بے انتہا اضافہ ہو جاتا ہے تو پھر اس کا رونا رونے لگتے ہیں کہ دیکھیے فلاں فنکار کس قدر تنگ کررہا ہے۔

بہرحال۔ فلم والوں کو نیرہ نور کی موجودگی کا احساس ہوگیا اور فلم سازوں نے نیرہ نور کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی لیکن نیرہ نور نے گلوکاری کو کبھی ذریعہ معاش یا وجہ شہرت بنانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ صرف اپنی پسند کے فلم سازوں اور موسیقاروں کے ساتھ ہی کام کرنے پر تیار ہوتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے بہت کم کام کیا حالانکہ ایک زمانے میں نیرہ نور کو ہر فلم ساز اور موسیقار اپنی فلمیں لینے کا خواہش مند تھا لیکن کوئی ترغیب اور لالچ نیرہ نور کے ارادے کو متزلزل نہ کر سکا۔ نیرہ نور نے بہت کم فلموں میں گلوکاری کرنے کی ہامی بھری حالانکہ وہ چاہتیں تو اس وقت مصروف ترین گلوکارہ بن سکتی تھیں۔

نیرہ نور نے ناصر کاظمی اور ابن انشا کا کلام بھی گایا تھا اور یہ نغمات بے حد مقبول ہوئے تھے۔انہوں نے ملی ترانے بھی گائے اور فلمی نغمات بھی گائے۔ ان کے گائے ہوئے سبھی نغمات بے حد مقبول ہوئے۔ 

فلم’’گھرانا‘‘ کا یہ نغمہ ہر ایک کے دل میں اتر گیا تھا۔

تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا۔

پلکیں بچھا دوں 

یا فلم ’’پھول میرے گلشن کا‘‘ کایہ نغمہ

تو ہی بتا پگلی پون

فلم ’’پردہ نہ اٹھاؤ’’ کا نغمہ

اتنا کبھی نہ چاہو مجھے

فلم’’آئینہ‘‘ کا یہ نغمہ تو جیسے سارے ملک بلکہ بیرون ملک بھی گونجنے لگا تھا۔

روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا۔

اس کے نغمہ نگار کلیم عثمانی اور موسیقار روبن گھوش تھے۔

۱۔ ٹوٹ گیا سپنا

۲۔ صبح کا تارا

۳۔ آج غم ہے تو کیا

جب ہم نے فلم ’’آس‘‘ کا آغاز کیا اور بذات خود پہلی بار اس کی ہدایت کاری کا بھی فیصلہ کیا تو فلم کے تھیم سانگ کے لیے نثار بزمی صاحب نے نیرہ نورکا انتخاب کیا۔ یہ نغمہ مسرور انور نے لکھا تھا۔ بزمی صاحب نے اس کی طرز بنائی اور ہمیں بے حد پسند آئی۔ یہ وہ نغمہ تھا جو فلم میں بارہا مختلف اوقات میں پیش کیا جانے والا تھا۔

بول ری گڑیا بول ذرا۔

ہم نے نیرہ نور سے رابطہ قائم کیا۔ اب فلم اسٹوڈیوزمیں ہمارا آمنا سامنا ہو چکا تھا۔ نیرہ ویسے بھی ہمیں جانتی تھیں اور ہم انہیں۔ اس زمانے میں وہ بیماری اور گلے کی خرابی کا عذر پیش کرکے گلوکاری سے گریز کرتی تھیں مگر ہم ان کے گھر پہنچ گئے۔ بڑی عقل سے انہیں رضامند کیا۔ نثار بزمی کا نام سن کر وہ دلچسپی لینے پر مجبور ہوگئیں۔

ہم نے کہا ’’آپ ہمارے ساتھ ریہرسل کے لیے تو چلئے۔ وہاں آپ کی آواز کا بھی پتا چل جائے گا پھر اگر ضرورت پڑی توہم اس گانے کی صدا بندی ملتوی کر دیں گے۔‘‘

نیرہ نور کو ہم نے اپنی کار میں بٹھایا اور ایورنیو اسٹوڈیوز کی طرف چل پڑے۔ چند ہی لمحے بعد ہم دونوں اس طرح باتیں کر رہے تھے جیسے کہ ہمیشہ سے ایک دوسرے سے واقف ہیں اور بے تکلف دوست بھی ہیں۔ پہلے تو انہوں نے ہم سے پوچھا کہ آخر ہم نے تین سال تک کوئی فلم کیوں نہیں بنائی۔ہماری فلم ’’سزا‘‘ ۱۹۷۰ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ آس کا آغاز ۱۹۷۳ء کے آغاز میں ہوا تھا۔ گویا ہماری آخری فلم اور نئی فلم کے درمیان تین سال کا طویل وقفہ تھا۔ اس زمانے میں پاکستان میں فلم سازی عروج پر تھی۔ کامیاب فلم سازوں نے تو جیسے فلمیں بنانے کی فیکٹریاں لگا رکھی تھیں۔ ایک سال میں دو تین فلمیں بنانا تو مشکل کام ہی نہ تھا۔ ان میں شباب کیرانوی جیسے فلم ساز و ہدایت کار بھی شامل تھے جو سال میں کم از کم تین چار فلمیں ضرور بنا لیتے تھے لیکن اس میں ان کے دونوں بیٹوں نذر شباب اور ظفر شباب کی فلمیں بھی شامل ہوتی تھیں مگر دوسرے معروف ہدایت کار بھی دھڑا دھڑ فلمیں بنانے میں مصروف تھے۔ حسن طارق کی ہر وقت کم ازکم ایک یا دو فلمیں سیٹ پر زیر تکمیل رہتی تھیں۔ سید سلیمان کا بھی یہی معمالہ تھا۔ دوسرے فلم ساز اور ہدایت کار بھی ایک فلم کی تکمیل کے بعد دوسری فلم کے آغاز میں وقفہ نہیں آنے دیتے تھے۔ ایسے میں اگر ہم جیسا فلم ساز جس کی اولین تین فلمیں کامیاب بھی ہو چکی تھیں آخر اس قدر ست کیوں تھا؟

دراصل نیرہ نور ہم سے یہی دریافت کرنا چاہتی تھیں۔ہم نے انہیں مختصراً بتایا کہ دراصل ہم فلم ساز کے جھنجٹ سے اتنے پریشان ہو جاتے ہیں کہ پھر بے فکری اور سکون سے کام کرنے کے لیے اسکرپٹ لکھنے کو بہتر سمجھتے ہیں اسکرپٹ بھی ہم ایک وقت میں ایک ہی لکھتے تھے اور ایک اسکرپٹ مکمل کرنے کے بعد دوسرا اسکرپٹ لکھنے کی ہامی ذرا دیر سے ہی بھرتے تھے۔

فلم سازی میں طویل تعطل کی ایک وجہ ہم نے انہیں یہ بھی بتائی کہ ہماری صحت ٹھیک نہیں رہتی۔ کبھی بخار، کبھی ملیریا، کبھی ٹائی فائڈیا کسی اور قسم کا بخار ہم کو گھیر لیتا ہے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ بخار تو نہیں ہے مگر درجہ حرارت صرف ایک ڈگری بڑھ گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ہمارے سر اور آنکھوں میں ہلکا ہلکا سا درد ہو جاتا تھا۔ طبیعت میں اضمحلال پیدا ہو جاتا تھا۔ لکھنے پڑھنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ ہر قسم کے ڈاکٹر حکیم ٹیسٹ لینے کے باوجود یہ راز نہیں سمجھ سکے تھے کہ آخر ہمیں یہ معمولی سی حرارت کیوں ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بھی ہم کام نہیں کر سکتے تھے۔

نیرہ بہت توجہ اور غور سے ہماری باتیں سنتی رہیں۔ ان دنوں وہ بھی دبلی پتلی اور نازک اندام تھیں۔

جواب میں ہم نے ان کی مزاج پرسی کی تو انہوں نے بیماریوں کی ایک طویل داستان ہمیں سنائی شروع کر دی۔

’’آفاقی صاحب۔ کیا بتاؤں۔ میں کچھ کرنے کا ارادہ کرتی ہوں تو طبیعت خراب ہو جاتی ہے‘‘ پھر طبیعت کی خرابی کی تفصیل بتاتی ہیں۔ اس طرح ایک دوسرے کی مزاج پرسی کرتے ہوئے اسٹوڈیوز تک کا سفر بہت آسانی سے کٹ گیا۔ پتا ہی نہیں چلا کہ ہم کب نیرہ کے گھر سے روانہ ہوئے تھے اور کب اسٹوڈیو پہنچ گئے۔ اس دوران میں ہم دونوں نے نہ صرف ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ضروری طبی مشوروں کا بھی تبادلہ کیا۔ اس طرح پہلی ہی تفصیلی ملاقات میں ہم دونوں کے مابین ایک مضبوط رشتہ قائم ہوگیا۔ یہ بیماریوں کارشتہ تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر462 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -