A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 43

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 43

Jun 26, 2018 | 13:43:PM

قمر نقوی

وہ سب جو کبھی چندی ہوا کرتا تھا سمیٹ کر چادر میں لپیٹا گیا ..... اور وہ سب ہی روتے اور افسوس کرتے گاؤں آئے ..... چندی کے جسم کو کسی جانور نے ہی کھایا ہوگا ..... وہ تو اب اس کے ننگے بدن کو دیکھتے ہی کیسے ..... اور جو کچھ بچا تھا اس کو گدھوں نے الگ نوچ کر کھالیا تھا .....!

اس واقعے نے گاؤں والوں کو بہت غمگین کر دیا ..... مہینوں مراری کو لوگ سمجھاتے رہے ..... لیکن کسی کے سمجھانے سے کیا ہوتا ہے ..... وقت سب سے بڑا طبیب اور چارہ گرہے ..... موت اور زندگی کا سلسلہ تو دنیا میں جاری ہی رہتا ہے ..... وقت ہی وہ کارساز ہے جو دلوں کو صبر دیتا ہے ..... 

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس گاؤں سے چار میل جنوب کی طرف بھگت گڑھ ہے ..... سا ت آٹھ گھر ..... ان میں رہنے والے کل بائیس نفر ..... ان میں چادر عدد بچے ..... 

دوپہر کے وقت بچے کنویں کے قریب کھلی جگہ میں کھیل رہے تھے ..... ایک بچہ ..... عمر چار سال کھیلتے جھاڑی کے قریب گیا..... اور نجانے اسے کیا نظر آیا کہ تجس کے طور پر جھاڑی کے اندر گھسا اور غائب ہوگیا ..... 

بچے جو کھیل رہے تھے ان کو بڑی دیر ایک بچہ کم ہوجانے کا احساس ہی نہیں ہوا ..... کنویں پر جو دو تین عورتیں تھیں انہوں نے محسوس کیا .....

’’گیجا کدھر گیا ..... ‘‘ بچے کا نام یہی تھا ..... 

’’گبجا ..... ؟ ..... یہی کہیں ہوگا ..... ‘‘

اور بات آئی گئی ہوگئی ..... کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ بچہ گم ہو گیا ہوگا ..... وہ تو گبجاکی ماں کا نجانے کیوں بیٹھے بیٹھے دل گھبرایا ..... اور وہ کنڈے تھاپتے تھاپتے گھبرا کر اٹھی ..... ہاتھ دھوئے اور کنوئیں کے میدان کی طرف چلی ۔ جہاں اس کا بچہ کھیلنے گیا تھا ۔ وہاں اب کوئی بھی نہیں تھا ..... بچے سب اپنے گھروں کو جا چکے تھے ..... کشوری نے کنویں پر سے آئی ہوئی کانتا کو روکا ..... 

’’کانتا ..... تو نے گیجا دیکھا ..... ؟‘‘

‘‘یہیں کھیل رہا تھا ..... پھر واپس گیا ..... ‘‘

’’کدھر واپس گیا ..... ؟‘‘

’’یہ تو میں نے نہیں دیکھا ..... کیا گھر نہیں آیا .....؟‘‘

’’نہیں ..... ‘‘

ذرا ہی دیر میں لوگ دوڑ پڑے ..... کنویں میں جھانکا گیا ..... جھاڑیوں میں دیکھا گیا ..... گھر گھر پتہ کیا گیا ..... لیکن اس کا تو نشان ہی نہیں رہا ..... 

ان کا متفقہ فیصلہ اس گمشدگی کے بارے میں یہی تھا 

’’کوئی جانور اٹھا لے گیا ..... تیندوا ..... ‘‘

’’تیندوا..... ؟‘‘

’’گلباگھ.....؟‘‘

’’گلدار.....؟‘‘

’’لکڑ بگھا .....؟‘‘

’’نہار..... ؟‘‘

لیکن وہاں نہ کسی تیندوے کے پنجوں کے نشان ملے نہ شیر کے ..... نہ ہی کبھی لکڑ بگھا ان علاقوں میں دیکھا گیا تھا ..... بچے کی گمشدگی سے کئی روز تک اس گھر میں تو کہرام مچاہی رہا جس گھر کا وہ بچہ تھا ..... گاؤں والے بھی چین سے نہیں بیٹھے جس کے پاس بھی وقت اور موقعہ ہوتا وہ جنگل کے کسی نہ کسی علاقے کو چھان مارتا ..... آخر کار دو ہفتے بعد ایک چروا ہے کو دوپہاڑیوں کے درمیان ایک عمیق گھاٹی میں بچے کی کھوپڑی اور ٹانگیں ملیں ..... یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ اس کو کس جانور نے ہلاک کیا .....

دونوں حادثات کی اطلاع پولیس کو کردی گئی تھی ..... اور تھانیدار بمعہ دو عدد سپاہیوں کے دونوں جگہ وارد ہو کر نہ صرف بیانات لکھنے اور تحفظات کرنے کے بعد ضیافت ہی اڑاتے رہے بلکہ واپس جاتے وقت ایک ایک ڈولچی بھر کر خالص گھی ..... اور تھانیدار صاحب ایک بوری گندم بھی حرام خوری کی عادت کے تحت نذرانہ لے گئے ..... ان دونوں تفتیشوں کے نیتجے میں انھوں نے اپنی رپورٹوں میں دونوں کا کسی جنگلی جانور کا شکار ہوجانا لکھا ..... جو ظاہر واقعہ تھا ..... !

یہ نہیں معلوم کہ ہندوستان میں پولیس والوں کو حرام خوری کی عادت کس طرح پڑی ..... کسی نے اس موضوع پر تحقیق نہیں کی ..... لیکن ہے دلچسپ موضوع اس لیے کہ جس تواتر اور کثرت کے ساتھ پولیس والوں کے گھر من و سلویٰ اترتا ہے وہ بعض حالات میں حیرت انگیز ہے ..... پولیس کے معمولی سپاہی سے بڑے افسروں تک ..... فضل ربی کے وافراثرات پہنچتے رہتے ہیں ..... کم از کم میں ڈپٹی سپرٹینڈنٹ پولیس کے درجے تک فضل ربی کی ریل پیل سے ذاتی طور سے اس لیے واقف ہوں کہ میرے ایک آشنا اس عہدے پر فائز تھے ..... 

ڈپٹی سپرٹینڈنٹ پولیس کو تنخواہ کتنی ملتی ہوگی یہ تو مجھے نہیں معلوم ..... یہ ضرور معلوم ہے کہ آمدنی وہم و گمان سے بھی کچھ زیادہ ہوتی ہوگی ..... رقم کا تخمینہ بہت دشوار ہے ..... لیکن ان کے اخراجات کا اندازہ لگاتے ہوئے یہ کہا جانا چاہیے کہ ان کی ماہانہ آمدنی پچاس ساٹھ ہزار پاکستانی روپے سے کم کیا ہوگی ..... پچاس ساٹھ ہزار روپیہ تو ضرور ہوگی ..... اس لیے کہ ان کے اخراجات کے بعض شعبوں کا مجھے علم ہے ..... 

اتنی بڑے ماہوار رقم بصورت ’’فضل ربی ‘‘ ہی آسکتی ہے ..... غالباً پاکستان میں اتنی بڑی تنخواہ ہیں تو کسی کو نہیں ملا کرتیں ..... مجھے صحیح معلوم نہیں اس لیے کہ تیس سال سے میں باہر مقیم ہوں ..... 

اسی طرح محکمہ کسٹم پاکستان بڑا غریب پرور اور ’’امیرساز ‘‘ محکمہ تھا ..... اس محکمے میں بھی لاہور میں میرے ایک دوست ملازم تھے ..... اس دنوں لاہور اور امرتسر کے درمیان ٹرین کی آمدورفت کا سلسلہ تھا ..... اور یہ صاحب لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہی ہندوستان سے آنے والی ٹرین کے کسٹم میں کام کرتے تھے ..... ان کے پاس بھی یقیناً دست غیب کا عمل تھا ..... یہ میں ہرگز نہیں کہتا کہ وہ حرام خوری کرتے تھے تو بہ..... مسلمان آدمی حرام خوری تو کرہی نہیں سکتا ..... خصوصاً نقد اور اشیاء ضرور یہ کے ضمن میں ..... اس لیے کہ ہر آنے والی چیز پر اللہ کا نام پڑھ کر پھونک دینے سے وہ حلال اورپاک ہوجاتی ہے ..... یا ہوجاتی ہوگی ..... صحیح تو کوئی ملاّ ہی بتا سکتا ہے ..... !

ہندوستان سے آنے والے مسافروں کے سامان کی یہ کسٹم والے وہ نوچ کھوٹ مچاتے تھے کہ توبہ بھلی ..... لوگ رونے کو ہوجاتے تھے ..... میری رفیق مکرم کے گھر بھی اشیائے خوردنی اور ضروریات زندگی کی وافر مقدار رہتی تھی کہ شاید و باید .....! پیسہ گویا برستار تھا .....!کبھی کوئی ایسی کتاب نظر سے نہیں گذری جس میں رشوت خوری اور حرام خوری کی مکمل تاریخ ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ مرتب کی گئی ہو.....

لاہور میں چوبرجی کے قریب ایک عمارت پر ’’محکمہ انسداد رشوت ستانی ‘‘ کا بورڈ لگا ہوا دیکھا گیا تھا ..... لیکن اس محکمے کی عمارت جس کثافت گندگی بے توجہی اور لاپرواہی کا شکار تھی اس کے پیش نظریہ قسم کھائی جاسکتی تھی کہ اس عمارت میں کام کرنے والے نہایت ایماندار بہت ہی دیندار اور صاف و شریف النفس لوگ ہونگے ..... اور یہ گمان درست بھی ہے ..... وہ سب ایسے ہی تھے ..... البتہ نجانے کیوں کئی اصحاب نے غالباً کسی بدگمانی کے تحت ..... اس محکمے کے نام میں تصرف بے جا کر کے اس کو محکمہ افزائش رشوت ستانی کر دیا تھا ..... ممکن ہے محض تفنن طبع کیلئے ایسا کیا ہو..... ! 

رشوت لینے کے ’’کارخیر‘‘ میں پھنسنے والا رشوت دے کر چھوٹ جاتا ہے ..... 

یہ دلاور فگار کی کہی ہوئی بات ہے ..... ان کا مصرع یوں ہے : 

لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کہ رشوت چھوٹ جا (جاری ہے )

شکار۔۔۔۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان...قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں