سپیکر کے چیمبر میں احسن اقبال اور مراد سعید میں خوفناک لڑائی، دھمکیاں ؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

سپیکر کے چیمبر میں احسن اقبال اور مراد سعید میں خوفناک لڑائی، دھمکیاں ؟ ...
سپیکر کے چیمبر میں احسن اقبال اور مراد سعید میں خوفناک لڑائی، دھمکیاں ؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار رﺅف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ پیر کے روز سپیکر کے چیمبر میں احسن اقبال اور مراد سعید میں خوفناک لڑائی ہوئی اور ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی، اس دوران سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صدمے کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔

نجی ٹی وی آپ نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار رﺅف کلاسرا نے کہا کہ سپیکر چیمبر میں احسن اقبال آئےجن کے ہمراہ سابق  ڈپٹی سپیکر بھی تھے ،اس سے قبل مراد سعید بھی وہان پر براجمان تھے ۔  سابق وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید میں سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں کرپشن کے الزامات پر شدید لڑائی ہوئی اور دونوں میں ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی، چھڑالیاگیا اور پیچھے کرلیا گیااور اس کا آغاز احسن اقبال نے کیا۔ دونوں کی لڑائی کے دوران سپیکر اسد قیصر شاک کی حالت میں تھے، احسن اقبال کا موقف ہے کہ مراد سعید انہیں اور سی پیک کو بدنام کر رہے ہیں۔رﺅف کلاسرا نے دونوں کے مابین ہونے والی لڑائی کی وجہ مراد سعید کی پیر کے روز قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کو قرار دیا جن میں مرادسعید نے دعویٰ کیا کہ 50 بلین روپے کا سکھر موٹروے میں کیسے اضافہ کیاگیا؟ یہ بدعنوانی ہے کیونکہ منصوبے پر نظرثانی کی گئی اور پچاس بلین روپے پی سی ون بننے کے بعد کیسے اضافہ ہوگیا، شواہد ہیں کہ کرپشن ہوئی اور اس بات پر مرادسعید قائم تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لڑائی پارلیمنٹ کے اندر لڑی جارہی تھی وہ اب سپیکر آفس تک جاپہنچی ہے ، احسن اقبال کو قومی اسمبلی میں جواب دینا چاہیے تھا، اس موقع پر احسن اقبال زیادہ غصے میں تھے اور دھمکی بھی دی کہ دیکھ لوں گا، اس موقع پر مراد سعید کم ہی بولے اور کہا کہ اس معاملے پر ایوان میں ہی بات ہوگی ، پھر احسن اقبال کے ساتھ موجود سابق ڈپٹی سپیکر نے معذرت بھی کی ۔ 

رئووف کلاسرا کاکہناتھاکہ اس موقع پر سپیکر بھی حیران پریشان تھے کہ میری موجودگی میں یہ سب کچھ ہورہاہے ، ڈپٹی سپیکر احسن اقبال کو ساتھ لے گئے اور احسن اقبال سے رابطہ کرنے پر ان کاکہناتھاکہ کوئی ایسی سخت تلخ کلامی نہیں ہوئی ، میں کوئی ایسا دھمکیاں دینے والا آدمی نہیں ہوئی ، مرادسعید کو صرف اتنا کہا کہ سینئر ز کی عزت کرنا سیکھیں،  ملتان سکھر ہائی وے پراجیکٹ پر چین کی تین کمپنیاں شامل تھیں، جن میں سے سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو پراجیکٹ ملا ، اگر اتنا ہی معاملہ ہے تو مراد سعید نے یہ معاملہ نیب کے سپرد کیوں نہیں کروایا، میں غلط بھی ہوسکتا تھا لیکن ایکنک میں کے پی کے کا نمائندہ بھی شامل تھا، اگر کوئی غلطی ہوئی تو انہیں پوائنٹ آؤٹ کرناچاہیے تھا، مراد سعید کو چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان کو ساتھ لے کر چین جائیں اور وہاں حکومت سے پوچھیں کہ انہوں نے اپنی کمپنیوں کوکیوں نامزد کیا تھا؟ سینئر صحافی کاکہناتھاکہ احسن اقبال نے یہ نہیں بتایا کہ 50 بلین روپے کیوں اضافی دیے گئے لیکن شاید ان کا کہناتھا کہ اس پراجیکٹ میں مزید کچھ منصوبے شامل کیے گئے ۔ 

مراد سعید کاکہناتھاکہ شدید لڑائی ہوئی، چلاتے بھی رہے  اور دھمکی بھی دی  تاہم بعدمیں معافی مانگی ۔ عامر متین نے بتایا کہ احسن اقبال نے اس بارے میں ٹوئیٹ بھی کیا کہ چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں، چینی سفارتکار  نے بھی تعریف کی لیکن متعلقہ وزیر صاحب تنقید کررہے ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ دونوں کے پاس عدالت اور نیب کے پاس جانے کا حق ہے ، یہ نہیں ہوگا کہ اس سے آپ کہیں کہ چین پاکستان کے تعلقات خطرے میں ہیں، ہم چین کی کمپنیوں سے بھی تفتیش کا حق رکھتے ہیں، مقامی کنٹریکٹر بھی چینی کمپنیوں کا نام استعمال کررہے ہیں، تفتیش کو پاک چین کا ایشو نہ بنائٰیں اور سی پیک کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ 

مزید : علاقائی /اسلام آباد /قومی