مریم نواز کی الف لیلیٰ کی داستان کوئی چار سال کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے ،یہ جمہوریت کی نہیں پارٹی میں جانشینی کے تخت کی جنگ ہے:صمصام بخاری

مریم نواز کی الف لیلیٰ کی داستان کوئی چار سال کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے ،یہ ...
مریم نواز کی الف لیلیٰ کی داستان کوئی چار سال کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے ،یہ جمہوریت کی نہیں پارٹی میں جانشینی کے تخت کی جنگ ہے:صمصام بخاری

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیراطلاعات پنجاب  سید صمصام علی بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ادراک ہونا چاہیے کہ ڈھیل کا لفظ وزیراعظم عمران خان کی لغت میں نہیں،مولانا فضل الرحمن سمیت پوری اپوزیشن کنفیوز ہے اور اے پی سی اپنے انعقاد سے پہلے ہی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے،مریم نواز کی الف لیلیٰ کی داستان کوئی چار سال کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے ،یہ جمہوریت کی نہیں پارٹی میں جانشینی کے تخت کی جنگ ہے۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے فنانس بل میں ترمیم کر کے ٹرانسپورٹ بسوں پر مجوزہ ٹیکس ختم کر کے عوام کو ڈیڑھ ارب روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے،ریونیو کے حصول میں پنجاب پورے ملک میں لیڈنگ فرام دی فرنٹ کا رول ادا کر رہا ہے، موجودہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع تر کر کے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے خاتمے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سید صمصام بخاری نے کہا کہ  مولانا فضل الرحمن سے اسمبلی سے دوری برداشت نہیں ہو رہی، جس اسمبلی پر انہیں اعتماد نہیں رہا ،ان کا بھائی اور بیٹا اسی اسمبلی کے ارکان ہیں،مولانا سمیت پوری اپوزیشن کنفیوز ہے اور اے پی سی اپنے انعقاد سے پہلے ہی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے،اگر اپوزیشن کی کوئی تجویز مفادعامہ کے لئے بہتر ہوئی تو ہم ان سے ضرور گفتگو کریں گے لیکن اپوزیشن کو ادراک ہونا چاہیے کہ ڈھیل کا لفظ وزیراعظم عمران خان کی لغت میں نہیں،اپوزیشن ہمیں کسی صورت بلیک میل نہیں کر سکتی، اپوزیشن کا ایجنڈا محض تنقید برائے تنقید اور سیاست برائے سیاست ہی ہے،پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے بر عکس مولانا فضل الرحمان کے مفادات مختلف ہیں، جماعت اسلامی کی شمولیت سے معذرت اے پی سی کیلئے پہلا دھچکا ہے، اے پی سی اکٹھے ہونے،گفتگو کرنے اور چلے جانے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگی،اس اے پی سی کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،یہ کرپشن بچانے کی جنگ ہے

ایک سوال کے جواب میں سید صمصام بخاری نے کہا کہ مریم نواز کی الف لیلیٰ کی داستان کوئی چار سال کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے، یہ جمہوریت کی نہیں بلکہ پارٹی میں جانشینی کے تخت کی جنگ ہے تاہم  مریم نواز نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران پارٹی میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، شہبازشریف کی خاموشی اور مریم نواز کی شعلہ بیانی کو سمجھنا مشکل نہیں،شہبا زشریف چپ کا روزہ توڑیں اور اپنی پوزیشن واضح کریں،ممکن ہے آئندہ شہبازشریف کو مریم بی بی سے پوچھ کر اسمبلی میں بولنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ہر جائز بات مانیں گے لیکن ان کو آئینہ دکھاتے رہیں گے، کچھ عناصر قطر کے سربراہ کے دورہ پاکستان کی اہمیت کم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، ان عناصر کو ادراک ہونا چاہیے کہ قطری سربراہ کسی قسم کے قطری خط کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ ہمارے برادر ملک کی طرف سے پاکستان میں 3ارب ڈالر کی امداد اور سرمایہ کاری کی نوید سنائی گئی ہے،قطر سے دوطرفہ سرمایہ کاری 9ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی،جس سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور