اشرافیہ کا جہاں اور ہے غربت کا جہاں اور

اشرافیہ کا جہاں اور ہے غربت کا جہاں اور
 اشرافیہ کا جہاں اور ہے غربت کا جہاں اور

  


مجھے یقین ہو چلا ہے کہ سیاسی اشرافیہ کی دُنیا الگ ہے۔ اُس کی دُنیا کا پاکستان کے غریبوں کی دُنیا سے کوئی تعلق نہیں۔یہ آج کی بات نہیں، سات دہائیوں کا قصہ شرمناک ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ دہائی غریب عوام کی دیتی ہے، مگر اُس کے لئے کچھ کرتی نہیں،بلکہ اُلٹا اُسے ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کی صورتِ حال سے دوچار کر دیتی ہے۔اب اس حالیہ قصے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ تحریک انصاف نے ملک کو غربت سے نکالنے کا دعویٰ کر کے غریبوں سے ووٹ لئے تھے، مگر درحقیقت غربت تو پہلے سے بڑھ گئی ہے۔وہ بھی غربت کے دائرے میں شامل ہو گئے، جو بڑی مشکل سے اس دائرے سے نکل کر مڈل کلاس میں شامل ہوئے تھے،مگر دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے کہ اپوزیشن نے غریبوں کے نام پر واویلا تو بہت کیا،لیکن عملی طور پر نہ سڑکوں کی سیاست کی اور نہ ہی احتجاج کیا۔

بجٹ کو یکسر مسترد کرنے کا لایعنی نعرہ لگایا، حالانکہ ایک بھرپور مطالعے اور تیاری کے ذریعے حکومت کے پیش کردہ بجٹ کی غریب دشمنی کو واضح کرنا چاہئے تھا،بلکہ عوام بھی یہ جاننے میں کامیاب رہتے کہ اُن کی حالت بگاڑنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔آپ صبح سے لے کر شام تک ٹی وی چینلوں پر خبریں دیکھیں یا ٹاک شوز، ہر وقت یہی گردان نظر آئے گی کہ گرفتاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔ اپوزیشن کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے یا پھر بات اس نکتے پر آ کر ٹوٹے گی کہ نیب انتقامی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ناانصافی بھی کر رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریاں کی جاتی ہیں، جو حکومتی صفوں میں چھپ جائے، اُسے معافی کا پروانہ مل جاتا ہے، اس سارے قصے میں غریب عوام کہاں ہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

تمام اقتصادی سروے بتا رہے ہیں کہ پاکستان شدید مہنگائی کی زد میں ہے اور محدود آمدنی والوں کے لئے جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔اسمبلی کی کارروائی کو دیکھیں تو کوئی ایک رکن بھی ایسا نہیں ملے گا جو غریب عوام پر بات کرنا چاہتا ہو،وہ صرف اپوزیشن یا پھر حکومت کے قصے کہانیاں ہی سناتا دکھائی دے گا۔اس تکیہ کلام کی کیا ضرورت ہے کہ غریب کو جیتے جی مار دیا گیا ہے۔ آپ اعداد و شمار سے ثابت کریں کہ حکومت نے بجٹ میں کہاں کہاں غریب کش اقدامات اٹھائے ہیں، بجٹ کو اس کے مطابق تبدیل کرنے کے لئے کس نے اور کیا بات کی ہے۔ بجٹ سیشن چل رہا ہے،لیکن باتیں کیا ہو رہی ہیں۔وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟

این آر او کون مانگ رہا ہے، حکومت ناکام ہو گئی ہے؟ نالائق اعظم نے ملک تباہ کر دیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ بجٹ سیشن میں کرنے کی باتیں ہیں، عوام کا مسئلہ یہ لایعنی گفتگو نہیں۔ان کا مسئلہ تو غربت ہے، بھوک ہے،ٹیکسز میں اضافہ ہے، ریلیف ہے جو نہیں مل رہا۔ایک زمانہ تھا کہ اپوزیشن بجٹ سیشن میں پوری تیاری سے حصہ لیتی تھی،بلکہ بجٹ کے مقابلے میں اپنا پیش کر دیتی تھی،مگر اب تو بجٹ کو صرف چند جملوں کے ذریعے رد کرنے کی روایت چل پڑی ہے۔اُدھر حکومتی بنچوں کی طرف سے بھی سوائے اپوزیشن کو چور لٹیرے اور ڈاکو کہنے کے بجٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا۔یوں لگ رہا ہے کہ جیسے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔کیا ہم پارلیمانی روایات کے لحاظ سے ترقی ئ معکوس کا شکار ہیں؟ کیا صرف سپیکر یا ڈپٹی سپیکر ہی بتا سکتا ہے کہ صحیح کیا اور غلط کیا ہے۔ کیا خود ارکان پارلیمینٹ کو معلوم نہیں کہ اُن کی حدود و قیود کیا ہیں۔

اس وقت قومی اسمبلی کے اندر جتنے بھی منتخب ارکان موجود ہیں،اُن سب نے عام انتخابات میں اپنے حلقے کے عوام کو کیسے کیسے خواب نہیں دکھائے ہوں گے،کیسے کیسے وعدے کر کے یہ لوگ اسمبلی میں نہیں پہنچے،مگر یہاں پہنچ کر اُن کا ہرجائی پن کس قدر بے نقاب ہو جاتا ہے۔انہیں خیال تک نہیں آتا کہ اُن لوگوں کی بات بھی کریں،جن کے ووٹوں سے اس ایوان تک پہنچے ہیں۔اپنے قائدین کے جھوٹے سچے قصیدے پڑھنے میں مصروف یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ صرف یہی وہ مقصد نہیں، جسے لے کر وہ اسمبلی میں آئے ہیں۔اُن کا اصل مقصد تو عوام کی خدمت ہے،اُن کے مسائل حل کرنا ہے۔ بجٹ میں اگر ٹیکسوں کا غضب ڈھایا گیا ہے یا بقول اپوزیشن یہ غریب کش بجٹ ہے تو پھر بجٹ پر بات کیوں نہیں کی جاتی،عوام کا حال کیوں بیان نہیں کیا جاتا، کیوں لایعنی بحثوں اور الزام تراشیوں میں قیمتی وقت ضائع کیا جاتا ہے؟مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہ بجٹ جسے اپوزیشن بدترین اور عوام دشمن قرار دے رہی ہے،جوں کا توں منظور ہو جائے گا۔

اپوزیشن عین موقع پر بائیکاٹ کر جائے گی، حالانکہ اُسے جہاں جہاں اس بجٹ میں عوام پر ناجائز بوجھ ڈالا گیا ہے،وہاں ترامیم اور کٹوٹی کی تحاریک پیش کرنی چاہئیں،مگر ایسا نہیں ہو گا۔شور شرابے میں بجٹ کی منظوری ہو جائے گی اور پھر سارا سال عوام اس بجٹ کا عذاب بھگتیں گے۔یہی ہماری روایت رہی ہے اور اسی پر ہمیشہ سے عمل ہوتا آیا ہے۔کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو بتائے کہ 71 برسوں میں کب عوام کو ریلیف ملا ہے۔ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھی ہی ہے، کم نہیں ہوئی۔

غریب مزید غریب ہوا ہے اور جان کے لالے اُس کی قسمت بنے ہیں۔بھٹو کے بعد عمران خان دوسرے وزیراعظم ہیں جو خالصتاً عوام کی حالت بدلنے کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے،مگر نہ بھٹو کچھ بدل سکے اور نہ عمران خان کے بس میں کوئی تبدیلی لانا دکھائی دیتا ہے، بلکہ اشرافیہ نے بڑی صفائی سے انہیں ایک ایسی راہ پر ڈال دیا ہے، جو اُن کے ا میج کو تباہ کر رہی ہے۔ مستقبل بعید میں تو شاید کوئی معجزہ ہو جائے، لیکن مستقبل قریب میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ عوام کو کچھ دے سکیں، اُلٹا وہ مانگ رہے ہیں اور آئے روز اُن کے ایسے بیانات کہ ٹیکس نہ دیئے گئے تو ملک نہیں چلے گا،عوام کو مزید مایوسی کا شکار کر رہے ہی۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی چند فیصد اشرافیہ جس نے90فیصد قومی وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے، کبھی اصلاحات کا رُخ اپنی طرف نہیں ہونے دیتی۔ایف بی آر اور ایف آئی اے چاہے جتنا بھی زور لگا لیں، اس اشرافیہ سے نہ ٹیکس وصول کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے شکنجے میں لا سکتے ہیں،اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں،سارا زور ایمنسٹی سکیم پر دیا جا رہا ہے کہ آؤ اور اپنا کالا دھن سفید کرا لو، بجٹ میں اس طبقہ ئ اشرافیہ پر براہِ راست کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

سب کچھ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے،جو مرے کو مارے شاہ مدار کی بدترین شکل ہے۔ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے تو پھر بھی بچ جائیں گے۔ڈیڑھ سے چار فیصد تک دے کر اُن کے سرمائے کو دودھ سے دھلا ہونے کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا، وہ مزید تگڑے ہو جائیں گے، عوام کو تو سارا سال ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے رہنا ہے، انہیں تو سوائے ہوا کے ہر چیز ٹیکس لگا کر ملے گی، گھی اور چینی تک مہنگی کرنے والے کیا جانیں کہ غریبوں پر کیا گذر رہی ہے۔ ایک طرف یہ حال ہے تو دوسری طرف اشرافیہ کے چونچلے ہیں۔ اے پی سی بلائی جا رہی ہے اور اسمبلی کے اندر ایک دوسرے پر جملے کسنے کا مقابلہ جاری ہے۔

کل مجھے انکم ٹیکس کے ایک سینئر ترین وکیل عبدالستار بتا رہے تھے کہ قوانین تو ہمیشہ سے ہی سخت رہے ہیں،مگر اُن پر عملدرآمد کون کرے؟ پچھلے سال ایک قانون بنایا گیا تھا کہ اب جو کوئی بھی اپنی جائیداد کی مالیت اصل سے کم بتائے گا،حکومت اُس کی بتائی گئی مالیت سے دو گنا دے کر وہ جائیداد بحق سرکار ضبط کر لے گی۔ اس پر عملدرآمد کہاں ہوا ہے؟ کروڑوں روپے کی کوٹھیاں لاکھوں کی بنا کر گوشوارے بھرے جاتے ہیں، مجال ہے کوئی پوچھ سکے۔

اُن کی اس بات سے مجھے یاد آیا کہ تنخواہ دار طبقے سے اُن کے پانچ مرلہ مکان کی بھی مارکیٹ ویلیو مانگی جاتی ہے، ایک ایک نکتے پر اعتراض کیا جاتا ہے،لیکن یہ طبقہ ئ اشرافیہ ہر پوچھ گچھ سے محفوظ ہوتا ہے،حکومت ایمنسٹی سکیم کے ذریعے ناجائز اثاثے ڈھونڈتی پھر رہی ہے،حالانکہ صرف پوش کالونیوں میں دو دو کنال کی کوٹھیوں کا ایک سروے کرا لیا جائے تو کالے دھن کے پہاڑ سامنے آ جائیں گے، مگر ایسا نہیں ہو گا اور عذر یہ پیش کیا جائے گا کہ ہم بے چینی نہیں پھیلانا چاہتے۔ وزیراعظم کے آئے روز خطاب سے جو مجموعی بے چینی پھیل رہی ہے اُس کی بھی کسی کو فکر ہے یا صرف اشرافیہ کو ایک طرف کرکے باقی پوری قوم کو نشانے پر رکھ لیا گیا ہے؟

مزید : رائے /کالم