کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (2)

کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (2)
کچھ فوج اور فوجیوں کے بارے میں (2)

  


گزشتہ کالم میں کہا گیا کہ فوج کے امیج کے گہنائے جانے کے بارے میں اگر کوئی کٹ آف ڈیٹ مقرر کی جانی ہو تو وہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ ہو سکتی ہے۔ اس جنگ سے 6برس پہلے 1965ء کی جنگ میں 23ستمبر 1965ء کو جنگ بندی کے سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو اور فیلڈ مارشل کے درمیان جو اختلاف پیدا ہوا وہ سول ملٹری یکجہتی کے قلعے میں گویا پہلا شگاف تھا۔ بھٹو کا استدلال تھا کہ پاکستان نے ایک جیتی ہوئی جنگ تاشقند میں جا کر ہار دی۔ عوام کی رائے منقسم کرنے کا یہ پہلا بیج تھا جو ایک سویلین سیاستدان نے بویا۔ اس کے بعد سول اور ملٹری لیڈرشپ کے مابین سپرمیسی کا نہ ختم ہونے والا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ جب 1969ء میں ایوب خان نے عہدۂ صدارت سے استعفیٰ دے دیا تو ساتھ ہی خانہ جنگی سے بچنے کے لئے اقتدار فوج کے حوالے کر دیا۔

جنرل یحییٰ نے 1970ء میں الیکشن کروائے جس میں واضح ہو گیا کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں طرزِ حکمرانی کے سوال پر بُعدالمشرقین ہے۔ مجیب اور بھٹو دونوں وزارت عظمیٰ کا تاج اپنے سر سجانا چاہتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد مشرقی پاکستان کی جنگ نے ملک کو دو نیم کر دیا۔ یوں بھٹو مغربی پاکستان کے مسیحا بن کر ابھرے۔ لیکن سول ملٹری حکمرانی کی خلیج اس مسیحا کے دور میں اور بھی گہری ہو گئی۔ 1965ء کی جنگ میں فوج کا جو امیج بنا تھا وہ 1971ء کی جنگ میں پاش پاش ہو گیا۔ میں نے اسی لئے گزشتہ کالم میں سول اینڈ ملٹری برتری کے مابین خطِ تقسیم کھینچنے کے لئے 1971ء کی جنگ کو ایک واٹرشیڈ قرار دیا تھا۔

1965ء کی جنگ میں فوج کے حق میں فنکاروں نے جو ترانے گائے ان کے علی الرغم 1971ء کی شکست نے جمہوریت کے ’ترانوں‘کو جنم دیا جو آج تک جاری و ساری ہیں۔ یہ سوال کہ ایوب خان کی آمریت کے ایام،بعدمیں آنے والی جمہوریت کے ایام کے مقابلے میں ملک دوست تھے یا ملک دشمن تو اس پر بحث و مباحثے کے جو طومار کھڑے کر دیئے گئے وہ اب تک جاری ہیں بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے……

مارشل لاء کا پاکستان میں ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو سکتا تھا اگر بھٹو اپنے انفرادی شخصی امیج کو فوج کے اجتماعی امیج کے مقابل کھڑا نہ کرتے۔ فوج تو جمہوری حکمران کے تابع ہوتی ہے لیکن اگر اس متابعت کو ضرورت سے زیادہ کھینچا جائے تو وہی منظر پیدا ہو جاتا ہے جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا تھا:

قوتِ بے رائے جہل است و جنوں

رائے بے قوت ہمہ مکر و فسوں

]رائے (عوامی ووٹ) کے بغیر پاور کا تصور جھوٹ اور مکر و فریب ہے اور پاور،عوامی رائے کے بغیر بے حقیقت اور افسانہ ہے[

دوسرے لفظوں میں اقبال کہہ رہے ہیں کہ رائے (عوام/ جمہور) اور قوت (فوج) کو ایک دوسرے کا بازو بن کے رہنا چاہیے۔

افسوس صد افسوس کہ پاکستان کی رائے اور قوت کے معماروں نے اس صداقت کا ادراک نہ کیا۔ یہ کوئی ایسی راکٹ سائنس نہیں تھی کہ جس کی تفہیم کے لئے کسی بزرجمہر کی ضرورت ہوتی…… انو شیرواں کا عدل و انصاف مشہور ہے لیکن اس کی سوانح کا مطالعہ کریں تو آپ پر کھلے گا کہ اپنی پادشاہی کے اوائل میں اس جیسا سنگدل، قاتل، عوام دشمن، بے انصافیوں اور ظلم و ستم کا مرقع کوئی دوسرا ساسانی پادشاہ نہیں تھا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ بے اندازہ خونریزی کے بعد بھی خونریزی ختم نہیں ہوئی تو اس نے اپنے اندازِ حکمرانی کو 180ڈگری تبدیل کرکے عدل و انصاف کی طرف رجوع کیا اور ایرانی فرمانرواؤں میں سب سے زیادہ سربرآوردہ شہنشاہ،مشہور ہوا، کے خسرو، کے طہاسپ، کے قاؤس اور کے قباد وغیرہ پر واک اوور حاصل کیا اور تاریخِ عالم میں امر ہو گیا۔بقول سعدی شیرازی:

زندہ ست نامِ فرخِ نوشیرواں بعدل

گرچہ بسے گزشت کہ نوشیرواں نماند

بھٹو نے حمود الرحمن کمیشن قائم کیا اور اس کی TORمیں یہ درج کیا کہ معلوم کیا جائے کہ 1971ء کی جنگ میں شکست کے اسباب کے ذمہ دار کون تھے؟…… بندہ پوچھے ایک جج کو کیا معلوم کہ وجوہاتِ شکست کیا ہوتی ہیں اور اسباب فتح کے عنوانات کیا ہوتے ہیں؟…… یہ کوئی قانونی موشگافی نہیں تھی لیکن بھٹو صاحب چونکہ خود مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے اس لئے ان کو کون مشورہ دیتا کہ فنونِ لطیفہ اور فنونِ جنگ و جدال میں فرق ہے…… بھٹو کے قائم کردہ اس حمود الرحمن کمیشن نے شکست خوردہ پاکستانی فوج کو اور بھی افسردہ کر دیا۔ بھٹو نے فوج کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ان پر نمک پاشی کی اور یہ مقولہ بھول گئے کہ ہر ملک میں ہمیشہ ایک طاقتور فوج رہا کرتی ہے جو ملک کی بقا کا سب سے بڑا ستون سمجھی جاتی ہے۔ اگر اس ستون کو کھوکھلا کر دیا جائے تو پھر کوئی اور فوج آ جاتی ہے…… کوئی اور فوج تو پاکستان میں کیا آنی تھی اسی فوج نے جب دیکھاکہ بھٹو، ملک کے بنیادی پتھر کو کھسکارہے ہیں تو اس نے وہی کیا جو فوجی درسگاہوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

لیکن ضیاء الحق کے مارشل لاء اور بھٹو کی پھانسی نے ایک بار پھر اس خلیج کو مزید وسیع اور مزید گہرا کر دیا جو ایوب کے دور میں شروع ہوئی تھی اور جس کے بانی خود بھٹو صاحب تھے۔ بھٹو ایک ذہین و فطین بلکہ نابغہ ء روزگار سیاستدان تھے۔ کاش وہ سمجھ جاتے کہ اصیل عربی گھوڑے کو چابک زنی سے رام نہیں کیا جا سکتا اس کے لئے صرف چابک نمائی ہی کافی ہوتی ہے! ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد سول اینڈ ملٹری حکمرانی کے ادوار کا وہ سائیکل شروع ہوا جس نے اور کچھ کیا یا نہ کیا، فوج کے اس امیج کو داغدار کر دیا جس کے ترانے 1971ء کی جنگ سے پہلے گائے جاتے تھے۔

عوامی رائے چونکہ منقسم ہو چکی تھی اس لئے فوج میں کمیشنڈ رینک کی آمد کا بھی وہ معیار قائم نہ رہ سکا جو قبل ازیں تھا۔ اگست 1947ء میں ہمیں جو فوج برطانیہ سے ورثے میں ملی تھی وہ نان پولیٹیکل تھی۔ کاش حضرت قائداعظم اور قائد ملت کے بعد کوئی ان جیسا تیسرا بطلِ جلیل، عنانِ اقتدار سنبھالتا جو سول اینڈ ملٹری کے مابین اس مساواتِ اختیارات کو قائم رکھ سکتا جو انگریز کے دور میں تھی۔ برٹش ایمپائر جس میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس میں کسی بھی مقبوضہ کالونی میں کبھی رسمی مارشل لاء بھی نہ لگا۔ ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔

بڑے بڑے سورما تھے جنہوں نے فرانکو۔ جرمن وار (1870ء)، بوئروار (جنوبی افریقہ، 1902ء)، پہلی عالمی جنگ (1914ء) اور دوسری عالمی جنگ (1939ء) میں مختلف سمندر پار محاذوں پر جنگ و جدل کے عظیم معرکے لڑے لیکن کیا کسی کو خیال آیا کہ برطانوی وائسرائے / گورنر کو معزول کرکے مارشل لاء لگا دیا جائے؟…… کیا وجہ تھی کہ وہ لوگ ہمہ مقتدر ہوتے ہوئے بھی ”رائے اور قوت“ کا باہمی تناسب اور فلسفہ سمجھتے تھے جسے ہم ایک بار نہیں بار بار بھول کر بتدریج پاتال میں گرتے چلے گئے۔ ظاہر ہے اس کا اثر ملٹری لیڈرشپ کی کوالٹی پر تو ضرور پڑنا تھا،سو پڑا۔ وہ تو شکر ہے کہ 1971ء کی جنگ کے بعد 1999ء کا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب پاکستان نیوکلیرائز ہو چکا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جس غنیم نے 6ستمبر 1965ء کو بین الاقوامی سرحد عبور کر لی تھی اور جس نے اواخر نومبر برتر 1970ء میں مشرقی پاکستان پر بغیر اعلان جنگ کئے چڑھائی کر دی تھی وہ مئی جون 1999ء میں اپنے سینکڑوں سورمے ہلاک کروا کر بھی بین الاقوامی بارڈر کا رخ نہ کرتا۔

انڈین آرمی میں بھی کمیشنڈ رینک میں برسوں تک افسروں کی شدید قلت رہی۔ بہت سی ترغیبات (Incentives) دینے کے باوجود آج بھی وہاں حالات میں کوئی زیادہ بہتری نہیں آئی۔ اس قلت کی وجوہات پر انڈیا میں مبسوط مضامین اور مقالے شائع ہو چکے ہیں اور انڈیا نے اگرچہ ان معیاروں پر ایک بڑا سمجھوتہ کرلیا ہے جو کمیشنڈ رینک کی انڈکشن کے لئے ضروری ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہاں معیار کی وہ کمی پوری نہ ہو سکی جو 1980ء کے عشرے سے مسلسل چلی آ رہی ہے۔ پاکستانی GHQ اس موضوع کو متواتر دیکھتا اور اس کو زیرِ نگاہ رکھتا رہا ہے۔ بلکہ خود پاکستان نے بھی ازراہِ مجبوری کمیشنڈ رینک کی Intake پوری کرنے کے لئے ”جسم و جاں“ کے ان برترمعیاروں میں اس کمتری کو قبول کر لیا جو 1965ء کی جنگ تک افواج پاکستان کے چناؤ کی یارڈسٹک تھے۔ لیکن پھر بھی خدا کا شکر ہے کہ اس کے باوجود پاکستان کی آفیسرز کلاس میں ابھی تک وہی دم خم موجود ہے جو 1965ء کی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔

2001ء سے لے کر اب تک کے دو عشروں میں ہمارے جو آفیسرز شہید ہوئے ان میں جنرل سے لے کر لیفٹین تک کے رینک شامل تھے لیکن باایں ہمہ قوم اور فوج کا مورال کچھ زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ اس کی وجوہات جاننا بھی ضروری ہے اور یہ پہچاننا بھی ضروری ہے کہ 26فروری 2019ء کو انڈیا نے جو بڑی چھلانگ لگائی اور ایل او سی عبور کرکے بالا کوٹ پر حملہ کر دیا تھا تو اس کا جواب اگلے روز کس طرح دیا گیا۔ 27فروری کا فضائی معرکہ میرے خیال میں 1999ء کی کارگل وار کے بعد انڈین آرمی کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔ ہماری سول اور ملٹری لیڈرشپ نے جس تحمل، بردباری، دریادلی، پروفیشنل سوجھ بوجھ اور بین الاقوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کا کارنامہ دکھایا وہ باعث صد اطمینان ہے۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم