مریم نواز: آئرن لیڈی آف پاکستان

مریم نواز: آئرن لیڈی آف پاکستان
 مریم نواز: آئرن لیڈی آف پاکستان

  


مریم نواز نے اپنے آپ کو آئرن لیڈی آف پاکستان ہیں۔ نواز شریف اب مریم کے لہجے میں بولتے ہیں البتہ وہ گھن گھرج جو مریم کے ہاں قطعی طور پر عیاں ہے وہ نواز شریف کے لہجے میں کلی طور نہاں رہی ہے۔ مریم کا نکھرا ہوا اور نیا لہجہ سب کو متوجہ کر رہا ہے، مریم گھٹن زدہ اور دبے ہوئے معاشرے کا مرہم ہے، اب پوری قوم اس کے ساتھ ہے۔

روسی صدر پیوٹن کی سوانح نگار خاتون نے ایک انٹرویو میں کہا تھا روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی انسانوں پر ریاست کو فوقیت دیتی ہے۔ یہ حقیقت صرف کے جی بی تک محدود نہیں ہے، دنیا میں جہاں بھی عسکری قوت ہوگی وہ ریاست کو انسانوں پر ترجیح دے گی۔ یہ تو سیاستدان ہوتے ہیں جو انسانوں کی بات کرتے ہیں، ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور پھر ان حقوق کی پاسداری کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی سزا سہہ رہے ہیں۔ اپنی پریس کانفرنس میں مریم نے بھی کہا کہ وہ آئین کی پاسداری، صحافت کی آزادی اور عوام کی آواز بننے کے لئے قربانی کا بکر ابننے کو تیار ہے، یہ مشکل سفر ہے مگر اس کا عزم صمیم بتاتا ہے کہ وہ اس سفر کے لئے تیار ہے۔

بے نظیر بھٹو کی مریم نواز بھی ایک بہت بڑا ردعمل ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ کھل کر بات کرسکتی تھی، مریم کھل کر بات کرے تو بھی چپ کا روزہ نہیں توڑتی، وہ وقت لد گیا جب وہ واشگاف انداز میں کہتی پائی جاتی تھی کہ روک سکو تو روک لو!بے نظیر بھٹو جتنی پڑھی لکھی خاتون تھیں مریم اتنی ہی سمجھدار سیاستدان ہے، اس نے وقت کی نزاکت کو بھانپا ہے اور نواز شریف کے نظریے اور نعرے کو ایک ایسے وقت میں زندہ رکھا ہے جب نون لیگ کی قیادت مصلحتوں کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔ مریم ڈنکے کی چوٹ پر وہ کچھ کہتی ہے جو شہباز شریف قومی اسمبلی میں مائیک ملنے کے باوجود نہیں کہہ پاتے، جو حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں حکومتی بنچوں کی خاموشی کے باوجود نہیں کہہ سکتے۔

مریم عوام کی پارلیمنٹ میں سرخرو ہے کیونکہ وہ دلوں کے وزیر اعظم کی بیٹی ہے۔ اس میں وہ جرات ہے جو بے باک قیادت کا خاصہ ہوتی ہے، اس میں وہ ہمت ہے جو عوام کی نمائندگی کرنے والے کی شان ہوتی ہے، اس میں وہ جذبہ ہے جو سوچوں کو مہمیز کردیتا ہے، اس میں وہ خودداری ہے جو قیدو بند کی صعوبتوں میں اور چمک جاتی ہے، وہ کوئے یار سے نکل کر سوئے دار جانے کی ہمت رکھتی ہے، اس نے ماں کو گنوایا، وہ اپنے باپ کو کھونا نہیں چاہتی، پاکستانیوں کے لئے قیمتی آدمی کو محفوظ بناناچاہتی ہے، لوگ اس کے ساتھ ضرور نکلیں گے!

ماڈل ٹاؤن میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران مریم نے الٹے سوالوں کے جس طرح سیدھے جواب دیئے اس سے پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ہلچل مچ گئی۔ حکومت سے لے کر اپوزیشن اور اپوزیشن سے لے کر اسٹیبلشمنٹ ہر کسی نے مریم کی آواز کا نوٹس لیا ہے اور اپنے اپنے طور پر اس کی کہی باتوں کا تجزیہ کررہا ہے۔ اس کے باوجود کہ مریم اپوزیشن قیادت میں سوائے بلاول کے سب سے چھوٹی ہیں مگر ان کی جانب سے اے پی سی کے انعقاد سے پہلے جو کچھ کہہ دیاگیا ہے، وہی اب اے پی سی کا ایجنڈا ہوگا، اب مریم ہنسے گی تو لوگ اس کے ساتھ ہنسیں گے، مریم روئے گی تو لوگ اس کے ساتھ روئیں گے!

برصغیر نے اندراگاندھی اور بے نظیر بھٹو کے روپ میں بڑی قد آور شخصیات دیکھی تھیں، اب مریم کے روپ کو اس لئے بآسانی اور تیزی سے قبول کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں راستہ اول الذکر دونوں بہادو خواتین ہموار کرچکی ہیں، دنیا کے اس حصے میں سٹیٹس کو کی قوتوں کو بے نظیر بھٹو کے بعد مریم نواز نے للکار ا ہے، مریم کی للکار ہند سندھ سن رہا ہے، وہ سندھ میں جائیں گی تو وہاں بھی ان کی خوب پذیرائی ہوگی۔

ملک کے ان طبقوں کو جو آئین اور انسانوں کے حقوق کی بات کرتے نہیں تھکتے، مریم نواز کی آواز میں آواز ملانی چاہئے۔ مریم کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا دراصل پاکستان کو مضبوط کرنا ہے، وہ سچی پاکستانی ہے اور اس میں کوئی کھوٹ نہیں ہے، اس نے سیاست کا عروج اور زوال ایک ساتھ دیکھا ہے اور اس راہ میں بکھرے خار مغیلاں اس کے لئے نئے نہیں ہیں، ہم صرف اتنا کہیں گے کہ قدم بڑھاؤ مریم نواز، قوم تمھارے ساتھ ہے!

مزید : رائے /کالم