یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو

یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو

حکیم امت اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی نظم کا یہ شعر اس لئے یاد آ گیا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب کو میڈیا پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ افغانستان میں داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان اور مغربی ممالک اور خاص طور سے نیٹو اور یور پ کاموقف ایک ہے ۔ اس گفتگو کو کرتے وقت شاہ صاحب کا انداز بیاں انتہائی فخریہ تھا ایسا لگتا تھا کہ شاید پاکستان نے کشمیر فتح کر لیا ہے یا پھر اس سے بھی بڑا معرکہ کوئی سر کیاہے ۔ نقطہ جو بیان کرنے کا مقصد ہے وہ صرف یہی ہے کہ ہمارا طرز بیان اور ;ody nguage نہ جانے امریکہ کی غلامی کا طوق گردن میں ڈالنے پر اتنا فخریہ کیوں ہوتا ہے ;238;خیر یہ بھی ایک طویل بحث ہے ہم مدعا کی بات کرتے ہیں ۔

شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور یورپ کے موقف کو اس طرح فخریہ انداز میں بیان کیا ہے جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو ۔ لیکن شاہ صاحب کی خدمت میں صرف یہی عرض کیا جائے گا کہ جس داعش کی افغانستان میں موجودگی کے عنوان سے آپ نے بات کی ہے آ پ کو علم ہونا چاہئیے کہ شام و عراق سے ذلیل و رسوا ہونے کے بعد داعش کو اب افغانستان پہنچانے میں آپ کے یہی امریکہ ویورپی ممالک ہی ہیں جو داعش کو افغانستان میں گذشتہ ایک برس سے لا کر آباد کررہے ہیں ۔ روس کے اعلی عہدیدار اور سفارتی ذراءع اس عنوان سے کئی ایک رپورٹس شیئر کر چکے ہیں اور عالمی ذراءع ابلاغ پر کئی مرتبہ ایسے شواہد پیش کئے جاتے رہے ہیں کہ جن سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی مدد سے ہی داعش کو شام و عراق میں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد نکال کر افغانستان ٹرانسپورٹ کرنے میں امریکہ اور یورپی ممالک سر فہرست ہیں ۔

ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں وزیر خارجہ صاحب کی خدمت میں ادب سے ایک سوال پیش کر رہا ہوں ۔ سوال انتہائی سادہ ہے کہ جب دنیا جانتی ہے کہ شام اور عراق میں داعش کو وجود بخشنے اور داعش کی مالی مسلح مدد کرنے میں امریکہ اور یہی یورپی ممالک شامل تھے تو پھر اب افغانستان میں بھی یہ شیطانی قوتیں داعش کو مسحکم کرنے کی کوشش مین مصروف ہیں تو ایسے حالات میں آپ کایہ بیان دیا جانا کہ پاکستان اور یورپ اور نیٹو کا موقف ایک ہی ہے یہ کیا معنی رکھتا ہے ;238;کہیں آپ یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ امریکہ و یورپ جو کررہے ہیں خطے میں پاکستان بھی اس کا ایک حصہ ہے ;238; اگر ایسا ہے تو یقینا پاکستان کی عظیم و غیور ملت کی تضحیک و ہزیمت ہے ۔ اس بارے میں خود وزیر اعظم عمران خان صاحب کو اور صدر مملکت عارف علوی صاحب کو غور و فکر کرنا ہو گا ۔

قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ داعش جس کو شام اور عراق میں ذلت و رسوائی کا سامنا ہو اور سات برس تک معصوم انسانوں کا قتل عام کرنے والی داعش کا عوامی رضاکار قوتوں اور شام و عراق کی افواج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نیست و نابود کیا ہے ۔ ایسے حالات میں بھاگ جانے والے اور روپوش ہونے والے داعشی دہشتگردوں کو ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کے ذریعہ نکال کر افغانستان پہنچانے والے کوئی اور نہیں وزیر خارجہ صاحب کے با اعتماد ساتھی نیٹو اور یورپی ممالک ہی ہیں ۔

افغانستان میں داعش کا وجود لانے کا امریکہ اور یورپی ممالک کا ہدف بہت ہی واضح ہے ۔ یہان وسطی ایشیاء میں موجود قدرتی وسائل پر مکمل قبضہ کرنا امریکہ اور شیطانی یورپی قوتوں کا ایک مقصد ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرحدوں میں پاکستان اور ایران جیسے دو مسلم اور مضبوط قسم کے ممالک موجو د ہیں اور داعش کو یہاں ٹراسپورٹ کرنے کا ایک شیطانی ہدف یہی ہے کہ دونوں ممالک یعنی ایران اور پاکستا ن کے خلاف سازشوں کا نیا جال بچھایاجائے اور سرحدوں کو غیر محفو ظ کیا جائے ۔ اسی تناظر میں پاکستان میں پہلے ہی کچھ ایسی تحریکوں کو جنم دیا گیا ہے کہ جن کا مقصد افواج پاکستان کو عالمی صہیونی ایجنڈا کے تحت کمزور کرنا ہے اورداعش کی افغانستان سے براہ راست پاکستان ٹرانسپورٹیشن کو یقینی بنانا ہے ۔

آج جو پاکستان میں افواج پاکستان کے خلاف قبائلی علاقوں میں نفرت آمیز اور دہشتگردانہ کاروائیاں انجام دی جا رہی ہیں یہ سب کی سب براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر اسی تناظر میں ہیں کہ افغانستان کے راستے سے پاکستان کی طرف داعش کے لئے راستے ہموار کئے جائیں ۔ لیکن ہمارے ہاں تو صورتحال ہی کچھ اور ہے ہمارے انتہائی قابل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تو داعش کی بانی قوتوں اور پاکستا ن کے موقف کو ایک ہی قرار دیتے ہوئے فخر محسوس کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید پاکستان کا نام روشن کیا جا رہا ہے ۔

پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو ان نازک حالات میں یہ بات سمجھ جانی چاہئیے کہ جب افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی گھناءونی سازشیں جنم لے رہی ہیں تو ان سازشوں کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں ;238;آج ہر ذی شعور اس بات کو سمجھ رہاہے کہ عالمی صہیونزم کا ایجنڈا یہی ہے کہ مسلمان ممالک کی افواج کو کمزور کرو اور داعش جیسی دہشت گرد قوتوں کو ان ممالک میں داخل کرو اور پھر انفرا اسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ ساتھ انسانوں کا قتل عام اور انارکی پھیلائی جائے ۔ البتہ پاکستان میں یورپی اور نیٹو ممالک کی قوتیں ابھی تک اس سازش میں تاحال ناکام رہے ہیں لیکن اس کام کو ایسی تحریکوں کے ذریعہ انجام دے رہے ہیں جن تحریکوں کی حمایت براہ راست امریکہ اور اسرائیل سے کی جا رہی ہے ۔ اس لئے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو یہ باور کرنا ہو گا کہ امریکہ ویورپ کی غلامی یا دوستی میں کوئی عزت ہے اور نہ کوئی فخر بلکہ جس کسی نے بھی امریکہ اور یورپ کا سہارا لیا وہ ذلیل و خوار ہوا ۔ خود داعش جو امریکہ و یورپ کی پیدا وار تھی جب اللہ کے مجاہدوں کا سامنا ہوا تو ذلت کے اس درجہ کو پہنچی کہ گندکی گٹر لائینوں میں پناہ گاہیں بنانے پر مجبور ہوئی اور ان کو وہاں سے نکال نکال کر ذلیل و رسوا کیا گیا ۔ یہ ہے امریکہ اور یورپ کی دوستی کا نتیجہ ۔ اسی طرح اگر ہم ریاستوں کے تعلقات کامطالعہ کریں تو ایسی تمام ریاستیں جو امریکہ و یورپ کو اپنا دوست بتانے میں فخر کرتی ہیں سب سے زیادہ مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اند رموجود بہت سارے مسائل اور مشکلات کی جڑ بھی امریکہ اور اس سے ہماری دوستی اور اس پر اعتماد کا نتیجہ ہے ۔

ایسے حالات میں شاہ محمود قریشی کو تو یورپ کا سہارا اور غلامی اختیار کرنے پر فخر محسوس ہوتا ہو گالیکن پاکستان کے عوام دنیا کی ان تمام شیطانی قوتوں بشمول امریکہ، یورپ او ر ان کے آلہ کار چاہے وہ داعش کی شکل میں ہوں یا پھر داعش کے حمایتی ہوں یاپھر کسی بھی نام سے ایسی تحریکیں ہوں جن کا مقصد پاکستان کی افواج کو کمزور کرنا اور داعش کے لئے راہ ہموار کرنا ہو، ایسے تمام معاملات مسترد کرتے ہیں ۔ اقبال واقعی ایک حکیم تھے کہ جنہوں نے اپنی شاعری میں ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آپ کے اشعار آج بھی ایسے موقعوں پر رہنمائی کرتے ہیں جب کچھ وزراء یا حکومتی افراد ملکی واجتماعی مفاد کے بجائے امریکہ و یورپ کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کی کوششیں کرتے نہیں تھکتے ۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

معلوم کسے کہ ہند کی تقدیر کہ اب تک

بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے ۔

یعنی کچھ معلوم نہیں کہ ہندوستان کی قسمت میں کیا لکھا ہے؟ اور بیچارے تو اب تک انگریز سرکار کے تاج کے چمکتے ہوئے موتی ہیں ۔

دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ

بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمین ہے

یعنی اس ملک کے دہقان کو دیکھو، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ابھی ابھی کسی قبر نے مردہ اگل کر زیر زمین سے بالائے زمین پھینک دیا ہو لیکن اس کا کفن زمین کے اندر ہی رہ گیا ہو ۔

جاں بھی کرو غیر اور بدن بھی کرو غیر

افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے،نہ مکیں ہے

یعنی اقبال کہتے ہیں کہ انسانوں کی حالت زار ایسی کہ نہ انکو کچھ کھانے کو ملتا ہے اور نہ پہننے کو ۔ اس کی جان اور جسم غیر کے پاس گروی رکھے ہوئے ہیں ۔ افسو س تو اس بات کا ہے کہ نہ مکان باقی رہا اور نہ ہی مکین ۔

یورپ کی غلامی ہ ہوا رضا مند تو

مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں !

یورپ کی غلامی پہ تو اے میرے ہم وطن تو رضا مند ہو اہے سو میرا شکوہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ۔

خلاصہ کلام یہی ہے کہ حکومت کو امریکہ اور یورپ کی غلامی اور امریکہ ویورپ کے موقف کے ساتھ پاکستانی موقف کو جوڑنے کے بجائے آزاد اور خود مختار موقف اپنایا جائے جو نہ تو یورپ کامحتاج ہو اور نہ دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ کا محتاج ہو ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ