اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی،حکومت کےخلاف احتجاجی تحریک کا فیصلہ،اسمبلیوں سے استعفوں پر اتفاق نہ ہو سکا

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی،حکومت کےخلاف احتجاجی تحریک کا فیصلہ،اسمبلیوں سے ...
اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی،حکومت کےخلاف احتجاجی تحریک کا فیصلہ،اسمبلیوں سے استعفوں پر اتفاق نہ ہو سکا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کیخلاف احتجاج تحریک کافیصلہ کرلیااپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کےاندراورباہرمشترکہ تحریک چلائیں گی جبکہ اے پی سی میں اسمبلیوں سے استعفے دینے پر اتفاق نہ ہوسکا،اجلاس میں احتجاجی تحریک کیلئے کمیٹی بنا دی گئی،ہر جماعت سے ایک رکن کمیٹی کا ممبراور سربراہ متفقہ ہوگا،کمیٹی حکومت کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے ،اے پی سی میں پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن،اے این پی، قومی وطن پارٹی،پختونخواعوامی ملی عوامی پارٹی ،نیشنل پارٹی شریک ہیں ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کیخلاف احتجاج تحریک کافیصلہ کرلیا،اجلاس میں احتجاجی تحریک کیلئے کمیٹی بنا دی گئی،ہر جماعت سے ایک رکن کمیٹی کا ممبراور سربراہ متفقہ ہوگا،کمیٹی حکومت کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل طے کرے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی دھرنا سمیت تمام ایشوز پر مشاورت کرے گی جبکہ اے پی سی میں اسمبلیوں سے استعفے دینے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی ملک بھرمیں یوم سیاہ کے طورپرمناناچاہئے،25 جولائی 2018 کوعام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ،عوامی مشکلات اورحکومت کے خاتمے کےلئے مل کرآگے بڑھنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ دھاندلی سے بات شروع کی تھی معاملہ اب عوام کی داد رسی کا ہے ، حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے سڑکوں پر بھی آنا پڑے تو نکلنا چاہئے ۔مولانا فضل الرحمان نے 25 جولائی کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی تجویز کے بعد اسمبلیوں سے استعفیٰ کی تجویز دیدی جس پر دیگر سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کرلی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی جماعت نے مولانا کی استعفوں کی تجویز پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن کی جماعتیں مل کرکسی لائحہ عمل پرمتفق ہوں،حکومت چوری کے ووٹوں سے بنی ،عوام کی تکالیف کی ترجمانی نہ کی توبڑا برا ہوگا،انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے ہر حربہ اختیارکرنا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی شہبازشریف نے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام دشمن بجٹ نے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں ،بجٹ کوناکام بنانے کےلئے مل کرجدوجہد کرنی چاہیے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے رہبر کمیٹی کے قیام کی تجویز دےدی،رہبر کمیٹی میثاق معیشت اور قومی چارٹر تیار کرے گی۔صدر ن لیگ نے کہا کہ تمام اپوزیشن کی جماعتیں مل کرکسی لائحہ عمل پرمتفق ہوں،حکومت چوری کے ووٹوں سے بنی ،عوام کی تکالیف کی ترجمانی نہ کی توبڑا برا ہوگا،انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے ہر حربہ اختیارکرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر وہ حربہ اختیار کرنا چاہیے جس سے حکومت کو گھر بھیجا جا سکے،غیر مناسب بجٹ کو ناکام بنانے کیلئے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی چاہیے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیارولی کی چیئرمین سینیٹ کوہٹانے کی تجویز دیدی،اسفندیار ولی کاکہنا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت ہے،حکومت گرانے سے پہلے چیئرمین سینیٹ کوہٹایاجائے،انہوں نے کہا کہ چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ اپوزیشن کے ہونے چاہئیں،اپوزیشن نے یہ اقدام نہ اٹھایاتوعوام اعتمادنہیں کریگی،اے این پی کی احتجاجی تحریک کیلئے کمیٹی بنانے کی تجویزدیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی تجویزپراے پی سی میں غورکیا جائے ،انہوں نے کہ حکومت مخالف تحریک پنجاب میں شروع کی جائےں،میاں افتخار کاکہناہے کہ اے پی سی میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک پر اتفاق ہو گیا ہے ، کمیٹی احتجاجی تحریک سے متعلق پلان تیارکرےگی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد