بجٹ پاس نہ ہوا تو اپوزیشن کی دال روٹی بند ہوجائے گی ، فردوس عاشق اعوان نے اے پی سی کوناکام قراردیدیا

بجٹ پاس نہ ہوا تو اپوزیشن کی دال روٹی بند ہوجائے گی ، فردوس عاشق اعوان نے اے ...
بجٹ پاس نہ ہوا تو اپوزیشن کی دال روٹی بند ہوجائے گی ، فردوس عاشق اعوان نے اے پی سی کوناکام قراردیدیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اے پی سی دس گھنٹے جاری رہ کر ناکام ہوگئی ، حکومت کوگرانے کی باتیں کرنے والی کی سوچ چیئر مین سینیٹ کوہٹانے پر آکر ختم ہوگئی ،اے پی سی اعلامیہ میں کرپشن کا لفظ نظر نہیں آیا ، اپوزیشن کی اے پی سی کھسیانی بولی کھمبا نوچے تھی ، بجٹ پاس نہ ہوا تو اپوزیشن ارکان کی دال روٹی بندہوجائیگی ۔

تفصیلات کے مطابق اے پی سی کے اعلامیہ پر ردعمل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اے پی سی میں سیاسی اداکار پہنچے اور یہ سیاسی تماشہ چلتا رہا ، عوام توقع کررہی تھی کہ جو آستین چڑھا چڑھا کر حکومت کو گھر بھیجنے کی گردان سنا رہے تھے ، آج کسی بیانیے پر متفق ہوجائیں گے لیکن جو اعلامیہ آیا اس کو دیکھیں تو اس پورے اعلامیہ میں ایک لفظ کہیں نظر نہیں آئے گا ، وہ کرپشن کا لفظ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی گروز کو بجٹ میں بھی بے تحاشہ نقائص نظر آئے ، ادارے بھی کام کرتے دکھائی نظرنہیں آئے ، پورے نظام میں اتنی خامیا ں تلاش کیں کہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کی پارلیمانی ناکامی کا احاطہ کیا لیکن نہیں کیا تو کرپشن کے لفظ کے ساتھ کوئی اتفاق نہیں کیا ، وہ سرجوڑ کرکہتے کہ اس ملک میں ایک وائرس ہے جس کا نام کرپشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کرپشن کی پیداوار ہوں ، وہ کرپشن کے لفظ کو معیوب نہیں سمجھتے اورنہ اس کے خاتمہ کیلئے کوئی لائحہ شو کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس اعلامیہ کوپڑھ کر اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اے پی سی رہنماﺅں نے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور اس کا خیال اس وقت آیا کہ جب ان کویقین آیا کہ پاکستان ادارے مضبوط ہوگئے ہیں اور شکنجہ ان کے گردن کے نزدیک آرہاہے تو ان کوالیکشن دس ماہ بعد دھاندلی زدہ نظر آنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف نے نہیں بنایا تھا ،یہ الیکشن کمیشن اوراس کے تمام ممبر ان اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن نے تعینات کئے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس الیکشن کمیشن کے تحت سندھ میں الیکشن بھی ہوئے جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹڈ ، سلیکٹڈ کے بعت ریجیکڈڈ کی بات بھی ہونی چاہئے اور ایک سیاسی لیڈر ایسا بھی ہے جو پیدائشی طور پر دی فیکٹڈ ہے بھی ، اس سیریز کو آگے بھی جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اے پی سی ایسے ہی تھی کہ کہ جیسے کھسیانی بلی کھمبا نوچے ، دس ماہ کی حکومت کو کہا جارہا ہے کہ تمام ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں جس کی وجہ سے آج ہر پاکستانی مقروض ہے ،حکومت عوام کومشکلات سے نکالنے کیلئے کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ، بہ بجٹ پاس ہوگا کیونکہ اس کے ساتھ قومی دفاع اور ملکی مفاد اور اپوزیشن کے رہنماﺅں کی دال روٹی جڑی ہوئی ہے کیونکہ یہ بجٹ پاس نہیں ہوگا کہ تو پھر عوام کے درد میں نڈھال یہ اپوزیشن کے رہنماتنخواہ کہاں سے وصول کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ جواعلامیہ جاری کیا گیاہے ، یہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بد تہذیبی سامنے آتی ہے ، یہ اقبال جرم ہے ، یہ اعلامیہ نہیں ہے ، جن قرضوں کا ذکر ہے ، وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ حکومت ان قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے قرض لے رہی ہے جس کی وجہ سے روپے پر دباﺅ آیا اور عوام کرب سے گزر رہی ہے ۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا کے اقتدار سے علیحدگی کے دکھ سے تو ہر کوئی آگاہ تھا لیکن آج جو نیا مصالحہ ان کی طرف سے ڈالا گیاہے ، اس ظاہر ہوا کہ جنہوں نے دین کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا تھا ، اس سے ظاہر ہوا کہ معاشرے میں جو بے راہ روی پھیلی ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ دین محفوظ ہاتھوں میں نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اعلامیہ میں گاگی کاصیغہ ہے جو دھوکہ دینے کے مترادف تھے ، جوملا حکومت کو ختم کرنے نکلے تھے ، ان کی دوڑ سینیٹ کے چیئرمین کی برطرفی پرختم ہوگئی ہے ، حکومت کو برطرف کرنے کیلئے آنیوالے  چیئر مین اورڈپٹی چیئر مین کی برطرفی پر ان کی سوچ ختم ہوگئی ہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی