’کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کل سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی تو ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ ۔۔۔ ‘ سینئر صحافی سہیل وڑائچ بھی میدان میں آگئے

’کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کل سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی تو ایسا کچھ ...
’کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کل سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی تو ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ ۔۔۔ ‘ سینئر صحافی سہیل وڑائچ بھی میدان میں آگئے

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی کے بعد کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کل سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی تو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے اپوزیشن کی اے پی سی کے بارے میں کہا کہ یہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے سٹیپ فارورڈ ہے ۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے معاملے پر ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور فضل الرحمان میں اختلاف رائے بھی ہوا تھا لیکن اب اپوزیشن جماعتوں کا انہیں ہٹانے کیلئے اکٹھے ہونا ایک اگلا قدم ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کی اے پی سی اور 25 جولائی کے یوم سیاہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کل سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی تو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے مسائل کیلئے باہر نکلیں گی جس میں چیئرمین سینیٹ اور الیکشن میں دھاندلی کا معاملہ سرفہرست ہوگا لیکن یہ عوامی تحریک تبھی بن سکتی ہے جب یہ مہنگائی، بیروزگاری اور ٹیکسوں کے مسائل پر باہر نکلیں۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ڈائریکشن دے سکتی ہیں لیکن عوامی تحریکیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب عوام باہر نکلتے ہیں۔ اپوزیشن کی تحریک سے پہلے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا ستمبر اکتوبر میں ایسی صورتحال پیدا ہوچکی گی کہ عوام باہر نکلنے کیلئے تیار ہوں؟ یا حکومت اپنے معاشی ایجنڈے کو بہتر کرچکی ہوگی؟۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد