بجٹ میں رئیل سٹیٹ سیکٹرپر مزید ٹیکس لگائے گئے تو انڈسٹری تباہ اور ہم سول نافرمانی پر مجبو رہوجائیں گے:رئیل اسٹیٹ ایجنٹس ایسو سی ایشن

بجٹ میں رئیل سٹیٹ سیکٹرپر مزید ٹیکس لگائے گئے تو انڈسٹری تباہ اور ہم سول ...
بجٹ میں رئیل سٹیٹ سیکٹرپر مزید ٹیکس لگائے گئے تو انڈسٹری تباہ اور ہم سول نافرمانی پر مجبو رہوجائیں گے:رئیل اسٹیٹ ایجنٹس ایسو سی ایشن

  


اسلام آباد(آن لائن)اسلام آبادرئیل اسٹیٹ ایجنٹس ایسو سی ایشن کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹرپر مزید ٹیکس لگائے گئے تو انڈسٹری تباہ ہوگی  اورہم سول نافرمانی پر مجبو رہوجائیں گے، ایک طرف حکومت کنسٹرکشن انڈسٹری کو فروغ دینا چاہتی ہے تو دوسری طرف پابندیاں لگا رہی ہے ، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رئیل اسٹیٹ کو ختم مت کرو،ملک میں پیسہ لانے کیلئے منڈیاں اوپن کی جاتی ہیں ،یہاں ہم رئیل اسٹیٹ کا کیا حال کرنے جارہے ہیں؟ جس بحران سے حکومت گزر رہی ہے رئیل اسٹیٹ میں ایسے اقدام لینے سے بحران بڑھے گا، ایف بی آر کے چیئرمین کا اختیار نہیں کہ کسی بھی کاروبار کے بارے میں کہیں کہ اسکی مارکیٹ گرنے والی ہے، ملک بھر کے رئیل اسٹیٹ نمائندے ایک پلیٹ فارم پر ہیں اور بے مثال یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مکمل تباہی سے بچانے کی خاطرآخری حد تک جانے کے لئے پرعزم ہیں، اگر یونہی چلتا رہا تو ہم کہیں گے ٹیکس نہ دویہ ہمارا آخری مطالبہ ہے اسکے بعد سڑکوں پر بات ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان رئیل اسٹیٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہو ئے فیڈریشن آف پاکستان رئیلٹرز کے صدر میجر رفیق حسرت،جنرل سیکرٹری چوہدری زاہد رفیق،کاشف شاہ آل کراچی رئیلٹرز ایسوسی ایشن،بحریہ ٹاؤن ایسو سی ایشن کے چیئر مین چوہدری مشتاق،جنرل سیکرٹری رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسو سی ایشن ڈی ایچ اے راولپنڈی محمد احسن ملک،تنویر ایسو سی ایٹس کے سی ای او تنویر شاہ،عابد خان،ملک اسماعیل،ملک ندیم ختر ککے زئی،رانا اکرم،تنویر مغل،چیئرمین اسلام آباد یونائیٹڈ گروپ حبیب اللہ زاہد،کاشف چوہدری،اجمل بلوچ،حافظ نعیم میر و دیگر نے کیا۔

فیڈریشن آف پاکستان رئیلٹرز کے صدر میجر رفیق حسرت نے کہا کہ ہم نے رئیل اسٹیٹ بزنس کو بچانے کیلئے جنگ لڑنی ہے ٹیکس کی کلیکشن میں حکومت کیساتھ ہیں لیکن ڈنڈے اور خوف کیساتھ کام نہیں چلے گا، اگلے سال ہم حکومت کو 70 ارب ٹیکس دینے کو تیار لیکن ہماری تجویز پر چلیں رئیل اسٹیٹ شعبہ 25 لاکھ لوگوں کو روزگار دے رہا ہے ہم اس کو بچانا چاہتے ہیں۔کاشف شاہ آل کراچی رئیلٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایسی پالیسی بنائے جس میں جبری وصولی کے بجائے تمام شہری خوشی سے ٹیکس جمع کرائیں اور ٹیکس دہندگان کی عزت نفس بھی محفوظ رہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ایمنسٹی سکیم کا دورانیہ ایک سال مزید بڑھایا جائے،رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے کمیشن کو دو فیصد کیا جائے اور اسے قانونی تحفظ دیا جائے، سرکاری اور غیر سرکاری ریٹائرڈ ملازمین اور عام غریب آدمی کے لئے پانچ مر لے کے مکان تک ایڈوانس ٹیکس کی چھوٹ ہو نی چاہئیے،پلاٹوں پر گین ٹیکس کی مدت کو دو سال تک رکھا جائے گھروں پر گین ٹیکس مکمل ختم کیا جائے ،گین ٹیکس کی شرح پانچ فیصد رکھی جائے،فیئر مارکیٹ ویلیو پر ٹیکس ایک فیصد رکھا جائے اور فیئر مارکیٹ ویلیو متعلقہ علاقے کی ایسو سی ایشن کی مشاورت سے طے کیا جائے،60لاکھ سے کم مالیت کی جائیداد پر ایڈوانس ٹیکس ختم کیا جائے،جنرل سیلز ٹیکس جو کہ پراپرٹی ڈیلرز پر 16فیصد عائد کیا گیا ہے کہ فی الفور ختم کیا جائے۔

تنویر ایسو سی ایٹس کے سی ای او تنویر شاہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر لگائے جانیوالے ٹیکسز کو مسترد کرتے ہیں رئیل اسٹیٹ انڈسٹری اپنے ساتھ 50صنعتوں کو بھی چلاتی ہے لاکھوں لوگوں کا روزگار پیدا کرتی ہے مگر حالیہ بجٹ کے ساتھ نئے پاکستان کے خواب میں 50لاکھ گھروں کی خواہش پائے تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی موجودہ بجٹ میں جو فیصلے کئے ہیں وہ اس صنعت کے لئے زہر قاتل ہیں اگر یہ فیصلے لاگو ہو گئے تو معاشی قتل چند ہزار لوگوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہو گا۔

رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسو سی ایشن ڈی ایچ اے راولپنڈی اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری محمد احسن ملک نے کہا کہ اگر موجودہ بجٹ اسی حالت میں پاس ہوا تو رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سے وابستہ لوگ بے روزگار جائیں گے جس سے وزیر اعظم کا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا، رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر پابندیوں سے ملک میں موجود پیسہ ملک سے باہر چلا جائے گا جو کہ ہماری معیشت کے لئے زہر قاتل ہے۔

چیئرمین بحریہ ٹاؤن ایسو سی ایشن چوہدری مشتاق نے کہا کہ حکومت نے آج تک رئیل اسٹیٹ نمائندوں کے حقیقی مسائل نہیں سنے اور نہ ہی ان کی سفارشات کو اہمیت دی ہے جس کی وجہ سے یہ سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہے اور پابندیوں اور خوف و ہراس کی فضاء کے باعث لوگ پراپرٹی کی خریدو و فروخت سے کنارہ  کشی اختیار کر رہے ہیں  سے پراپرٹی کا کاروبار شدید مندی کا شکار ہے اور اس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری بھی کم ہو رہی ہے۔کنونشن میں بڑی تعداد میں رئیل اسٹیٹ سے متعلقہ لوگوں نے شرکت کی۔ 

مزید : رئیل سٹیٹ /علاقائی /اسلام آباد