طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ

طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ

  

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں طیارے کے حادثے کی عبوری رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارے کے پائلٹوں کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، پرواز پر توجہ کم، وائرس پر گفتگو زیادہ کرتے رہے،جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنوں کو کافی نقصان ہو چکا تھا، لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز نے تین بار رن وے کو چھوا، پائلٹس ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار تھے،40فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں،262 کی جگہ کسی اور نے امتحان دیئے،ہم دُنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں،ائر بلیو اور بھوجا ائر کے حادثے بھی پائلٹ کی غلطی سے ہوئے،رپورٹ میں پائلٹ،معاون پائلٹ اور ائر ٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔غلام سرور خان نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو بتایا کہ طیارہ سو فیصد فٹ تھا، لینڈنگ کے وقت اونچائی زیادہ تھی، کنٹرولر کی ہدایت کو نظر انداز کیا گیا، انجن سے آگ نکلنے کا ائر ٹریفک کنٹرول نے نہیں بتایا، ڈپٹی سپیکر نے یہ رپورٹ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دی۔

طیارے کے حادثے کی ذمہ داری تو تحقیقاتی رپورٹ میں دونوں پائلٹوں پر ڈال دی گئی،لیکن قومی ائر لائنز کے جو معاملات عشروں سے دِگر گوں چلے آ رہے ہیں اُن کا ذمہ دار کون تھا، اس کے لئے زیادہ وسیع تر تحقیقات کی ضرورت ہے۔غلام سرور نے بتایا کہ دُنیا میں ایسی ائر لائنز ہیں جن کے طیارے کو کبھی حادثہ پیش نہیں آیا، یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ ہوائی سفر کو دُنیا بھر میں محفوظ ترین سفر گردانا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فضائی مسافر اعتماد کے ساتھ ان جہازوں میں سفر کرتے ہیں،لیکن اب پائلٹوں کے جعلی لائسنسوں کے انکشاف کے بعد کیا یہ ائر لائنز دوبارہ مسافروں کا اعتماد حاصل کر پائے گی؟جب دُنیا کو پتہ چلے گا کہ پی آئی اے کے جہاز تو وہ لوگ اُڑا رہے ہیں جن کے لائسنس جعلی ہیں یا اُن کی جگہ دوسروں نے امتحان دیا اور اس کے بدلے میں لائسنس انہوں نے حاصل کر لئے تو کون اِن جہازوں میں سفر کرے گا، مُلک میں جعلی ڈگریوں کا کاروبار بڑا پرانا ہے اور شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو گا جہاں جعل سازی کا یہ کاروبار نہیں چل رہا، ڈاکٹروں کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں تو وکیل بھی اِس سے بچے ہوئے نہیں ہیں،یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے اساتذہ ساری عمر جعلی اسناد پر نوکری کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں اور پکڑے نہیں جاتے، پھر پنشن لے کر آرام دہ ریٹائرڈ زندگی گذارتے ہیں۔ اب تو دوسروں کے مقالات چوری کر کے ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگریاں حاصل کرنے کا رواج عام ہے۔گاڑیوں کی ڈرائیونگ جعلی لائسنسوں پر کی جاتی ہے، انجینئرنگ کی جعلی ڈگریاں بھی دستیاب ہیں، ریل گاڑیاں چلانے والے بھی اناڑی ہیں ایسا نہ ہوتا تو ریلوں کے حادثات تھوک کے حساب سے نہ ہوتے،ادویات جعلی ہیں اور ایسی دوائیں کھا کر مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،بڑے ہسپتالوں کے میڈیکل سٹوروں سے قیمتی ادویات اٹھا کر بازاروں میں بیچ دی جاتی ہیں اور ان کی جگہ جعلی ادویات رکھ کر نگ پورے کر لئے جاتے ہیں،جب جعل سازی کا یہ کاروبار پورے معاشرے کے رگ وپے میں سرایت کر چکا ہے تو پی آئی اے اِس سے کیسے بچ سکتا تھا،یہاں مختلف شعبوں میں جعلی اسناد پر ملازمتیں دی جانے لگیں پھر یہ بیماری پائلٹوں تک پہنچ گئی، اب انکوائری رپورٹ میں اس کی تصدیق ہو گئی ہے تو بقول وزیر ہوا بازی ”ہم دُنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے“۔

پی آئی اے کی اٹھان بڑی شاندار تھی،پوری دُنیا میں اس کی کارکردگی کا شہرہ تھا،اس کی یہ شہرت دور دور تک پہنچی تو دُنیا کے کئی ممالک نے نئی ائر لائنیں کھڑی کرنے کے لئے پی آئی اے سے تعاون مانگا،یہ ائر لائنیں دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کے آسمان پر پہنچ گئیں اور مسافر ان کی طرف کھنچے چلے آئے،نئے سے نئے جہاز فلیٹ میں شامل کئے گئے اور ماہر پائلٹوں کی خدمات حاصل کی گئیں،لیکن اس کے مقابلے میں پی آئی اے نے کیا کِیا،دھڑا دھڑ ہر شعبے میں ملازمتوں کی لوٹ سیل لگا دی اور اتنے ملازمین فی نشست بھرتی کر لئے گئے کہ ائر لائنز ان کی تنخواہوں اور مراعات کا بوجھ نہ اُٹھا سکتی تھی، چنانچہ اس بوجھ تلے دب کر مسلسل خسارے میں جانے لگی، خسارہ کم کرنے کی جب بھی کوئی کوشش کی گئی یا تو سرے سے ناکام ہو گئی یا اگر کامیابی حاصل ہوئی تو مختصر عرصے کے لئے،پھر خسارہ بڑھنا شروع ہوا تو پرائیویٹائزیشن کی باتیں شروع ہو گئیں،اس کے راستے میں بھی پہاڑ جیسی مشکلات تھیں، ملازمین نے ہڑتالیں شروع کر دیں، کیونکہ ان جعلی ڈگری والوں کے لئے تو یہ ائر لائنز جنت سے کم نہ تھی، کوئی دوسرا ادارہ انہیں کیسے قبول کرتا؟ چنانچہ اِس جانب کوئی قدم کامیابی سے نہ اٹھایا جا سکا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہر سال ائر لائنز کا خسارہ ٹیکس دینے والوں کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ رقوم سے پورا کیا گیا،پی آئی اے سمیت بہت سے سرکاری ادارے وفاق سے حاصل شدہ فنڈز سے چلتے ہیں،ان کی بہتری کی کوشش اول تو ہوتی نہیں،اگر ہوتی ہے تو ناکام بنا دی جاتی ہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جعلی لائسنسوں پر جہاز اڑائے جا رہے ہیں ایسے میں کون اس ادارے کو نئی زندگی دینے کی سوچے گا اور اگر سوچے گا تو کیا اسے کامیابی ملے گی؟

ادارے ہوں یا افراد، قابل ِ ستائش اور لائق ِ تقلید وہی ٹھہرتے ہیں، جو کامیابی کے راستے پر چل رہے ہوں، ہم دُنیا کی کامیاب ائر لائنوں کی کامیابی کا جائزہ لیتے تو پتہ چلتا کہ پی آئی اے کو کتنے ملازمین کی ضرورت ہے،دُنیا کی بڑی بڑی ائر لائنوں کے مقابلے میں پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد حیران کن حد تک زیادہ ہے اگر کوئی کمپنی مشکل مالی حالات کا شکار ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داران فوراً اس کا تدارک شروع کر دیتے ہیں،کفایت شعاری کی ضرورت ہو تو اخراجات پر کٹ لگایا جاتا ہے،ملازم زیادہ ہوں تو ان کی تعداد کم کی جاتی ہے، یہ سب کچھ کہا جاتا ہے،لیکن مسافروں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاتا،جب انہی کا بھروسہ اُٹھ جائے تو بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں،لیکن اگر کوئی اداروں کو تباہ کرنے پر ہی تل جائے تو پھر وہی حشر ہوتا ہے جو پی آئی اے کا ہوا،ہر شعبہ زوال پذیر ہوا تو جہاز اُڑانے والوں کی اہلیت بھی مشکوک ہو گئی۔اگر دو چار پائلٹوں کے لائسنس بھی جعلی ہوں تو تشویش کی بات ہے یہاں تو اکٹھے 262 پائلٹوں کے لائسنس جعلی نکلے، ایسے میں اگر کوئی پوری نیک نیتی سے بھی اصلاحِ احوال کی کوشش کرے گا تو اسے مزاحمت اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

قومی اسمبلی میں حادثے کی جو تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کچھ عرصے تک تذکرہ کرتے رہنے کے بعد ہم اس جانکاہ حادثے کو بھی بھول جائیں گے اور سارے معاملات حسب ِ سابق ہی آگے بڑھیں گے۔اگر ایسا ہوا تو یہ تباہی کا راستہ ہو گا،دُنیا میں ہماری ساکھ ختم ہو جائے گی اور کوئی مسافر اپنی جان خطرے میں ڈال کر پی آئی اے کے جہازوں میں سفر کا رسک نہیں لے گا،اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ جنگی بنیادوں پر بہتری کے لئے اقدامات کا آغاز کر دیا جائے،جعلی ڈگریوں اور لائسنسوں پر ملازمت حاصل کرنے والوں سے جان چھڑا لی جائے اور اتنے ہی ملازم رکھے جائیں جتنے ایک ائر لائن کو کامیابی سے چلانے کے لئے ضروری ہوں،کئی عالمی کمپنیوں کے پاس اپنے ہزاروں طیارے ہیں اُن کے مقابلے میں پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ان میں بھی بہت سے طیارے لیز پر ہیں،اِس لئے اگر بہتری مقصود ہے تو ہنگامی طور پر سخت فیصلے کرنا ہوں گے،ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر یہ ائر لائنز جلد ہی بھولی بسری داستان بن جائے گی اور مسافر اِدھر کا راستہ بھول جائیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -