مخد وم السخی اسید زاہد حسین شاہ النقوی البخاری ؒ

مخد وم السخی اسید زاہد حسین شاہ النقوی البخاری ؒ

  

سردار عباس طفیل جاخواہ

(فرزند بدوملہی شریف)

برصغیر پاک و ہند میں بہت سارے ایسے سادات گھرانے آباد ہیں جو ایران، عراق اور افغانستان کے مختلف شہروں مشہد مقدس، کاظمین شریفین اور بخارا سے ہجرت فرما کر یہاں تبلیغ دین اسلام کے لئے مصروف عمل رہے۔ اقلیم امامت کے دسویں تاجدار سرکار امام علی نقی کی پاک اولاد میں ست کئی سادات گھرانے افغانستان کے شہر بخارا سے ہجرت فرما کر موجودہ انڈیا اور پاکستان کے کئی شہروں میں آباد ہیں۔ پاکستان میں اوچ شریف النقوی البخاری سادات عظام کا مرکز ہے۔ اوچ شریف سے وقتاً فوقتاً جو فراء نبی مکرم حضرت محمدؐ کے کاروان توحید و رسالت کے عملی تحفظ اور ولایت کے پرچار کے لئے نکلے تھے وہ آج جگہ جگہ آباد ہوتے رہے۔ اس لئے آج پورے پاکستان میں النقوی البخاری فقراء و اولیاء اللہ کے مزارات و آستانے موجود ہیں اور مراکز فیوض و برکات بنے ہوئے ہیں۔

مخدوم السخی السید صادق علی شاہؒ النقوی ابخاری اپنے عہد کے ایک نام ور فقیر بابا جی کرم شاہؒ بادشاہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ اور اپنے زہد و تقویٰ اور فقیرانہ سچی لگن کی بدولت بہت جلد مرشد پاک کی طرف سے فیض یاب ہوئے۔ بابا جی کرم شاہؒ باد شاہ (ہلو ووال) کے پردہ فرما جانے کے بعد مخدوم صادق علی شاہ بخاریؒ نے ان کے سجادہ نشین کی مقدم حیثیت میں سادہ زندگی گزاری۔ بابا جی کرم شاہؒ بادشاہ کی طریقت کے عین مطابق توحید و رسالت کی اسلامیانہ لگن غیر مسلموں کے سینوں میں بیدار کیا ور مسلمانوں کے عقائد کی درستی فرمائی۔ اور ولایت کے دیئے ہر طرف روشن کئے۔ سادات عظام کے مخصوص طرز زندگی کی روشنی میں مقامی لوگوں کی رشد و ہدایت کے فرائض انجام دیئے۔ مخدوم سید صادق علی شاہؒ بخاری نے دور دور تک نام مقام پایا۔ آپ کے پاکیزہ اور سبق آموز روشن کردار سے متاثر ہو کر ان گنت مقامی غیر مسلم خاندان مسلمان ہو کر آپ کے مریدین میں شامل ہو گئے اور ولایت کا پرچار کرنے میں آپ کے معاون ثابت ہوئے۔ آپ کے کل آٹھ فرزندان ارجمند جن میں سے دوباوا سید صابر حسینؒ شاہ النقوی ابخاری اور باوا سید زاہد حسینؒ شاہ النقوی ابخاری مثقل راہ حق ہو چکے ہیں۔ جبکہ سید دلاور حسین شاہ النقوی ابخاری، سید علی حسن شاہ النقوی ابخاری، سید شاہ حسین شاہ النقوی البخاری (المعروف پیرتھانیدار) سید شہباز شاہ النقوی البخاری، سید افضال حسین سید شہباز شاہ النقوی البخاری اور سید اقبال حسین، سید شہبازشاہ النقوی البخاری جو حسب روایات صبح و شام انسانوں کے درمیان مخلوص اور بے لوث انداز میں محبتوں کے فروغ کے لئے مصروف عمل ہیں۔

مخدوم السخی السید زاہد حسین شاہ النقوی البخاری اپنے مرشد و مربی اور والد گرامی مخدوم السخی السید صادق علی شاہ بخاری کی طرح ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے انسان کی محبت و عقیدت کا مرکز بنے رہے۔ ہلووال شریف سے ہجرت کرنے کے بعد نارنگ منڈی میں رہائش اختیار کرنے کے بعد آپ نے یہاں کے لوگوں کی اس قدر اصلاح فرمائی کہ نام ور جنگجو برادریوں کے لوگ آپ کے زیر سایہ رہ کر پر امن اور بے لوث محبت کے حامی بن گئے۔ آپ کی محفل ہر وقت پر رونق رہتی۔ سائلین و متعلقین ایک ہی صف پر بیٹھے نظر آتے۔ آپ کی محفل میں اخوت و مساوات اپنی حقیقی شکل میں نظر آتی تھی۔ آپ سریلی آواز میں تلاوت قرآن مجید، نعت شریف، قصیدہ پاک اور منقبت سننا بہت پسند فرماتے۔ آپ خود اپنی روحانی شخصیت کے ہر پہلو میں بہت سریلے سید فقیر ہوئے ہیں۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ ہر وہ انسانی عمل جسے فطرت ایزدی رد کر دے وہ حرام ہے اور برا ہے۔ آپ خود ہمیشہ اپنے بزرگوں کا ادب فرماتے اور چھوٹوں سے شفقت فرماتے۔ آپ اپنے سادات خاندان میں ہر دل عزیز فرد کے طور پر مانے جاتے تھے۔ آپ کی محفل میں یقینی طور پر ذکر امام حسینؑ بے حد سنا اور کیا جاتا۔ آپ کی آنکھیں اکثر غم حسینؑ میں اشک بار رہتیں۔ اور بڑی بہادری اور مردانگی کے ساتھ قاتلان امام حسینؑ سے نفرت کا اظہار فرماتے اور ان پر لعنت بھیجتے۔

مخدوم السخی السید صادق علی شاہؒ النقوی ابخاری شیعہ عقائد کے مسلمان تھے لیکن اتحاد بین المسلین ایسی قابل تقلید داعی ھتے کہ اہل سنت، اہل حیدیث اور دیوبندی عقائد کے مسلمان آپؒ کی پر امن شخصیت کے معترف اور معتقد تھے۔ آپؒ اپنے مریدین کو بلا تفریق مذہب و ملت انسانوں کے درمیان بے لوث محبت کی تلقین فرماتے اور خود حقوق العباد کی پیروی کی عملی تصویر نظر آتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ نظر بد سے بچنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ انسان تنگ دست بھائی بہنوں میں صدقات و خیرات بانٹتا رہے۔ آپ نے ہمیشہ غریب سادات عظام گھرانوں کی خاموش مدد کی۔ آپؒ احسان جتانے کی عادت کو بہت برا جانتے تھے۔

مورخہ 23 جون بروز منگل باوا جی کرم شاہ بادشاہؒ اور باوا جی سید صادق علی شاہؒ النقوی البخاری مرشد و مرید کے مزار پر چراغاں کیا گیا۔ مورخہ 24 جون بروز بدھ بعد از نماز ظہرین ختم شریف پڑھا گیا۔ اور وسیع پیمانے پر محفل سماع کا انعقاد کیا گیا۔ مقامی نام ور ثناء خوانوں نے حاضریاں دیں۔ اور حال ہی میں پردہ فرمانے والے سید زاہد حسین شاہ النقوی البخاریؒ کی یاد میں ان کے ایصال ثواب کے لئے درود شریف پڑھتے رہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -