شرح سود میں ایک فیصد کمی، 2سال کی کم ترین سطح پر آگئی

  شرح سود میں ایک فیصد کمی، 2سال کی کم ترین سطح پر آگئی

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کردی جس کے بعد ملک میں شرح سود 7 فیصد پر آگئی جو دوسال کی کم ترین سطح ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد تین ماہ کے دوران شرح سود میں پانچویں بار کمی کی گئی ہے۔16 اپریل کو اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث شرح سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا جس کے ساتھ ہی شرح سود 9 فیصد ہو گئی تھی۔اس کے بعد مئی میں سٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کی جس کے بعد شرح سود 8 فیصد ہو گئی تھی۔مارچ سے اب تک اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 6.25 فیصد کی کمی کی جاچکی ہے۔۔واضح رہے کہ رواں سال 28 جنوری کو سٹیٹ بینک ا?ف پاکستان کے گورنر باقر رضا نے شرح سود کو 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے حکومت سے اپیل کی گئی تھی کہ شرح سود میں کمی کی جائے۔اس دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مارچ کی 17 تاریخ کو شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد شرح سود 12.50 فیصد ہو گئی تھی۔ ٹھیک ایک ہفتے کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر شرح سود میں بڑی کمی کرتے ہوئے 1.5 فیصد کمی کی، 24 مارچ کو شرح سود 11 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک ماہ سے قبل کم عرصے کے دوران ایک مرتبہ پھر شرح سود میں دو فیصد کمی کر دی ہے جس کے بعد یہ شرح سنگل ڈیجیٹ 9 فیصد پر آ گئی تھی۔رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران سٹیٹ بینک کے جاری مانیٹری پالیسی بیان میں کہا ہے کہ شرح سود 8 سے کم کرکے 7 فیصد کرنے کے بروقت فیصلے سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔رپورٹ کے مطابق کورونا کے باعث معیشت اور کاروبار کو ہوئے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک پر عزم ہے تاہم مستقبل میں معاشی بحالی کا انحصار کورونا کی صورتحال پر پوگا۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پٹرول و ڈیز ل سستا ہونے سے مہنگائی کی رفتار میں کمی دیکھی جارہی ہے جبکہ حالیہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد رکھنے اور کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ بھی مہنگائی کو لگام دینے میں معاون ہوگا۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ قرضوں کی واپسی کے باعث زرمبادلہ ذخائر کم ہوئے ہیں تاہم ورلڈ بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک سے رواں ہفتے 1 ارب ڈالر سے زائد موصول ہوئے ہیں اور مزید 50 کروڑ ڈالر جلد ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے ملنے کی امید ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق وسط مارچ سے اب تک شرح سود میں 6 اعشاریہ 25 فیصد کمی کردی گئی ہے جو معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہیں۔۔مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کووڈ 19 کے بحران میں گھرانوں اور کاروباری اداروں کو مدد فراہم کرنے اور معیشت کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم کرنے کے اپنے عزم کا پھر اعادہ کیا۔ اس تناظر میں ایم پی سی نے یہ محسوس کیا کہ رسک کے انتظام کے نقطہ نظر سے مہنگائی کے بہتر منظر نامے کے پیش نظر نمو میں کمی کے خطرات کا فوری جواب ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ چونکہ اوائل جولائی 2020ء تک تقریباً 3.3 ٹریلین روپے کے قرضوں کے نرخ ازسرنو متعین کیے جانے ہیں اس لیے یہ زری پالیسی کی ترسیل کے نقطہ نظر سے اقدام کرنے کا اچھا موقع ہے۔ اس طرح شرح سود میں کمی کے فوائد گھرانوں اور کاروباری اداروں کو بروقت منتقل کیے جاسکیں گے۔ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ کووڈ 19 کی عالمی وباء پاکستان سمیت بہت سی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پھیلتی جارہی ہے اور کئی ممالک میں دوسری لہر آنے کے خطرات ہیں۔ ایم پی سی نے کہا کہ عالمی منظر نامے کو درپیش خطرات بہت زیادہ کمی کی جانب مائل ہیں اور بحالی کا راستہ غیریقینی ہے۔ ایم پی سی نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف نے اپنے کل جاری کیے جانے والے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کے اپڈیٹ میں اپنا 2020ء کی عالمی نمو کی پیش گوئی مزید گھٹا کر -4.9 فیصد کردی ہے، جو اپریل میں کی گئی پیش گوئی سے 1.9 فیصدی درجے کم ہے اور پہلے کی نسبت زیادہ تدریجی بحالی کی پیش گوئی کی ہے۔ ملک کے اندر مضمر مہنگائی میں اعتدال آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عید کی تعطیلات کے دوران غذائی قیمتوں میں موسمی اضافے سے قطع نظر عمومی مہنگائی مئی میں مزید گھٹ کر 8.2 فیصد ہوگئی جس کا سبب ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ کمی ہے۔ علاوہ ازیں ماہ بہ ماہ مہنگائی کی شرحیں مسلسل پست ہیں۔ حساس اشاریہ قیمت کے حالیہ اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض غذائی اشیا خصوصاً گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود جون میں قیمتوں کے مجموعی دباؤ میں اعتدال جاری رہا۔ یہ توقع بھی ہے کہ مالی سال 2020/21ء کا بجٹ مہنگائی کے حوالے سے کوئی اثر نہیں ڈالے گا کیونکہ حکومتی تنخواہوں کا منجمد کیا جانا، نئے ٹیکسز کی عدم موجودگی اور پست امپورٹ ڈیوٹیز کی بنا پر کم پیداواری لاگت بعض شعبوں میں سبسڈیز کی کمی کا اثر زائل کردے گی۔ اگرچہ رسدی دھچکے مہنگائی میں کچھ اتار چڑھاؤ پیدا کرسکتے ہیں تاہم ایم پی سی کی رائے یہ تھی کہ کمزور ملکی طلب کے پیش نظر یہ دھچکے عارضی ہوں گے چنانچہ زری پالیسی کو ان سے آگے دیکھنا چاہیے۔

مانیٹری پالیسی

مزید :

صفحہ اول -