جو اب ملک کو اس حال تک پہنچانے والوں سے مانگا جائے: عمران خان، یہ حکومت تباہی کی علامت ہے،خواجہ آصف، بلاو ل کا وزیراعظم کو مباحثے کا چیلنج

    جو اب ملک کو اس حال تک پہنچانے والوں سے مانگا جائے: عمران خان، یہ حکومت ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار سنبھالا تو اکانومی کے برے حالات تھے۔ جو لوگ ملک کو برے حال میں چھوڑ کر گئے، جواب ان سے مانگا جائے۔وقمی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، گیس، بجلی اور دیگر معاہدے ہم نہیں ہم سے پہلے حکومتیں کرکے گئیں، ہمیں بڑے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا، یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس ملک کی سابقہ قیادت کی وجہ سے تھا، ہم مجبور ہو کر دنیا کے پاس پیسے مانگنے گئے، میں نے30 سال سے سب سے زیادہ فنڈ ریزنگ کی، کبھی اسپتالوں، یونیورسٹیز کے لئے پیسے مانگنے لیکن کبھی شرم نہیں آئی، جب ہم ملک کے لئے غیروں کے آگے گئے تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی، اس کے باوجود ملک کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے دنیا کے ملکوں میں پیسے مانگنے گئے تھے۔اب جواب ان سے مانگا جائے جنہوں نے ملک کو قرضوں مین ڈبو دیا اور اس حال تک پہنچایاوزیراعظم عمران خان کا نے کہا کہ کہ بھارت اور ایران سے ٹڈی دل آنے کا خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لئے اس اہم معاملے پر 31 جنوری سے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ اس کے خاتمے کیلئے پورا زور لگائیں گے، این ڈی ایم اے کو اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔کورونا وائرس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں نے خود ہی اس وبا کیخلاف اقدامات کیے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ لاک ڈاؤن سے مزدور طبقہ متاثر ہوگا۔ ہم نے لاک ڈاؤن کیساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچانا ہے۔ قوم سے کہتا ہوں کہ اس مشکل مرحلے میں ہمت نہیں ہارنی۔ان کا کہنا تھا کہ سخت لاک ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ سے بڑی تنقید کی گئی، اس حوالے سے بڑا پریشر تھا۔ میں نے پہلے دن سے کہا کہ ملکی حالات کو دیکھ کر فیصلے کریں گے لیکن بار بار کہا جا رہا ہے کہ حکومتی فیصلوں میں کنفیوڑن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اگر کسی حکومت میں کنفیوڑن نہیں تھی تو ہماری تھی۔ تیرہ مارچ سے لے کر اب تک ایک بیان بتا دیں جس میں تضاد ہو۔عمران خان نے کہا کہ انڈٰین حکومت کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا جا رہا تھا بھارت کی طرح لاک ڈاؤن کرو لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ وہاں سخت پابندیوں کی وجہ سے غریب کچلا گیا مگر اس کے باوجود کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن سے نقصان ہوا۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اتنے سخت اقدامات برداشت نہیں کر سکے۔ ہم نے اس کے مقابلے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا۔ ابھی تک اللہ کا کرم بڑا کرم ہے، تاہم اگلا فیز مشکل ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ عوام ایس او پیز پر عمل کریں کیونکہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ہسپتالوں پر پریشر بڑھے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی کی وجہ سے پاکستان میں چار ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ ہمارے پاس صرف دو راستے ایک احتیاط اور دوسرا بے احتیاطی کا ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں۔ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو اکانومی کے برے حالات تھے، 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، اس کے علاوہ درآمدات اور برآمدات میں بھی تضاد تھاجبکہ مہنگائی کا بھی مسئلہ تھا۔ اس کیساتھ کورونا کی وجہ سے بھی اسے فرق پڑا۔ عجیب لگا جب کہا گیا کہ اس معاملے میں حکومت کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ آج آئی ایم ایف نے بیان جاری کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کی اکانومی کو بارہ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ سو سال کے اندر یہ بڑا بحران آیا ہے۔اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضہ اس لیے مانگ رہے تھے کیونکہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔ یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا، یہ ملک کی بد قسمتی تھی کہ سابق حکومتوں کی وجہ سے قرضے مانگے۔ اپنے ملک کے ہسپتال بنانے کے لیے پیسے مانگتے ہوئے مجھے شرم نہیں آتی، مجھے شرم تب آئی جب دوسرے ملکوں سے قرضہ مانگا۔حکومت سنبھالی تو 1200 ارب کا سرکلر ڈیٹ تھا۔ سابق حکومتوں میں توانائی کے منصوبوں کے معاہدے ہوئے لیکن ہم پھنس گئے۔ اس بوجھ کے ساتھ مجھے پاکستان ملا تھا لیکن جواب مجھ سے مانگا جا رہا ہے، جو اس حال میں ملک کو چھوڑ کر گئے، ان سے جواب مانگا جائے۔مسلم لیگ(ن) رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے وزیر اعظم کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بھاشن اپنی جماعت کو دیں،ہاؤس کو ”ان پڑھ“ نہ سمجھیں،کرونا سے پہلے 5 لاکھ لوگ اور اب کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں،حکومتی وزیر خود کہتے ہیں کہ تبدیلی نہیں آئی،یہ حکومت تباہی کی علامت ہے،وزیر اعظم خود کورونا ہے جو اس ملک سے چمٹ گیا ہے، قوم پرنازل ہونیوالاعذاب ختم کرنا ہے تو موجودہ حکومت سے جان چھڑانا ہو گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر میں تاریخ پر جو لکچر دیا اس کی تصحیح ضروری ہے،مغلیہ دور کی تاریخ انہوں نے غلط بیان کی۔،ہاوس کو ان پڑھ نہ سمجھیں ان کو معلوم ہے بھاشن اپنی جماعت کودیں ہمیں معلوم ہے۔،وزیر اعظم نے اعداوشمار بتائے کیا وہ ان کو کنٹینر پر یاد نہیں تھے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی تقریر فرمائشی تقریر تھی، ان کا ایک دوست ہے بچپن کا اس کو انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور مجھ میں سے ایک ہی نا اہل ہوگا۔۔انہوں نے کہاکہ،ہم حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتے،یہ کرونا ہے زکام نہیں ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کے اپنے وزیر کہتے ہیں کہ تبدیلی نہیں آئی،یہ حکومت تباہی کی علامت ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ سیاست چھوٹے شہروں کے قصبوں میں ہوتی ہے جو وزیر عظم کے دو سالوں میں کی ہے، اپوزیشن یہ سب کچھ برداشت کرے گی،۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو سیکورٹی کونسل میں مسلمان ممالک نے ووٹ دیے۔ وزیر اعظم صاحب اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ دو سال میں اپوزیشن کے تعاون کرنے کی کوئی کنجائش نہیں چھوڑی گئی۔ وزیر اعظم جب قوم سے وعدے کر رہے تھے تو ان کو اعداو شمار چیک کرنے چاہیے تھے،اگر اتنی بری صورت حال تھی تو وعدے نہ کرتے،وزیر اعظم نے آج بھی غلط اعداو شمار ایوان میں ہیش کیے۔،خدا کا واسطہ وزیر اعظم یہاں آکر تاریخ اور جغرافیہ کا لیکچر نہ دیا کریں۔خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کا سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب ہونا بڑی بات نہیں، بھارت نے 184 ووٹ لیئے جو بڑی بات ہے احسن اقبال نے کہا ہے کہ غلط فیصلوں سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی، دو سال سے جی ڈی پی گروتھ مسلسل نیچے، ایٹمی ممالک کے لوگ وینٹی لیٹرز نہ ہونے پر مر رہے ہیں، جس گھر کا سربراہ کہے ملک دیوالیہ ہوچکا اس کا ساتھ کون دیگا؟۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج چھوٹے سے چھوٹا کاروبار کرنے والا پیشیاں بھگت رہا ہے، احتساب کے ادارے کا مقصد صرف اپوزیشن کو ہراساں کرنا ہے، سی پیک بہترین تحفہ ہے جو صدیوں میں ایک بار ملتا ہے، نہیں معلوم معیشت بحالی کیلئے آنیوالی حکومت کو کتنا وقت لگے گا، ہم نے معیشت کو 5 سال میں سنبھالا، انہوں نے 2 سال میں فریکچر کر دیا۔احسن اقبال کا کہنا تھا ہمارے دور میں متعدد ممالک نے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی، بجٹ کا حجم دیکھ کر بتائیں، کس قسم کی معیشت ہے، ٹیکس ریونیو اور گروتھ ریٹ پر حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں، آپ موجودہ اخراجات کنٹرول نہیں کرسکتے، آپ ہر خالی جگہ قرض لے کر پوری کر رہے ہیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کو لیکچر دینے کا شوق ہے، وہ ٹی وی یا پارلیمنٹ میں جواب نہیں دیں گے، میں انھیں مباحثے کا چیلنج دیتا ہوں، سب سے کم شرح نمو موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے۔ کورونا سے پہلے ہی نیگیٹو گروتھ میں تھی، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ آپ کورونا کے پیچھے چھپ رہے ہو،آپ واحد وزیراعظم ہیں جس نے نریندر مودی کی انتخابی مہم چلائی،لیکشن کے دنوں کہا مودی کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا، جس تیزی سے کورونا کی بیماری پھیل رہی ہے،۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہتے ہیں سب سے کامیاب پالیسی فارن پالیسی ہے۔ اگر بھارت کو برا کہا جا رہا ہے تو بھارت اقوام متحدہ کا غیر مستقل رکن کیسے بن گیا؟ آپ واحد وزیراعظم ہو جس نے نریندر مودی کی انتخابی مہم چلائی۔ الیکشن کے دنوں کہا مودی کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔کورونا وائرس کی صورتحال بارے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جس تیزی سے بیماری پھیل رہی ہے، اس بارے کارگل جنگ کی طرح کا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ ہماری ریاست اس وقت کارگل جنگ کو ماننے کو تیار نہیں تھی۔ اگر وزیراعظم جمہوری طریقے سے منتخب ہوتے تو عوام کی فکر کرتے۔ یہ منتخب نہیں سلیکٹڈ ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم وبا کے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ اگر آپ تیار ہیں تو ڈاکٹرز اور نرسز کیوں رو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ وزیراعظم کی انا کی وجہ سے ہوا۔ جتنے لوگ مریں گے، اتنا ہی معیشت کو نقصان ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ وبا کی پاکستان آمد کے پہلے دو ہفتوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے تھا۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے تیزی سے بیماری پھیل رہی ہے۔ دوسری طرف اس وقت صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور عوام سب سے زیادہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس پہلے دن سے کوئی پلان نہیں، اگر ہم ڈبلیو ایچ او کی ہدایت پر عمل کرتے تو ہمارا صحت کا نظام برداشت کر لیتا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 9دن جاری رہنے کے بعدمکمل کر لی گئی،اپوزیشن ارکان نے بجٹ کو زراعت،صنعت، مزدور اور تعلیم دشمن قرار دیا جبکہ حکومتی ارکان نے ایک بار پر 18ویں ترمیم پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ہماری ترجیحات ملک کا پسماندہ اور غربت میں پسا ہوا طبقہ ہے،پاکستان کی سالمیت سب سے اہم ہے، اٹھارہویں ترمیم میں کچھ اچھی چیزیں، لیکن این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آمرانہ رویہ اختیار کیا گیا،موجودہ نظام دیرپا نہیں، وفاق کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا،جس میں بجٹ پر عام بحث مسلسل نویں روز بھی جاری رہی۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ بجٹ 2020-21پر ایوان میں اب تک 50 گھنٹے 51 منٹ بحث ہو چکی ہے،بجٹ بحث کیلئے اتفاق رائے سے 40 گھنٹے مختص کیے گئے تھے،بجٹ بحث میں کل 180 ارکان نے حصہ لیا،گزشتہ روز بھی اجلاس رات گیارہ بجے تک چلایا گیا۔بجٹ پر بحث کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے عامر ڈوگرنے کہا کہ ہمیں من حیثالقوم اجتماعی توبہ کرنے کی ضرورت ہے،ہم کرونا وبا سے جلد چھٹکارا حاصل کریں گے،پوری دنیا جنگی کیفیت میں ہے،کرونا صورتحال میں یہ متوازن بجٹ ہے،کرونا پر حزب اختلاف نے سیاست اور پوائنٹ سکورنگ کی اس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی،سخت لاک ڈاون بھی ہوتا تو یہ تنقید کرتے،اللہ نے انہیں یہ نعمت نہیں بخشی کہ یہ تنقید کے سوا بھی کچھ کریں،تنقید سن کر ایسا لگ رہا تھا جیسے چالیس سال سے تحریک انصاف کی حکومت رہی ہے،جب حکومت ملی معیشت وینٹی لیٹر پر تھی،حکومت نے 73 فیصد بجٹ خسارہ کم کیا ہے،۔پارلیمانی سیکرٹری شندانہ گلزارخان نے کہا کہ کل کے پی میں ایک نوجوان کے ساتھ جو کیا گیا ہمیں اس پر افسوس ہے،جس طرح سے زرتاج گل پر ایک پی ٹی وی پروگرام کے حوالے سے تنقید کی گئی اور ایک خاتون رکن کی طرف سے گندگی اچھالی گئی قابل برداشت نہیں،وزیراعظم کی ذات پر جس طرح سے حملے کئے جارہے ہیں وہ کسی صورت برداشت نہیں،سپیکر کی صدارت میں بنی زرعی ترقی کی کمیٹی پر کچھ نہ کرنے کا الزام درست نہیں،بلوم برگکی رپورٹ2018 میں آئی تھی کہ پاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے،سینئر اپوزیشن اراکین کی طرف سے غلط بیانی اچھی بات نہیں،حکومت کی کوتاہیوں کی ضرور نشاندہی کریں لیکن جو اچھا کیا گیا اس کو بھی تسلیم کریں،۔مسلم لیگ (ن)کی بیگم طاہرہ بخاری نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو بجٹ میں مکمل نظرانداز کیا گیا،آج ترقیاتی کاموں میں اپوزیشن کو پوری طرح سے محروم رکھا گیا،حکومتی اراکین اپنے کام بیان کرنے کی بجائے اپوزیشن پر تنقید میں لگے ہیں،ملک کا بچہ بچہ پرانا پاکستان یاد کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے اقبال محمد خان نے کہا کہ پولیس جعلی مقابلوں میں ملوث ہے، قبائل میں ایک سکول ٹیچر کو جعلی مقابلے میں ماردیا گیا،ظلم ہوگا تو ہم ایوان میں بھی آواز اٹھائیں گے اور عوام احتجاج بھی کریں گے،سا۔پارلیمانی سیکرٹری ملائیکہ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے بجٹ پر کوئی تعمیری تجاویز نہیں دی گئیں،پاکستان کے عوام نے دوپارٹی سسٹم کو مسترد کرکے پی ٹی آئی کو منتخب کیا،عوامی نمائندے عوام کے پیسوں کے ضامن ہیں،دریں اثناقومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے وزیر مواصلات مراد سعید کی جانب سے اپوزیشن ارکان پر حکومت سے این آراو مانگنے کے الزام کی تردید کردی، مسلم لیگ(ن)کے رکن ڈاکٹر عباد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبد القادر پٹیل نے کہا ہے کہ خورشید شاہ صاحب آپ کو پھل اور کھجور بھیجتے تھے، آپ کی مہربانی سے خورشید شاہ جیل میں ہیں،مراد سعید نے این آر او سے متعلق جھوٹ بولا، مراد سعید بتائے کس نے اور کب این آو او مانگا،خود مراد سعید این آر او کے تحت آیا ہے، مراد سعید چلتا پھرتا این آر او ہے،۔ مسلم لیگ(ن) کی خاتون رکن اسمبلی مائزہ حمید نے کہا کہ شہباز شریف کو آج قوم یاد کر رہی ہے جب وہ ڈینگی یا سیلاب کے دنوں میں اپنے لوگوں کے درمیان ہوتے تھے، جنوبی پنجاب میں بھی کورونا وائرس ہے مگر وہاں پر تو وزیراعلی اور وزیراعظم نظر نہیں آئے جبکہ سپیکر نے ڈاکٹر عباد کی جانب سے نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کی تضحیک نہ کرنے کی ہدایت کی۔۔ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے کہا ہے کہ زراعت کو ٹھیک کر لیں توآئی ایم ایف اور عالمی بینک کی ضرورت نہیں رہے گی،وقت آ گیا ہے کہ ہم زراعت پر توجہ دیں،سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین نے زرعی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،گز شتہ 25، 30سال میں ہم 45ارب ڈالر کپاس سے کما سکتے تھے،اب بھی کپاس کی پیدوار پاکستان کو معاشی بحران سے نکال سکتی ہے۔ سید فخر امام نے کہا کہ پاکستان بننے کے دوران زراعت کی جی ڈی پی 50 فیصد تھی،آج زراعت کی جی ڈی پی 19 فیصد ہے،وقت آ گیا ہے کہ ہم زراعت پر توجہ دیں،دنیا بھی زراعت کی طرف گئی ہے،ہم سے زراعت میں بہت سے ممالک آگے چلے گئے۔دریں اثناوفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ اور دیگر جے آئی ٹی رپورٹس دو چارروز میں جاری ہورہی ہیں جن میں صوبائی حکومت کا بہت کچھ سامنے آجائے گا،بلاول نے کہا طیارہ حادثہ رپورٹ نہیں مانتا،آپ کے ماننے یا ماننے سے فرق نہیں پڑتا،آپ جے آئی ٹی رپورٹ تو مان لو،میرے آنے پر 9جہاز تھے جو اب 11 ہیں،دو جہاز بھی لئے 4.7ارب روپے قرض بھی واپس کیا،کے پی ٹی نے 2.2ارب روپے ڈوبے ہوئے نکال کر خزانے میں جمع کرادیئے،2010 سے کے پی ٹی کا آڈٹ ہی نہیں ہوا تھا،اب ہر ہر ادارے آڈٹ کرارہے ہیں،پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریونیو پورٹ قاسم سے کمایا

قومی اسمبلی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ایس او پیز پر عمل کرانا ضروری ہے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سے بات چیت کی جس میں انہوں نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے ماحول میں لوگوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ایس او پیز پر عمل کرانا لازمی ہے کیونکہ عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہر ملک میں ایس او پیز پر عمل درآمد رضاکاروں نے کرایا تاہم لوگ احتیاط کریں تو وبا سے بچا جا سکتاہیوزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع اپنے چیمبر میں بعض وفاقی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ سمیت اقلیتی اراکین کے وفد سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے جاری اجلاس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان، چیف وہیب عامر ڈوگر و دیگر نے وزیراعظم عمران خان کو بجٹ اجلاس اور پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ رواں ہفتے کے دوران ہی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرلیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایات دی ہیں کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے تمام اراکین کی بجٹ کی منظوری کے دوران ایوان میں حاضری یقینی بنائی جائے وہ خود بھی چیمبر میں موجود رہیں گے اور جب ووٹنگ ہوگی تو اس میں بھی حصہ لینگے۔حکومت نے مشکل وقت میں ایک بہترین بجٹ دیا ہے اس میں وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے غریب آدمی پر فوکس کیاگیا ہے اور سماجی شعبے پر زیادہ فنڈز خرچ کئے جائینگے۔ اقلیتی ارکان کے ایک وفد نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقا ت کی جس میں شنیلا روتھ، جے پرکاش،لال چند ملہی شامل تھے۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور انہیں اپنی مذہبی عبادات و رسومات کی ادائیگی میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ ملاقات کے بعد شنیلا روتھ نے میڈیا کو بتایا ہم اسلام آباد میں ایک ایسی جگہ بنانے جارہے ہیں جہاں چرچ، مندر، مسجد سب عباد ت گا ہیں ہونگیں جبکہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے معاملے پر جلد بل لایا جائے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -