وزیراعظم کہتے ہیں ایک صوبے کاوزیراعلٗی آمر، کیا وہاں وفاق کی رٹ نہیں

  وزیراعظم کہتے ہیں ایک صوبے کاوزیراعلٗی آمر، کیا وہاں وفاق کی رٹ نہیں

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم کہتا ہے ایک صوبے کا وزیراعلی آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہو گی، کیا وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں۔ حکومت صرف بیان بازی کر رہی ہے، عوام کو صحت، گندم اور چینی سمیت بنیادی ضروریات نہیں مل رہیں۔کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ملکی معیشت بیٹھ چکی، صحت اور تعلیم کا شعبہ بہت نیچے چلا گیا۔ لاتعداد گریجویٹس بیروزگار ہیں، حکو مت کوئی کام نہیں کر رہی، صرف بیان بازی کر رہی ہے۔ پٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں، کوئی بندہ نہیں جو ان بحرانوں کو دیکھے۔چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی صوبہ سندھ میں کوئی رٹ نہیں، سندھ حکومت 4 ارب روپے لگژی گاڑیوں کیلئے کیسے خرچ کر سکتی ہے، کراچی کا نالہ صاف کرنے کیلئے پیسے نہیں۔ نجی کمپنی کیلئے مشینر ی این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر منگوائی، این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی جس کا مالک دو دن میں ارب پتی بن گیا ہوگا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا، عوام کوروٹی،پٹرول، تعلیم،صحت اور روزگارکی ضروررت ہے،نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کررہا ہے۔این ڈی ایم اے باہرسے ادویات منگوا رہا ہے۔ نہیں معلوم یہ ادویات کس مقصد کیلئے منگوائی جارہی ہیں؟ کیا یہ ادویات پبلک سیکٹر ہسپتالوں کو فراہم کی گئی ہیں؟ کیا ادویات سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی استعمال ہو رہی ہیں؟ عدالت نے نجی کمپنی سے ادائیگی کی تفصیلات اور ذرائع آمدن، این ڈی ایم اے کی جانب سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کروناوائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت 3ہفتے تک ملتوی کردی۔

کورونا ازخود نوٹس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس پاکستان نے پائلٹس کے جعلی لائسنسز کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن سے 2 ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے پی آئی اے، ایئر بلیو، سیرین کے سربراہان کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سول ایوی ایشن پیسے لے کر پائلٹ کو لائسنس جاری کرتی ہے، ایسے لگتا ہے جیسے پائلٹ چلتا ہوا میزائل اڑا رہے ہوں، وہ میزائل جو کہیں بھی جا کر مرضی سے پھٹ جائے، بتایا گیا 15 سال پرانے جہاز میں نقص نہیں، ملبہ پائلٹ اور سول ایوی ایشن پر ڈالا گیا، لگتا ہے ڈی جی سول ای ایشن کو بلانا پڑے گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا جعلی ڈگریوں والے پائلٹس کیخلاف کیا کیا گیا؟ مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنا سنگین جرم ہے، کل اسمبلی کی کارروائی دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ ادھر طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ آنے کے بعد سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک نے مبینہ جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس کیخلاف کارروائی کیلئے ڈی جی سول ایوی ایشن سے پائلٹس کی فہرست مانگ لی۔ پی آئی اے کے سی ای او کی جا نب سے گذشتہ دو روز کے دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی حکام کو دو خط لکھے گئے۔ ایئر مارشل ارشد ملک نے خط میں کہا کہ فوری طور پر جعلی لائسنس کے حامل کپتانوں کی لسٹ فراہم کی جائے، قواعد کے تحت کپتانوں کیخلاف فوری ایکشن لیا جائے گا، جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس کو جہاز اڑانے نہیں دیں گے۔ ایئر مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا جعلی لائسنس والے پائلٹس فلائٹ سیفٹی کیلئے شدید خطرہ ہیں۔دریں اثناء چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی آمیز ویڈیو کا نوٹس لے لیا، دھمکی آمیز ویڈیو کیس عدالت میں آج سماعت کیلئے مقررکردیا گیا، ویڈیو میں اعلیٰ عدلیہ، ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی۔اعلامیہ سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی آمیز ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے کیس سماعت کیلئے مقررکردیا ہے۔ازخود نوٹس کیس کی سماعت آج کورٹ نمبر ون میں کی جائے گی۔

چیف جسٹس نوٹس

مزید :

صفحہ اول -