147کھرب29ارب سے زائد کے مطالبات زر کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

147کھرب29ارب سے زائد کے مطالبات زر کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2 020-21 کیلئے 147 کھرب 29ارب سے زائد کے مطالبات زر(غیر تصویبی اخراجات) کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔ غیر تصویبی اخراجات میں مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2631ارب روپے، غیر ملکی قرضوں پر سود کے اخراجات کیلئے 315ارب روپے،مقامی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 100کھرب سے زائد، قلیل المدت غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 183ارب سمیت دیگر اخراجات شامل ہیں۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے چارجڈ(غیر تصویبی) اخراجات بشمول مطابات زر اورتخصیصات کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔ 30جون 2021تک ختم ہونے والے مالی سال کیلئے 147کھرب، 29ارب 99کروڑ19لاکھ2ہزار روپے کے غیر تصویبی اخراجات ہوں گے، جن میں پاکستان پوسٹ کیلئے2کروڑ، قومی اسمبلی کے 2ارب 24کروڑ،سینیٹ کے 2ارب، وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی ترقیاتی قرضوں کی مد میں 229ارب روپے، صدر کے ذاتی عملہ،الاؤنسز اور دیگر اخراجات کی مد میں 39کروڑ 50لاکھ،صدر کے سرکاری عملہ، الاؤنسز و دیگر اخراجات کیلئے 59کروڑ 70لاکھ، غیر ملکی قرضوں کیلئے سرد کے اخراجات کی مد میں 315ارب روپے، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 1228ارب روپے، قلیل المدت غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 183ارب روپے، مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2631ارب روپے، مقامی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 100کھرب،سپریم کورٹ کیلئے 2ارب40کروڑ، انتخابات کیلئے 3ارب 14کروڑ سمیت دیگر اخراجات شامل ہیں۔ریلوے کے 89کروڑ،الاونسز و پنشن کے لئے 3ارب71کروڑ62لاکھ9ہزار روپے کے اخراجات کے مطالبات زر شامل ہیں۔

مطالبات زر

مزید :

صفحہ اول -