لومیرج کیس میں مقدمہ واپس لینے کے عدالتی حکم نامہ کی نقل طلب

  لومیرج کیس میں مقدمہ واپس لینے کے عدالتی حکم نامہ کی نقل طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید شہبازعلی رضوی نے ننکانہ صاحب کی نومسلم لڑکی عائشہ کی حسان نامی شہری سے شادی کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ ننکانہ صاحب کی عدالت سے مقدمہ واپس لینے کے عدالتی حکم نامہ کی نقل طلب کرلی جبکہ انچارج دارلامان سے عائشہ بی بی کی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کرنے کے علاوہ آئندہ سماعت پر 6جولائی کوعائشہ بی بی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتی استفسار پرلڑکی کے بھائی منموہن سنگھ اوروالد بھگوان سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ دارالامان میں ان کی بیٹی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی جبکہ عائشہ اور انچارج دارالامان نے عدالت کو بتایا کہ اس کی والد اور بھائی سے دارالامان میں ملاقات کروائی گئی،جس پر فاضل جج نے متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا،عدالت کو بتایا گیا کہ عائشہ کی دارالامان سے واپسی کے لئے اس کے شوہر حسان کی جوڈیشل مجسٹریٹ ننکانہ صاحب کی عدالت میں جودرخواست دائر کی تھی اسے لاہورہائی کورٹ نے واپس لینے کی ہدایت کی تھی،جس پر فاضل جج نے یہ عدالتی حکم بھی طلب کرلیا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی آر درج ہوئی اور عائشہ کی عمر کا تعین ہوا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ایف آئی آر خارج ہوچکی ہے اور عائشہ بالغ ہے، وکیل نے بتایا کہ گورنر پنجاب کے روبرو صلح نامے کے مطابق لڑکی جس کے ساتھ جانا چاہیے اس کو اجازت ہے، عائشہ بی بی نے اپنے خاوند کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا،فاضل جج کو بتایا گیا کہ عدالتی حکم پر عائشہ بی بی کو دارالامان بھجوایا گیاتھا، درخواست گزار حسان اور عائشہ بی بی نے موقف اختیار کررکھاہے کہ سکھ لڑکی جگجیت کور نے اسلام قبول کرکے اپنا نام عائشہ رکھاہے اور حسان کے ساتھ پسند کی شادی کی،جس پر لڑکی کے عزیزواقارب کی طرف سے انہیں دھمکیاں دی گئیں اورہراساں کیا جارہاہے،انہیں تحفظ فراہم کیاجائے۔اب اس کیس کی مزید سماعت6جولائی کو ہوگی،گزشہ روز نومسلم عائشہ بی بی کو سخت سکیورٹی میں دارلامان سے لاکر عدالت میں پیش کیا گیا۔

نقل طلب

مزید :

صفحہ آخر -