پیپلز پارٹی نے کراچی طیارہ حادثہ رپورٹ مسترد کردی، وزیراعظم اور وزیر ہوا بازی سے استعفے کا مطالبہ

پیپلز پارٹی نے کراچی طیارہ حادثہ رپورٹ مسترد کردی، وزیراعظم اور وزیر ہوا ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ کراچی میں پی آئی اے کے طیارہ حادثے کی رپورٹ جس طرح پیش کی گئی اس سے بدنیتی اور بدلے کی بو آرہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس کو مسترد اور مطالبہ کرتی ہے وزیراعظم اور ہوابازی کے وفاقی وزیر مستعفی ہوں۔یہ رپورٹ پہلے کمیٹی میں جانی چاہیے تھی اس کے بعد اسمبلی میں پیش کی جاتی۔ جس طرح اس حادثے میں پائلٹ کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دئیے گئے ہیں۔جعلی ڈگری والا پائلٹس کی جعلی ڈگری کی بات کر رہا ہے۔ اب کونسا پائلٹ بیرون ملک سے ہزاروں پاکستانیوں کو لانے کیلئے فلائی کرے گا۔قاضی فائز عیسیٰ کے گھر جان سے مارنے کی دھمکیوں کا پیغام پہنچایا گیا ہے، کیا اب ریاست مدینہ سو رہی ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ملک میں کورونا وائرس کے مریض آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے جان کی بازی ہار رہے ہیں،ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ وفاقی وزراء آپس میں لڑ رہے ہیں اور باہر سے لائے گئے مشیروں کو پہچاننے سے قاصر ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے تمام صوبوں میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان، خیبرپختونخوا کی سیکرٹری اطلا عات سینیٹر روبینہ خالد اور پی آئی اے کے یونین کے صدر ہدایت اللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمرا ہ تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا طیارہ حادثے کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی لیکن اس رپورٹ کے اثرات اداروں اور ملک پر کیا ہونگے؟ کیا سارا ملبہ کپتان کے اوپر ڈالا گیا ہے اس حوالے سے وضا حت کی جائے کہ کون سا کپتان ہے۔ ایک کپتان تو پائلٹ ہے اور دوسرا کپتان وزیراعظم ہے۔ تحقیقات کا معاملہ بہت حساس ہے، وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ ساؤ تھ کوریا میں اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے وہاں کے وزیر مستعفی ہو جاتے ہیں۔ کیا آج اپنی باتیں بھول گئے۔ طیارے کا وائس ریکارڈر وزیر نے کس حیثیت میں سنا، کیا وہ یہ وائس ریکارڈر سننے کے اہل تھے؟ وزیرہوابازی نے 294پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دئیے ہیں ان میں سے 150پی آئی اے کے ہیں۔ ان کے نام کا پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کو تو پتہ نہیں وزیر کو پتہ ہو سکتا ہے۔ سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ اور کمیٹی کس قانون کے تحت بنائی گئی ہے۔ ایئر فورس کے تین کیپٹنز کو رکھا گیا، کیا وہ اس اہل ہیں اور ان کا تجربہ ہے؟ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن میں تنازع چل رہاہے۔ پائلٹس اور سابق ائیرفورس کے لوگوں کے درمیان چپقلش چل رہی ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے پائلٹس میں پریشانی پائی جارہی تھی کیونکہ سیفٹی رولز کو فالو نہیں کیا جارہا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں پی آئی اے میں چھوٹے گریٹ کے لوگوں کو بھرتی کیا گیا۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کورٹ کی حاضریاں کاٹ رہے ہیں۔ پہلے بینظیر بھٹو نے عدلیہ کے حق میں آوا ز بلند کی تھی اب ان کا بیٹا لیڈ کر رہا ہے۔ اب ریاست مدینہ والے کدھر ہیں، ایک سپریم کورٹ کے جج کو مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ حکومتی وزراء ایک دوسرے کی بات سننے کیلئے تیار نہیں۔ وزیراعظم لاک ڈاؤن نہ کرنے کی بات پر کھڑے رہے اور کہتے رہے سکون قبر میں ملے گا۔ کورونا وائرس سے جو لوگ جاں بحق ہورہے ہیں ان کی ایف آئی آر زلفی بخاری اور وزیراعظم پر کاٹی جانی چاہیے۔ وفاقی وزراء ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی نے سیاست میں بدتمیزی متعارف کروائی۔پی آئی اے یونین کے صدر ہدایت اللہ نے کہا پی آئی اے سے چار پانچ ہزار لوگوں کو نکالا جارہا ہے اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود پی آئی اے میں لوگ ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ایک سے پانچ گریڈ کے لوگوں کو رکھا اور ہر دور میں مزدوروں کی بات کی۔

پیپلز پارٹی

مزید :

صفحہ آخر -