حکومت تشدد او رزیر حراست اموات کے خاتمے کیلئے پرعزم: شیریں مزاری

حکومت تشدد او رزیر حراست اموات کے خاتمے کیلئے پرعزم: شیریں مزاری

  

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری نے شہریوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے ریاست پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ " موجودہ حکومت تشدد کے غیر انسانی عمل کو مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے"۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمیں اس جرم کے خلاف مزید سخت قدام کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور موجودہ حکومت اس حوالے سے قانون سازی کو مزید موثر بنانے کیلئے سرگرم ہے – ان خیالات کا اظہار انہوں نے "تشدد کا شکار افراد سے یکجہتی کے عالمی دن " کی مناسبت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ یہ دن پوری دنیا میں ہر سال26 جون کو منایا جاتا ہے۔ شیری مزاری نے کہا کہ مجرمانہ تشدد ایسا گھناؤنا فعل ہے جو ہمارے آئین کے ساتھ ساتھ ہمارے بین الاقوامی وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ تشدد کیخلاف یہ عالمی دن ہمیں غیر انسانی برتاؤ کیخلاف اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCAT) کے تحت کئے گئے عزم کی یاد دلاتا ہے اور اس کی روشنی میں تشدد کی ہر قسم کے خاتمے کیلئے بلا امتیاز اقدامات کرنے کا پابند بناتا ہے۔ یہ کنونشن دیگر ظالمانہ اقدامات، غیر انسانی و غیر اخلاقی سلوک، سزاؤں اور لوگوں کے شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (ICCR) کی بھی توثیق کرتا ہے۔پاکستان ان تمام بین الاقوامی معاہدوں کا پاسدار ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 14 (2) میں یہ کہا گیا ہے کہ "کسی بھی شخص کو ثبوت حاصل کرنے کی آڑ میں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔" جبکہ آئین کی شق 10 شہریوں کو صوابدیدی گرفتاری اور نظربندی کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کی وفاقی سکریٹری رابعہ جویری آغا نے بھی افراد کے حقوق، خاص طور پر زیادتی کا شکار پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کیلئے حکومت کے عہد کو دہرایا ہےَ۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ قوانین اور اپنے کرمنل جسٹس سسٹم کی خامیوں کوپہچانتے ہیں اور ان پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہیں۔

شیری مزاری

مزید :

صفحہ آخر -