جعلی لائسنس والے 262پائلٹس تمام ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے جہاز اڑا رہے ہیں: پی آئی اے

  جعلی لائسنس والے 262پائلٹس تمام ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے جہاز اڑا رہے ہیں: ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پالپا کے سیکرٹری جنرل کیپٹن عمران ناریجو نے کراچی طیارہ حادثہ رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائلٹ کو ایسے پیش کیا گیا جیسے خود کش بمبار ہو۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عمران ناریجو نے کہا کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 262 پائلٹس کے حوالے سے غلط بیانی کی اگر وزیر ہوا بازی کے پاس اتنے نام ہیں تو سامنے لے آئیں۔انہوں نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ حادثے میں پائلٹ کی غلطی تھی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے رپورٹ بھی درست ہے۔جعلی ڈگریوں اور لائسنسز کے حوالے سے سیکرٹری جنرل پالیا نے کہاکہ اگر ڈگریاں غلط ہیں لائنسنس ٹھیک نہیں ہیں تو صرف پائلٹ نہیں ادارے بھی ذمہ دار ہیں۔دوسری جانب پی آئی اے ترجمان نے طیارہ حادثہ رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے طیارہ حادثہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کو قبول کرتی ہے اور اپنے لئے مشعل راہ سمجھتی ہے۔ جمعرات کو اپنے بیان میں ترجمان نے کہاکہ جعلی لائسنسوں کی نشاندہی پی آئی اے انتظامیہ نے خود نومبر 2018 میں پنجگور حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کی۔پی آئی اے کی ہی ایما پر حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے فورنزک آڈٹ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے اپنی سفارشات مرتب کیں۔ پی آئی اے نے اس عمل کی مسلسل پیروی کی تا کہ رپورٹ جلد ازجلد منظر عام پر آسکے اورفلائٹ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکے۔ پی آئی اے مشتبہ لائسنس والے تمام پائلٹس کو فی الفور گراؤنڈ کر رہی ہے۔ پائلٹس گراؤنڈ ہونے سے آپریشن متاثر تو ہو گا مگر مسافروں کی حفاظت کاروباری مفادات سے مقدم ہے۔ترجمان پی آئی اے نے کہاکہ پی آئی اے فلائٹ ڈیٹا مانیٹرنگ کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے، پی آئی اے اب خود ہی تمام پروازوں کا فلائٹ ڈیٹا مرتب اور تجزیہ کرے گا جس کے نتیجے میں اصلاحی اقدامات لئے جائیں گے۔ فلائٹ ڈیٹا کی مانیٹرنگ ایک سینئر ترین پائلٹ کریں گے جو کسی بھی ایسوی ایشن سے منسلک نہیں ہوں گے۔پی ائی اے اس بات کی وضاحت کرتی ہے کی جعلی لائسنس صرف پی آئی اے کا ہی نہیں تمام ایئرلائنز کا مسئلہ بن گیا ہے، 262 پائلٹس جن کی نشاندہی کی گئی وہ پی آئی اے کے علاوہ دیگر ملکی و غیر ملکی فضائی کمپنیوں میں جہاز اڑا رہے ہیں۔

پی آئی اے

مزید :

صفحہ آخر -