پی آئی اے طیارہ حادثہ،تحقیقاتی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سندھ ہائیکورٹ برہم

  پی آئی اے طیارہ حادثہ،تحقیقاتی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سندھ ہائیکورٹ برہم

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہو کر جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔سندھ ہائیکورٹ میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کوئی پیش ہوا اور نہ تحریری جواب جمع کرایا۔جونیئر وکیل نے بتایا کہ پی آئی اے کے وکیل جواد سروانہ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ جسٹس عمر سیال بولے کیا جواد سروانہ تحقیقاتی رپورٹ بغل میں لے کر بیٹھے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ حکم دیا گیا تھا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے تو کیوں نہیں کی گئی؟ عدالتی معاون عبدالحسیب جمالی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر ہوا بازی نے حادثے کا سارا ملبہ پائلٹ پر ڈال دیا، ٹیسٹنگ کے سارے مراحل پورے ہونے کے بعد ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی پائلٹس کو لائسنس جاری کرتی ہے۔عدالتی معاون نے کہا کہپائلٹس سول ایوی ایشن اتھارٹی کی اجازت کے بعد تھائی لینڈ اور دیگر ممالک ٹریننگ پر جاتے ہیں۔ اس وقت سول ایوی ایشن کو پائلٹس کی جعل سازی کیوں نظر نہیں آتی؟عبدالحسیب جمالی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا چار سال پہلے تباہ ہونے والے اے ٹی آر طیارہ حادثے کی رپورٹ آج تک عدالت میں جمع نہیں کرائی گئی۔ پی آئی اے طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے اقبال کاظمی نے درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

سندھ ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -