ایم کیوایم پاکستان نے سندھ کے صوبائی بجٹ کو مسترد کردیا، ارکان کا واک آؤٹ

        ایم کیوایم پاکستان نے سندھ کے صوبائی بجٹ کو مسترد کردیا، ارکان کا واک ...

  

کراچی(سٹاف رپوٹر)سندھ اسمبلی کی کارروائی کے دوران جمعرات کوایم کیوایم پاکستان نے سندھ کے صوبائی بجٹ کو مسترد کردیا اور اس کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آو ٹ کرگئے،متحدہ کے پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل نے بجٹ پر عام بحث کے دوران اس بات پر کڑی تنقید کی کہ بجٹ میں صوبے کے شہری علاقوں کو مکمل طورپرنظر انداز کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو گزشتہ بجٹ کا کچھ علم نہیں ہے،خزانہ کہاں خرچ ہوا ہے؟جو تکلیف ہے اسی کا ذکر کریں گے۔کراچی کے لیے کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔کراچی کے لیے 2016 کی اسکیموں کو 2017 میں ختم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 36 اسکیموں کو رکھا گیا اگلے سال ان کو بھی ختم کردیا گیا۔مختلف محکموں کی کراچی کی اسکیموں کو ختم کردیا گیا۔کراچی میں ہر شخص پانی کی بنیادی ضرورت سے پریشان ہے جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی ہے پانی کی کمی بڑھ رہی ہے۔پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں آج بھی ہم۔کہہ رہے ہیں کہ پانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی لسانی تفریق بڑھتی ہے تو پیپلز پارٹی کے دور میں بڑھتی ہے۔پیپلز پارٹی کے دور میں پکا قلعہ آپریشن اور دیگر آپریشن ہوئے۔ کنور نوید نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں بھی ہم یہی گنوا رہے تھے اب بھی یہی گنوا رہے ہیں۔ایوان کی کارروائی سے واک آٹ کے بعد بعد ایم کیوایم پاکستان کے ارکان احتاجی ریلی کی شکل میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر آئے اور انہوں نے مرکزی سیڑھیوں کے سامنے آکر احتجاج کیا انہوں نے مختلف بینر بھی اٹھارکھے تھے جن پر نعرے درج تھے "کراچی کو پانی دو " اور"نہیں چلے گی غنڈی گردی نہیں چلے گی"۔ متحدہ کے ارکاجب وہ ایوان سے واک آٹ کررہے تھے تو ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ لوگ وزیر اطلاعات ناصر شاہ کی تقریر تو سنتے جائیں جس پر کنور نوید جمیل نے کہا کہ یہ بجٹ آپ لوگوں کو مبارک، ہم یہاں سے چلے۔بعدازاں وہ شید گرمی میں اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا بھی دیکر بیٹھے رہے۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کنور نوید جمیل نے کہا کہ کراچی کے تاجر اور محنت کش پاکستان کا معاشی وزن اٹھائے ہوئے ہیں مگر ان کی پریشانیوں کا مدوا کرنے والا کوئی نہیں وہ وفاق اور صوبے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں مگر انہیں کچھ نہیں ملتا۔کنور نوید نے کہا کہ سندھ کے بجٹ میں کراچی کے کاروباری طبقے مزدوروں کے لئے کوئی ریلیف نہیں رکھا گیا۔

مزید :

صفحہ آخر -