سندھ اسمبلی میں پانچویں روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جا ری رہی

    سندھ اسمبلی میں پانچویں روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جا ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں جمعرات کو پانچویں روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی۔ جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا۔وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں کوسندھ حکومت اس لئے بری لگتی ہے کیونکہ ہم اپنا حق مانگتے ہیں۔یہ توماہروں کی حکومت ہے کرپشن بھی نہیں کرہے ہیں پھربھی ملک ڈوب رہا ہے۔یہ اپنی کارکردگی دیکھیں اداروں کی رپورٹ دیکھیں ہمیں ان کو کالک مرنے کی ضرورت نہیں،انہوں نے ایک سال میں تین بجٹ پیش کی۔ہمیں وفاق این ایف سی سے پیسے کم دیتا ہے۔ان کی نحوست سے ترقیاتی کام نہیں ہوپاتے۔اللہ کاشکرہے جب کورونا آیا ہم نے لیڈ کیا ان کے اپنے بیوروکریٹ کہتے ہیں سندھ حکومت فیصلے کرے ہم عمل کریں گے۔نویں دسویں گیارہویں بارہویں کوپروموٹ کرنے کافیصلہ ہم نے کیا۔کیمبرج کے لئے بھی ہم نے پالیسی بنائی مسائل بہت ہوئے ہیں پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وفاق نے ایک دھیلے کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا اس کی تعریف ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا سے بڑی کورونا معیشت کی تباہی ہے۔پی ٹی آئی نے معیشت کو تباہ کیا،کورونا سے زیادہ ملک کوپی ٹی آئی نے نقصان دیا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم نے وبا کے دوران بھی بہترین کام کیا اورتمام صوبوں کو تعلیم میں محکمہ تعلیم سندھ نے راہ دیکھائی۔ انہوں نے ہا کہ سندھ بھر میں اسکولوں کی پرانی بلڈنگز کو دوبارہ بنا رہے ہیں۔ دو ماہ کی اسکولوں کی فیسں کم کیں لیکن ہم کام کر رہے ہیں کہ والدین کو مزید ریلیف ملے۔ ہم نے 216 نئے لیبر قوانین بنائے ہیں۔ سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں کسانوں کی یونین ہے۔ تجاویز ہے کہ رکشہ ڈارئیور۔ ریڑھی بان۔ سمیت ہر مزدور کو سوشل سیکورٹی کارڈ دئیے جائیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ سندھ کے اضلاع میں اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی زمہ دار وفاقی حکومت ہے۔گرمی شدید ہے اور لوڈشیڈنگ بڑھادی گئی ہے،کے الیکٹرک کو فرنس آئل نہیں مل رہا۔انہوں نے کہا کہ دوسو یونٹ والے بجلی کیبل معاف ہونا چائیں،مساجد مدارس مندر چرچ کے بجلی گیس کیبل بھی معاف کئے جائیں۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ آئین کی سنگین خلاف ورزی کی جارہی ہے اوروفاقی حکومت محکمہ محنت کے اداروں پر ناگ بن کر بیٹھ گئی ہے،صوبوں کو وفاق نہیں پالتا،صوبے وفاق کو پالتے ہیں۔صوبوں کے پیسے پر وفاق پلتاہے،کمزور صوبے کمزور وفاق کی علامت ہیں اس ملک کی بنیاد کو مت کھوکھلا نہ کریں۔یہ اٹھارویں ترمیم کو تبدیل کرکے دیکھیں خیبرپختونخواہ کے لوگ ان کو نہیں چھوڑینگے۔ہم آئی جی بدلنا چاہیں تو کئی ماہ تک مشاورت ہوتی ہے۔پنجاب کا چیف سیکریٹری رات کو ڈیڑھ بجے تبدیل ہوتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی بات کی تھی۔اسد عمر کہتے تھیکہ اسٹیل مل ملازمین کیساتھ کھڑا ہوں گامیں اب اسدعمر کو ڈھونڈ رہاہوں۔وزیر محنت سندھ نے کہا کہ انکے عالمی جغادریوں کو اسٹیل مل کی زمین ہضم کرنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ سندھ کے رہائشی نہیں مگر ڈومیسائل یہاں کا بناتے ہیں وہ صرف اس صوبے کے لوگوں کا حق کھانے کے لیے بناتے ہیں۔وزیر اعلی نے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پچاس سالوں کی تحقیقات کی جائے۔ سعید غنے نے کہا کہ آج یہاں حسنین مرزا نے بڑی باتیں کیں اورذوالفقار مرزا نے بھی کسی وقت بڑی قسمیں کھائی تھیں اور قرآن اٹھائے مگر آج وہ انہی لوگوں کے ساتھ وہ بیٹھے ہیں۔مرزا کہتے تھے تن پر کپڑے زرداری کے ہیں اب ان کا ظرف ہے جو کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں بارہ سال سے پی پی کی حکومت ہے2008 سے ہمارے نمبر بڑھ رہے ہیں اوران کے سکڑتے جارہے ہیں۔اللہ کرے گا 2023 اور 2025 میں بھی ہماری حکومت ہوگی اور کہتے رہیں گے کہ اتنے سال سے ان کی حکومت ہے۔سعید غنی نے اپنی تقریر کے دوراان چنیسر گوٹھ کی اسکول کی تصاویر لہرا دیں بولے یہ 2008 میں ہماری حکومت نے بنایاہے۔صوبائی وزیر ناصر شاہ کا بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوستوں نے بجٹ کو پڑھا ہی نہیں،ہمارے لئے کراچی بہت اہم ہے۔کراچی کی اسکیمیں سو ارب سے زائد کی ہیں،کچھ رواں مالی سال میں مکمل کی جائین گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کا ضرور ایشو ہے۔یہ زیادہ آبادی والا شہر ہے۔سو ملین گیلن اور پینسٹھ ملین گیلن پانی کے منصوبے چل رہے ہیں۔ہماری ذمہ داری ہے کہ پانی کی قلت کو دور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کے فور پر بہت باتیں کی جاتی ہیں۔اس حوالے سے وزیراعلی نے کوئی غلط بات نہیں کی تھی،کے فور کو ایف ڈبلیو او دیکھ رہا ہے وہ ایک اچھا دارہ ہے۔ وزیر بلدیات سندھ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر ڈی سیلینیشن پلانٹ پر کام کرینگے۔کراچی کی بڑی اسکیم ملیر ایکسپریس وے، کورنگی لنک روڈ اور آئی سی آئی انٹر چینج پ ل سمیت دیگر بجٹ میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری حکومت کے دور میں کیماڑی اور ملیر کو پانی نہیں ملالیکن ہمارے دور میں سب برابر ہیں۔لیاقت آباد کی بات کی گئی وہاں کی اسکیم بھی دکھا دونگا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر لسانیت کا الزام لگایا گیا جبکہ ایم کیوایم تو بنی ہی اسی کام کے لئے تھی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے بارے میں کہا گیا کچھ نہیں رکھا گیا حا لانکہ پیپلز اربن فاریسٹ کا منصوبہ ہمارا جاری ہے۔یہ پاکستان کا سب سے بڑا اربن فاریسٹ کا منصوبہ ہے۔جب یہ مکمل ہوجائیگا تو یہ دنیا کا سب سے بڑا اربن فاریسٹ کا منصوبہ ہوگا۔اس منصوبے کو سراہا گیا ہے۔خراب حالات کے باوجود اچھا متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے۔سندھ کے وزیر ثقافت سندھ سردار شاہ نے اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بجٹ تقریر کی۔انہوں نے کہا کہ 2018ء کے بعد ملک میں گدھوں کی آبادی میں اضافہ ہواہے،گدھا دوسرے کا کہامانتا ہے خود کی عقل ہوتی نہیں ہے مشکل حالات میں حکمران اسٹیٹسمین کا مظاہرہ کرتے ہیں۔انسان ہوگا تو معیشت چلے گی۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے جنتی اموات ہوئیں انکو قتل سمجھتاہوں اورمیں اس قتل کاذمہ دار وزیراعظم کوقراردوں گا۔سردار شاہ نے کہا کہ ہم سے شجرے نہ پوچھو،ہم نے اگر آپکے شجربتانے شروع کیے تو بھونچال آجائے گا۔ہمیں پتہ ہے کہ کن لیڈران کے بچوں کو باپ کا تشخص نہیں ملا۔بلاول بھٹو اس دھرتی کا بیٹا ہے۔کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے۔کراچی 1947سے پہلے بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کراچی کے حقوق کے نام پر اپنا ووٹ بینک محفوظ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے قائد ملت مادر ملت ہوتے تھے۔اب ملک میں قائد قلت ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں محکمہ ثقافت وسیاحت میں ریکارڈ کام ہوا۔اگر گزشتہ بیس سال میں اتنا کام ثقافت وسیاحت میں ہوا ہے تو بتادیں۔صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے اس بات پرکڑی تنقید کی کہ کبھی سندھ میں ایمرجنسی اور کبھی گورنرراج کا شوشہ چھوڑا جاتاہے،آئین کے رکھوالوں اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔انہوں نے اپوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہیہ جن کیاشارے پر آئے ہیں سندھ سے انہوں نے جنگ لڑی ہے۔اسماعیل راہو نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا آئین الہامی یا آسمانی صحیفہ ہے۔18ویں ترمیم میں چھوٹے صوبوں کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوئے اس ترمیم کے خلاف جو لوگ ہیں وہ پاکستان کے دوست نہیں دشمن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے محکمہ زراعت نے گاڑیاں خریدیں۔سندھ میں صرف 46ہزار ایکڑ پر وفاقی ادارے نے ٹڈی دل پر اسپرے کیا،صحرائی علاقوں میں وفاقی حکومت نے اسپرے نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ صحرائی علاقوں اور زیر کاشت ایریا میں محکمہ زراعت سندھ نے چھ لاکھ ایکڑ پر اسپرے کیا۔وفاقی حکومت نے اسپرے کے لئے جو جہاز دیا ہے وہ13دن سے جہاز کراچی میں خراب کھڑا ہے۔وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ چھ جہاز دے۔اگر اسپرے نہ کیا گیا تو تباہی پھیل جائے گی۔صوبائی وزیر تیمور تالپور نے کہا کہ جن حالات میں سندھ حکومت نے بجٹ پیش کیا ہے۔میں سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ہم نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کنٹریکٹ کیا ہے۔ہم گرجا گھروں اور مندر میں بھی کیمرہ لگانے منظوری دی ہے۔جب یہ نزلہ زکام کی بات کرتے تھے تو وزیر اعلی صرف اس پر کام کررہے تھے۔آج صوبے سندھ سب سے،یادہ ٹیسٹنگ کررہا ہے۔یہ کہتے ہیں کہ صوبے میں گورنر راج لگائیں گے،سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس پارلیمنٹ میں اتنی اکثریت ہے کہ یہ کام کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ قیامت کی نشانی ہے کہ سب سے بڑا لینڈ گریبر ہم پر تنقید کرتا ہے۔جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر حسنین مرزا نے کہا کہ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ سندھ نے این آئی سی وی ڈی میں لیڈ کی ہے۔ مگر یہ سہولت تمام صوبوں میں کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر کا مشن تھا کے پبلک اکاو نٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہوگا مگر آج تک عمل نہیں ہورہا۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں جب سندھ کی بیٹی نصرت سحر عباسی بولتی ہے تو اسے عجیب جملے کسے جاتے ہیں۔جی ڈی اے ہمیشہ قانون کے حکمرانی کی بات کرتی ہے۔اس بجٹ میں صرف بدین کے لیے دو اپ گریڈیشن کے پروجیکٹ رکھے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اٹھارہویں ترمیم میں اختیارات کی نیچے منتقلی کرنی تھی۔ مگر کیا ایسا ہوا۔جمہوریت کی بات کی جا رہی ہے۔ مگر اپوزیشن کو برداشت نہیں کرتے۔بدین میں وینٹی لیٹر موجود ہیں مگر اسٹاف نہیں،سات سال گزرنے کے باوجود سندھ یونیورسٹی کا بدین کیمپس میں مکمل نہ ہوسکا۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ میرا حلقہ کھنڈرات کا نمونہ پیش کررہا ہے۔سندھ حکومت مجھ سے دشمنی ضرور کرے مگر میرے حلقے کے عوام کا کیا قصور ہے۔سبزی منڈی میں اربوں روہے کی کرپشن ہورہی ہے۔اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں انصاف ہاوس کیسامنے پتلا جلایاگیا،کیا ہم بھی بلاول ہاوس کے سامنے پتلے لٹکادیں۔لاڑکانہ میں عمران خان ٹھیکیدار کے گھر گئے گینگ وار کے گھرتو نہیں گئے۔انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ میں لکھنے سے کوئی بھٹو نہیں ہوتا۔بھٹو وہ ہوگا جسکے باپ دادا بھٹو ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے ٹیکس کم جمع کیا تو صوبائی حکومت نے بھی 80ارب کا ڈاکہ ڈالا۔سندھ میں کرپشن اور لوٹ مار اپنے عروج پر ہے۔کراچی پورے ملک کو پالتاہے لیکن سندھ حکومت کراچی کو اس کا حق دینے کو تیار نہیں ہے اسی زیادتی کی وجہ سے لیاری کے عوام نے انہیں اٹھاکر باہر پھینک دیا اور وہاں شکور شاد جیت گیا۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بھٹو کا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ میرے کپتان عمران خان نے پورا کیا ہے اورسندھ والوں کو کپتان نے 60ارب روپے دئیے۔ حلیم عادل شیخنے اپنیء تقریر کے اختتام پر یہ دعا کرائی کہ جس نے سندھ کو لوٹا ہے وہ تباہ و برباد ہوجائے ان کی اس دعا کے وقت پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دعامیں شامل ہوگئے۔

مزید :

صفحہ آخر -