میرا حلقہ کراچی میں ہے، دشمنی مجھ سے کی جائے عوام سے کرنا درست نہیں ہے: حلیم عادل شیخ

میرا حلقہ کراچی میں ہے، دشمنی مجھ سے کی جائے عوام سے کرنا درست نہیں ہے: حلیم ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)پی ٹی آئی مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ میرا حلقہ کراچی میں ہے، جس کے باعث اسے کھنڈرات بنا دیا گیا ہے، دشمنی مجھ سے کی جائے حلقے کی عوام سے کرنا درست طریقہ نہیں ہے، میری آواز بند کرانے کے لئے میرے رشتہ داروں کو تنگ کیا جاتا ہے، سبزی منڈی میں کرپشن کی جارہی ہے صفائی تک نہیں ہوتی ہے،لاڑکانہ بلاول کا حلقہ ہے اس لئے وزیر اعظم کی آمد پر پتلا جلوایا گیا، بلاول ہاؤس پی ٹی آئی کا حلقہ ہے کیا ہم ان کے خلاف کوئی جال بچھا دیں نہیں ایسی تربیت ہم نے نہیں لی ہے۔ لاڑکانہ میں پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو سے دشمنی کی جارہی ہے۔ شناختی کارڈ میں بھٹو لکھوانے سے کوئی بھٹو نہیں ہوتا بھٹو وہ ہوتا ہے جس کا باپ اور دادا بھی بھٹو ہو۔اگر اصل میں بھٹو ہوتے تو عمران خان پر حملہ نہ کرواتے۔ کہا گیا سندھ پر 239 ارب کا ڈاکا ڈالا گیا۔ سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا یہ زبان سیاسی زبان نہیں ہے۔ریکوری کم ہوئی تو سندھ کو اس کا حصہ کم ملا۔ پنجاب کو 475 ارب کم ملے کیا وہاں ڈاکا لگ گیا۔بلوچستان 144 بلین کم شیئر ملا کیا وہاں بھی ڈاکا ڈالا گیا۔ سندھ کو 239 ارب کم ملے تو ڈاکا کہاں کا؟َ آپ نے بھی 288 ارب ٹیکس جمع کرنا تھا 208 ارب ٹیکس جمع کیا80 ارب کم ٹیکس جمع کیا گیا کیا سندھ حکومت نے یہ ڈاکا ڈالا۔کرونا آنے سے پہلے 35 فیصد زیادہ رقم سندھ کو مل چکی تھی۔ 13 سالوں میں سندھ کی حقوق پر پیپلزپارٹی نے ڈاکے ڈالے ہیں۔کراچی پورے ملک کو پالتا ہے سندھ کا تاج ہے کراچی لیکن سندھ حکومت نے کراچی کو کچرہ کنڈی بنا دیا کراچی کو کوئی فنڈ نہیں دیا گیا کیوں کہ پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں ملے۔ لیاری سے شکور شاد نے پیپلزپارٹی کو اٹھا کر پھینک دیا سے پیپلزپارٹی نے ترقیاتی کام نہیں کروائے وہاں۔ ابھی مون سون کا سیزن آنے والا ہے اس بار بارشیں زیادہ ہونے کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔ پھر بلاول کہیں گے بارش زیادہ آتا ہے تو پانی زیادہ آتا ہے۔گھروں میں پانی جمع ہوجاتا ہے لیکن سندھ حکومت نے کچھ نہیں کرنا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا وفاقی حکومت نے 1500 ارب قرضے واپس کیے ہیں وفاقی حکومت نے 2700 ارب قرضے واپس کرنے ہیں اس کے باوجود ملک میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔حلیم عادل شیخ نے مزید کہا 60 ارب کے ترقیاتی بجٹ کم کئے گئے ہیں 100 ارب کے نان ڈیولپمنٹ بجیٹ کو بڑھایا گیا ہے یہ پئسا کرپشن کے لئیے رکھا گیا ہے۔ پونے چار ارب کی گاڑیاں ڈی سی اور ای سی کے لئے خریدی گئی جائیں گے۔ دوائیاں ویکسین نہیں خریدیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -